تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تاریخ میں گندھے پاکستان-سعودی تعلقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 جمادی الثانی 1440هـ - 13 فروری 2019م KSA 08:26 - GMT 05:26
تاریخ میں گندھے پاکستان-سعودی تعلقات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 16 فروری سے پاکستان کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔ ان کے دورے کے حوالے سے تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں. ولی عہد کا یہ دورہ پاک-سعودی تعلقات میں ایک نئی جہت، نیا رخ اور نیا باب ثابت ہو گا. پاک سعودی تعلقات دینی اور تاریخی لحاظ سے انتہائی خوبصورت اور مضبوط ہیں. بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاک سعودی تعلقات کی تاریخ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔

قیام پاکستان سے قبل 1946ء میں قائد اعظم نے ایم ایچ اصفہانی کی معیت میں مسلم لیگ کا ایک نمائندہ اقوام متحدہ بھیج دیا اس وفد کے ذمے یہ کام سونپا گیا تھا کہ تحریک پاکستان کے لئے عالمی راہنماؤں کی تائید حاصل کی جائے۔ اقوام متحدہ کا اجلاس شروع ہو چکا تھا تب چونکہ پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے مسلم لیگ کے وفد کو اجلاس میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس وقت سعودی وفد کی قیادت شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز [جو بعد ازاں مملکت کے بادشاہ بنے] کر رہے تھے۔ جب معلوم ہوا تو بنفس نفیس خود باہر نکل کر انھوں نے مسلم لیگ کے وفد سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اپنے ہوٹل میں ایک ظہرانہ رکھا اور عالمی راہنماؤں کو وہاں مدعو کیا اور ان سے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا وفد آپ کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے چنانچہ نیویارک کے ہوٹل میں وفد نے اپنا موقف عالمی راہنماؤں کے سامنے پیش کیا۔

پاکستان معرض وجود میں آیا تو مرحوم شاہ عبدالعزیز آل سعود پہلے راہنما تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹیلیفون کرکے مبارک باد پیش کی تھی. مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو شاہ فیصل اتنے دکھی ہوئے کہ پاکستان کا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے بعد بھی کافی عرصے تک شاہ فیصل نے تسلیم نہیں کیا۔

زلزلے، طوفان، جنگ، ایٹمی دھماکے ہر ضرورت کے وقت سعودی عرب نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا. جواب میں پاکستان نے بھی اسی محبت کا مظاہرہ کیا. سعودی عرب کے دفاع کو جب بھی خطرہ لاحق ہوا پاکستان نے کسی کی پرواہ کیے بغیر کردار ادا کیا. کئی مقامات، سڑکوں اور شہروں کے نام فیصل آباد، فیصل مسجد، شارع شاہ فیصل، فیصل ٹاؤن، فیصل کالونی وغیرہ کنگ فیصل مرحوم کے نام پر رکھ کر ان سے محبت کا ثبوت دیا جبکہ سعودی دارالحکومت ریاض اور جدہ شہر میں "شارع محمد علی جناح " کے نام سے سڑکیں موسوم ہیں۔

سعودی عرب نے بھی خلوص اور قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے والے پاکستانیوں کی خدمات کا ہمیشہ دل کھول کر اعتراف کیا ہے۔ جدہ میں 26 نومبر 2009ء کو آنے والے ہلاکت خیز سیلاب میں پاکستانی مزدور فرمان علی خان نے جب اپنی جان پر کھیل کر چودہ سعودی شہریوں کی جان بچائی تو سعودی عوام اور حکومت نے فرمان کی اس قربانی پر انہیں والہانہ خراج عقیدت پیش کیا۔ سعودی حکومت نے فرمان علی خان کو بعد از شہادت نہ صرف اپنا اعلیٰ سول اعزاز عطاء کیا بلکہ جدہ کی ایک شاہراہ کو بھی فرمان علی خان سے موسوم کر دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ کے نتیجے میں حکومت اور عوام کی سطح پر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان لازوال تعلقات نئے دور میں داخل ہونے کو ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا حالیہ دورہ پاکستان جہاں ماضی کے تعلقات کا تسلسل ہے وہی اس میں مختلف یہ ہے کہ ماضی کی ہماری عاقبت نااندیش حکومتوں نے سعودی عرب سے تجارت پر توجہ نہیں دی۔ اس دورے کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی بار سعودی عرب اور پاکستان مل کر بڑے پیمانے پر تجارت کا آغاز کر رہے ہیں۔

سیاسی لحاظ سے سعودی عرب اس خطے میں چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک مضبوط بلاک بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی طرف سعودی توانائی کے وزیر نے گوادر میں کھڑا ہو کر اشارہ کیا تھا. یہ دورہ دونوں ملکوں کے خوبصورت تعلقات میں ایک نیا سنگ میل اور یادگار ثابت ہو گا۔ ان شاءاللہ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند