تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مذہبی مکالمے سے ماورا ویٹی کن اور جزیرہ نما عرب میں تعلقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 رجب 1440هـ - 20 مارچ 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 جمادی الثانی 1440هـ - 13 فروری 2019م KSA 22:19 - GMT 19:19
مذہبی مکالمے سے ماورا ویٹی کن اور جزیرہ نما عرب میں تعلقات

پاپائے روم پوپ فرانسیس کے زیر سرکردگی اسلام اور عیسائیت کے درمیان بین المذاہب مکالمہ جاری ہے۔بہت سے واقعات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس مکالمے سے کیتھولک چرچ اور مسلم ممالک کے درمیان تعلقات میں دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

پوپ فرانسیس سے قبل رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ جان پال دوم نے 1997ء میں لبنان کا دورہ کیا تھا اور وہاں اپنے مذہبی خطبے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ لبنان اور مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ( مینا) کے خطے میں مسلمان اور عیسائی مشترکہ تقدیر کے مالک ہیں۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ لبنان ابدی پیغام کی سرزمین ہے۔

ان کے بعد پوپ بینی ڈکٹ شانزدہم نے 2012ء میں مشرقِ اوسط میں ایک چرچ میں ایک دعائیہ تقریب سے خطاب کیا تھا اور اس میں عرب مسیحیوں سے کہا تھا کہ انھیں مسلمانوں سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ جنونی گروپوں سے دونوں کمیونٹیوں ہی کو خطرات لاحق ہیں۔

پوپ فرانسیس نے 2017ء میں مصر کا دورہ کیا تھا اور وہ قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر گئے تھے ۔ان کا وہاں خطاب دراصل بعد میں سلسلہ وار بین المذاہب سنجیدہ مکالمے کی پہلی کڑی تھا۔

پاپائے روم دوسرے ممالک میں سربرآوردہ مذہبی اور علمی شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں اور وہ سارا سال دنیا بھر سے آنے والے مختلف مذاہب کے نمایندہ وفود سے بھی ملاقات اور تبادلہ خیال کرتے اور بین الاقوامی امن کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔ ویٹی کن کے مذہبی پیشواؤں کی کونسل برائے بین المذاہب مکالمہ ( پی سی آئی ڈی) نے بھی دنیا کے دو بڑے مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس ضمن میں اپنی فعالیت ثابت کی ہے۔

فروری 2017ء میں جامعہ الازہر ، قاہرہ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس کا موضو ع ’’ جنونیت ، انتہا پسندی اور تشدد کے خاتمے میں جامعہ الازہر الشریف اور ویٹی کن کا کردار‘‘ تھا۔

پی سی آئی ڈی کے مشن کی کامیابی کا مظہر مرحوم کارڈینل ژاں لوئی توراں کی قیادت میں ویٹی کن کے وفد کا اپریل 2018ء میں سعودی عرب کا دورہ تھا۔اسلام کی مادرِوطن میں ویٹی کن کے ایک سینیر رہ نما کی آمد دونوں مذاہب کے درمیان ایک پُل کی حیثیت کی حامل تھی۔انھوں نے یہ دورہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نئی خارجہ پالیسی کے آغاز کے موقع پر کیا تھا۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تمام پے درپے واقعات یہ ظاہر کرتے تھے کہ پوپ فرانسیس جزیرہ نما عرب کا دورہ کریں گے۔ ان کے متحدہ عرب امارات کے پہلے تاریخی دورے کے مختلف پہلو ہیں۔اس کا انسانی پہلو بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اس کا عملی ثبوت ’’ دنیا میں امن اور مل جل کر رہنے کے لیے انسانی برادری‘‘ کے نام سے دستاویز ہے۔ اس پر شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب اور اور پوپ فرانسیس نے 4 فروری کو دستخط کیے تھے ۔اس کو انسانی حقوق کے بارے میں نیا بین الاقوامی ا علامیہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

اس دستاویز کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں انسانی حقوق کے تمام پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے اور دہشت گردی ، انتہا پسند ی اور جنونیت کے بارے میں اسلام اور کیتھولک چرچ کا مشترکہ نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے ۔اس میں تمام افراد کے لیے مکمل شہریت پر زور دیا گیا ہے اور اقلیتوں کی امتیاز ی اصطلاح کے استعمال کو مسترد کیا گیا ہے کیونکہ اس سے تنہائی اور کمتری کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔

اس دورے کی دوسری اہمیت اس کا ایک پُرامن پہلو ہے۔پوپ کے دورے سے تنازعات کا شکار خطے میں امن کا پیغام بھی آیا ہے۔پوپ نے متحدہ عرب امارات سے واضح الفاظ میں کہا کہ یمن ، شام ، عراق اور لیبیا میں جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔اس پیغام کو مشرق کی کوئی اور بیرونی شخصیت نہیں لاسکتی تھی۔

تیسرا پیغام عرب دنیا اور مغرب کے درمیان ایک حقیقی مکالمے سے متعلق تھا۔انھوں نے کھلے نقطہ نظر کی حامل ایک ریاست سے یہ پیغام دیا تھا جہاں بہت سی ثقافتیں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ پائی جاتی ہیں اور غیرملکی تارکینِ وطن متحدہ عرب امارات کی کل آبادی کا 85 فی صد سے زیادہ ہیں۔پاپائے روم نے اپنا حتمی پیغام ابو ظبی میں منعقدہ بین المذاہب اجتماع کے موقع پر دیا تھا۔اس اجتماع میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں مذہبی شخصیات شریک تھیں ا ور پیغام یہ تھا کہ ’’ مذہب کے نام پر تشدد کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔

بین المذاہب مکالمے کا اگلا دور توقع ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں آیندہ موسم بہار میں ہوگا۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل شیخ محمد العیسیٰ اس کانفرنس کے مؤیدین میں سے ایک ہیں۔دریں اثناء پوپ فرانسیس مارچ کے آخر میں مراکش کا بھی ایک مذہبی سفر کرنے والے ہیں۔

پاپائے روم کی ایک تو مذہبی حیثیت ہے ۔ وہ ہیگ میں 1899ء میں مستقل بین الاقوامی مصالحتی عدالت کے قیام سے قبل بین الاقوامی قانون کی تاریخ میں ایک مصالحت کار کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔مثال کے طور پر پاپائے روم بونی فیس ہشتم نے برطانیہ کے شاہ ایڈورڈ اوّل اور فرانس کے شاہ فلپ کے درمیان 1298ء میں ثالثی کرائی تھی۔پاپائے روم کی ثالثی کا مقصد تنازعات میں الجھے ہوئے ممالک کے درمیان پُرامن تصفیہ ہوتا تھا ۔پوپ نے ارجنٹینا اور چلی کے درمیان 1980ء میں بیگل کے تنازع میں بھی مصالحانہ کردار ادا کیا تھا اور امریکا اور کیوبا کو 2014ء اور 2015ء میں ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی ثالثی کی کوششیں کی تھی۔پوپ کی حیثیت سے ان دنوں رونما ہونے والے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

بین المذاہب مکالمے سے ماورا ویٹی کن اور خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات اور پھر جزیرہ نما عرب کے ساتھ تعلقات کو سیاسی جہت دی جاسکتی ہے تاکہ عرب دنیا میں دیرپا امن قائم کیا جاسکے۔ ویٹی کن اور ریاستوں کے درمیان باہمی تعلق داری سے پوپ کے سفارتی کردار کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور اس سے عرب دنیا میں دہشت گردی کی دیوار کو مسمار کیا جاسکتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح پوپ جان پال دوم نے ’’ کمیونزم کی دیوار‘‘ کو گرا دیا تھا اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔
______________________________________
ڈاکٹر انطونیوس فاروق ابو کسم جامعہ لبنان بیروت میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہیں اور لبنانی فوج کے فواد شہاب کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں بھی پڑھاتے ہیں ۔ وہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں وکالت کرتے ہیں اور بین الاقوامی مقدمات میں پیش ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر انطونیوس آئی سی سی بی اے میں پروفیشنل اسٹینڈرڈ ز ایڈوائزری کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند