تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک سعودی تعلقات … سنہری دور کا آغاز!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 8 جمادی الثانی 1440هـ - 14 فروری 2019م KSA 10:10 - GMT 07:10
پاک سعودی تعلقات … سنہری دور کا آغاز!

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 16 فروری بروز ہفتہ پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وزیراعظم عمران خان کابینہ کے ہمراہ ان کا استقبال کریں گے۔ سعودی ولی عہد کا یہ دورہ اس وقت ہونے جا رہا ہے جب پاکستان معاشی حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ محمد بن سلمان کے موجودہ دورے کے دوران بھی 20 ارب ڈالر کے مختلف معاہدے طے پانے کا امکان ہے۔

خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ سعودی عرب نے دیامر بھاشا، مہمند ڈیم منصوبوں کے لئے بھی فنڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 37 کروڑ 50 لاکھ سعودی ریال فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مہمند ڈیم کیلئے 30 کروڑ، شونتر منصوبے کیلئے 24 کروڑ 75 لاکھ ریال ملیں گے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20 کروڑ 75 لاکھ ریال کے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوں گے۔ سعودی عرب کی جانب سے جامشورو پاور پراجیکٹ کیلئے 15 کروڑ 37 لاکھ ریال جبکہ جاگران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال فراہم کیے جائیں گے۔

مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں سلطنت آف اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج عرب اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ حرمین شریفین کی سر زمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔ سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات، اومان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے اس لئے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے۔ سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19لاکھ 60 ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔

مملکت کا جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اورایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جا ملتی ہے جس کے بعد سطح مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی عسیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اورخوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے۔ خلیج عرب کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتلا ہے۔ معروف علاقہ ’’ربع الخالی‘‘ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس عظیم مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی ونیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اورصرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے دوطرفہ تعلقات چلتے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1951ء میں دوستی کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس کے بعد سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ دورہ بھی انہیں تاریخی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی ایک کڑی ہے۔

دنیا میں سعودی عرب واحد ایسا ملک ہے جہاں 85 لاکھ سمندر پار تارکین وطن میں سے 22 لاکھ سے زیادہ پاکستانی موجود ہیں جو کسی بھی ملک میں اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ سعودی عرب میں موجود یہی پاکستانی سب سے زیادہ زرِمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔

حالیہ دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کے ساتھ گوادر میں بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کا سعودی منصوبہ دونوں ممالک کے بہترین تعلقات کا عکاس ہے ۔ گو کہ موجودہ حالات میں دوطرفہ معاشی اور اقتصادی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے سیاسی تعلقات کے حجم کی نسبت بہت کم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی برآمدات کا حجم اس کی کُل برآمدات کا صرف 1.77فیصد ہے۔ ان برآمدات کا زیادہ تر حصہ ٹیکسٹائل اور غذائی مصنوعات پر مبنی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی سعودی عرب سے درآمدات زیادہ تر تیل اور اس سے منسلک مصنوعات پر مشتمل ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برآمدات ودرآمدات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جو اس حوالے سے انتہائی خوش آئند بات ہے کہ آنے والے وقتوں میں دونوں کے درمیان اقتصادیات، معاشیات اور تجارت سے متعلق تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا جس سے دونوں ممالک میں استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ 2003-04ء میں پاکستان کی برآمدات 348 ملین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 1778 ملین امریکی ڈالر تھیں۔ اس شرح میں ہر گزرتے سال اضافہ ہوتا رہا اور 2013-14ء میں 4287.7 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم 2014-15ء میں ایکسپورٹس 4196.2 ملین امریکی ڈالر جبکہ امپورٹس 3313.1 ملین امریکی ڈالر تک آ گئیں تاہم دونوں ممالک تجارتی تعلقات میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دیکھی جانے والی بہتری کو ذہن میں رکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں ہے، یہ دوطرفہ تجارتی واقتصادی تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید پھلیں پھولیں گے۔

پاکستان میں کچھ عمارتیں اور مقامات بھی ایسے ہیں جو دونوں ممالک کی دوستی، دوطرفہ تعلقات اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان میں ایک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ہے جو سعودی عرب سے ملنے والی 10ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ سے قائم کی گئی تھی۔ اسلام آباد میں فیصل مسجد بھی دوطرفہ تعلقات اور باہمی دوستی کا تاقیامت رہنے والا مظہر ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر فیصل آباد بھی ہے جس کا نام لائل پور سے بدل کر سعودی شاہ فیصل کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ لاہور اور رحیم یار خان میں واقع شیخ زاید ہسپتال بھی سعودی دوستی کا بہترین مظہر ہے۔

پاکستانی کمپنیاں بھی سعودی عرب میں ہونے والے تجارتی میلوں اور نمائشوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں، جن سے نہ صرف زرّ مبادلہ کا حصول ممکن ہوتا ہے بلکہ پاکستانی مصنوعات کا تعارف بھی عالمی سطح پر کرانے میں مدد ملتی ہے۔ ایسی نمائشوں اور میلوں میں چند اہم درج ذیل ہیں۔ سعودی بلڈ اینڈ سعودی سٹون ایگزی بیشن، سعودی پرنٹ پیک، پلاسٹک اینڈ پٹرولیم (پی پی پی پی)، پٹرولیم عربیہ کانفرنس اینڈ ایگزی بیشن، سعودی ہیلتھ، فوڈ ایکس، پاکستان ایمبیسی (ریاض) کی جانب سے سالانہ فوڈ فیسٹیول اور سعودی ایگرو فوڈ شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن بھی دوطرفہ معاشی واقتصادی تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ 2007ء میں اس کا ہونے والا اجلاس گذشتہ کئی سالوں سے کمیشن کی تجدید کرنے کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اس کے بعد ستمبر 2012ء کو اس کا 9 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان کی طرف سے اس اجلاس کی صدارت اس وقت کے وزیر کامرس مخدوم امین فہیم نے کی جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیرصنعت وتجارت ڈاکٹر روفیق بن فیضان نے کی۔ یہ سعودی وفد مختلف وزارتوں سے تعلق رکھنے والے نصف درجن وزراء پر مشتمل تھا۔ اس وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے ممتاز کاروباری حضرات اور سرمایہ کار بھی تھے۔ اس مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں دونوں ممالک نے پرائیویٹ سیکٹروں کے درمیان تجارتی تعاون کا دائرہ کار وسیع کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ تجارت میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں دُور کرنے، مارکیٹ میں بہترین سہولیات کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ’’پاک سعودی مشترکہ بزنس کونسل‘‘ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیا کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے کے مزید ذرائع اور مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد 26مارچ 2013ء کو اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ستمبر 2012ء میں ہونے والے مشترکہ وزارتی کمیشن میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد مشترکہ وزارتی کمیشن کا 10واں اجلاس 16اپریل 2014ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض اور 11واں 2015ء میں اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا معاہدہ، فضائی سروس کا معاہدہ، سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) اور ایسوسی ایٹ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے درمیان معاہدہ، ثقافتی معاہدہ، معاشی، اقتصادی اور فنی تعاون کا معاہدہ، سکیورٹی (فوجی) تعاون کا معاہدہ، دوطرفہ سیاسی مشاورت کا معاہدہ، سائنس اور ٹیکنیکل تعاون کا معاہدہ، ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کا معاہدہ، تعلیم اور سائنس کے میدان میں تعاون کا معاہدہ، دوہرے ٹیکس سے بچائو کا معاہدہ، مجرموں کی تحویل کا معاہدہ، ایسے دوطرفہ معاہدے ہیں جو باہمی دوستی کو پختہ سے پختہ بنا رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک نوجوان اور پڑھے لکھے حکمران ہیں جو اپنے ملک کو نئے خطوط پرعہدے حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں، وہ کرپشن کے خلاف بھی کوششیں اور سعودی کو ایک جدید ملک بنانے میں مصروف ہیں، جبکہ ہماری موجودہ قیادت کا وژن بھی محمد بن سلمان کے وژن سے ملتا جلتا ہے یہاں بھی کرپشن سے نجات کے ساتھ ساتھ جدیدیت کی طرف سفر کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس صورتحال میں سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں طے ہونے والے ممکنہ معاہدات دونوں ممالک کے لئے انتہائی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ [بشکریہ روزنامہ نوائے وقت]

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند