تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک جمہوریت ناکامی سے دوچار کیوں ہوئی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 22 جمادی الثانی 1440هـ - 28 فروری 2019م KSA 17:40 - GMT 14:40
ترک جمہوریت ناکامی سے دوچار کیوں ہوئی؟

ایک وقت تھا جب ترکی کو جدید مسلم جمہوریت کا نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ’’آق‘‘ پارٹی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض اصلاحات نافذ کی تھیں جو یورپی یونین کے معیار جمہوریت سے ہم آہنگ تھیں۔ اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے ملک کی تصویر اچھی ہو گئی۔ تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ مذکورہ اصلاحات زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکیں اور اصلاحات کا سفر 2011 کے بعد معلق ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن تیسری مرتبہ ملک کی وزارت عظمیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور ملک نے مکمل طور پر پیچھے کی جانب سفر شروع کر دیا۔

مطلق العنانیت کی سمت اس سفر کا ترکی پر منفی اثر پڑا۔ اس طرح اس نے “مثالی نمونے” کا وہ لباس بھی اتار پھینکا جس کی خواہش خطے کے اکثر اسلامی ممالک کر رہے تھے۔ یقیناً جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جو بڑی حد تک بنیادی اسلامی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جو ایردوآن کے ترکی کی بری مثال کو حجت بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی اقدار اور جمہوری اقدار آپس میں مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ اگرچہ بیرونی دنیا میں رہنے والے افراد واضح طور ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ ایردوآن کا نظام چیخ چیخ کر بنیادی اسلامی اقدار کے مخالف ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ اسلامی اقدار کو مخصوص لباس اور چند متعین علامتوں تک محدود ماڈل کے کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی اقدار اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ان میں قانون کی بالادستی، عدلیہ کی خود مختاری کا احترام، ایگزیکٹیو اتھارٹی کا احتساب اور ہر شہری کے لیے بنیادی حقوق اور آزادی کا تحفظ شامل ہے۔ لہذا ترک جمہوریت کے تجربے کی ناکامی ،،، اسلامی اقدار کی پاسداری کا نتیجہ نہیں بلکہ ان سے انحراف کا شاخسانہ ہے۔

جمہوریت ہی حل ہے

ترک معاشرہ کی 99 فیصد شناخت اسلام  کے حوالے سے ہے تاہم اس کے باوجود وہ نمایاں طور پر منتوع اور عدم مماثلت کا حامل معاشرہ رہے گا۔ ترکی کے شہری متعدد اور مختلف نظریات، فلسفوں اور عقائد کے حامل ہیں جو اپنا تعارف سنیوں، علویوں، ترکوں، کردوں یا دیگر نسلوں سے بطور مسلم یا غیر مسلم اور مذہبی یا سیکولر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کے معاشرے میں ایک مخصوص نظریے کو مسلط کرنا غیر سنجیدہ رجحان بلکہ انسانی عزت نفس پر حملہ ہے۔ ترکی جیسے معاشرے میں شراکتی نظام حکومت موزوں ترین ہے جس میں کسی اکثریتی یا اقلیتی گروپ کو موقع نہیں ملتا کہ وہ دیگر افراد پر کنٹرول حاصل کر لیں۔ شام اور خطے کے بعض دیگر ممالک پر بھی اس نظام کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

پوری تاریخ میں خواہ ترکی ہو یا دیگر ممالک ہر جگہ تحکم پسند قیادت نے اقتدار برقرار رکھنے کی خاطر اپنے معاشرے میں موجود تنوع سے فائدہ اٹھایا اور مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے کے لیے کام کیا۔ معاشرے کے تمام شہریوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے حقوق اور آزادی کو سلب کرنے والوں کے خلاف جمہوری طریقے اور وسائل کو بروئے کار لائیں۔

ظلم کے خلاف ڈٹ جانا جمہوری حق اور تہذیبی فرض ہونے کے علاوہ ہر مسلمان کے حق میں ایک مذہبی فریضہ ہے۔ قرآن کریم مؤمنوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ظلم و زیادتی پر خاموش نہ رہیں۔ اللہ تعالی سورہ النساء آیت 135 میں فرماتا ہے: يأيها الذين آمنوا كونوا قوامين بالقسط شهداء لله ولو على أنفسكم أو الوالدين أو الأقربين.

کسی بھی شخص کو خواہ وہ ایمان رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو جو چیز انسان ہونے کا حق دار بناتی ہے وہ یہ کہ اپنے تصورات اور یقین کے ساتھ زندگی گزارے بشرط یہ کہ دوسروں پر منفی طور اثر انداز نہ ہو۔ وہ اپنی تمام بنیادی آزادی پر عمل پیرا ہو جس میں آزادی اظہار سرفہرست ہے۔ آزادی تو قدرت کی جانب عطا کردہ ایک حق ہے جو رحمن سبحانہ نے انسان کو دیا اور کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس حق کو چھینے۔

اسلام کوئی نظریہ نہیں

سیاسی اسلام پسندوں کے دعوے کے برعکس اسلام ایک نظریہ نہیں بلکہ یہ ایک دین ہے۔ یہ درست ہے کہ اسلام میں حکومت اور حکمرانی سے متعلق بعض بنیادی اصول موجود ہیں مگر یہ کتاب وسنت کے مجموعی امور کا 5 فیصد سے زیادہ نہیں۔ اگر اسلام کو ایک سیاسی نظریے میں محصور کر دیا جائے تو یہ اسلام کی روح کے خلاف کھلا جرم ہو گا۔ جن لوگوں نے بھی اسلام کو سیاست اور ریاست میں محدود کرنے کا سوچا وہ تین غلطیوں میں پڑ گئے۔

پہلی یہ کہ انہوں نے کتاب وسنت کے اسلام اور مسلمانوں کے تاریخی تجربے کے نتیجے میں سامنے آنے والے اسلام کو خلط ملط کر دیا۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے تجربے اور اس تجربے کی بنیاد پر سامنے آنے والے اصولوں کا اسلام کے بنیادی مصادر کی روشنی میں تنقیدی جائزہ لیا جائے تاکہ دور حاضر کے مسلمانوں کے لیے انسانی حقوق، جمہوریت اور سماجی شراکت کے میدان میں نیا افق تجویز کیا جا سکے۔

دوسری غلطی قرآن اور بعض احادیث رسول صلى الله عليه وسلم کی اُن تشریحات میں چھپی ہوئی ہے جو انسانی نظریے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے سامنے لائی گئیں۔ ایسے وقت میں جب کہ قرآن مجید کی روح اور سیرت نبویﷺ کے فلسفے کو جامع اور مکمل مطالعے کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔

تیسری غلطی یہ دعوی ہے کہ دین اور جمہوریت باہمی مطابقت نہیں رکھتے۔ اس بنیاد پر کہ دین حاکمیت کو اللہ کے لیے قرار دیتا ہے جب کہ جمہوریت عوام کے ارادے پر قائم ہوتی ہے۔ حق یہ ہے کہ مسلمان اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کرتا کہ کائنات میں حاکم مطلق اللہ تعالی کی ذات ہے۔ تاہم یہ اس کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ بطور بشر ہمارا کوئی ارادہ اور اختیار نہیں یا اس ارادے کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ عوام کی سیادت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مطلق اور قطعی سیادت اللہ سے لے لی گئی اور اسے بشر یا انسان کو دے دیا گیا ہے ،،، بلکہ اس سے مراد ہے کہ یہ اختیار اللہ تعالی کی جانب سے ہر انسان کو ودیعت کیا گیا ہے جس پر کسی صورت کوئی بھی فرد یا حکمراں اقلیت اپنی اجارہ داری ظاہر نہیں کر سکتی۔

ریاست ذریعہ ہے مقصد نہیں

ہم جس کو “ریاست” کا نام دیتے ہیں وہ صرف ایک نظام ہے جو انسان نے قائم کیا تا کہ اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کا تحفظ کر سکے اور باہمی انصاف اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

درحقیقت ریاست خود مقصد یا غایت نہیں بلکہ یہ ایک وسیلہ ہے جو دنیا اور آخرت کی خوش بختی تک پہنچنے میں انسان کی مددگار ہے۔ لہذا “اسلامی ریاست” بھی اپنے تئیں ایک متضاد اصطلاح ہے۔ اسلام کسی مولویانہ بنیاد پر قائم نہیں ہوا اور اس میں مذہبی شخصیات کا وجود نہیں۔ لہذا ملائیت یا مذہب پر مبنی نظام حکومت ہمیشہ اسلام کی روح کے لحاظ سے اجنبی رہے گا۔ جہاں تک ریاست کی بات ہے تو یہ عمرانی معاہدے  کے نتیجے میں سامنے آنے والا وجود ہے جس کو “اسلامی” یا “مقدّس” کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

آج کی دنیا میں جمہوریت اپنے ظہور اور صورت کے حوالے سے تعدد اور تنوع کی حامل ہے۔ جمہوریت کی ان تمام صورتوں کا مثالی مقصد یہ ہے کہ کوئی ایک گروہ دیگر افراد پر مسلط نہ ہو۔ یہ وہ ہی مقصد ہے جس پر اسلام بھی زور دیتا ہے۔ اسلام نے شہریوں کے درمیان مساوات کا بنیادی اصول وضع کیا جس کی بنیاد ہر انسان کی عزت نفس کو تسلیم کرنا ہے کیوں کہ وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ “ولقد كرمنا بني آدم“۔ لہذا شراکتی نظام حکومت یا جمہوریت کا طریقہ حکمرانی کے کسی بھی دوسرے طریقے کے مقابلے میں اسلام کی روح سے سب سے زیادہ میل رکھتا ہے۔

ایردوآن اور جمہوریت کا انجام

ایردوآن نے جمہوریت کو، جو کہ ترکی کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھی، فساد کی نظر کر ڈالا۔ اس نے ریاست کے اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کی، بڑی کمپنیوں کو ضبط کر لیا اور اپنے ساتھ سازشی عناصر کو انعام واکرام سے نوازا۔ اس نے مجھے ریاست کا دشمن قرار دیا، میرے لیے ہمدردی رکھنے والوں پر الزام عائد کیا کہ ترکی کی جدید تاریخ میں جنم لینے والی تمام آفتوں اور مشکلات کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہے۔ یہ ایک مثالی نمونہ ہے کہ کسی شخص یا جماعت کو کس طرح قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔

رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے لاکھوں افراد کو گرفتار کر لیا جو اس کی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر Hizmet موومنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ایردوآن کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے افراد کو مختلف قسم کے کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ماحولیات کے نام پر احتجاج کنندگان، صحافی، جامعات کے محققین کے علاوہ کرد، علوی، غیر مسلم شہری اور بعض اسلامی جماعتیں شامل ہیں۔ اندھا دھند گرفتاریوں اور جبری بے دخلی نے ظلم و زیادتی کی تاریخ رقم کر دی۔

اس مسلسل کریک ڈاؤن نے Hizmet موومنٹ کے ہزاروں رضاکاروں کو فرانس اور دیگر یورپی ملکوں میں پناہ طلب کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ افراد یورپی ممالک کا حصہ بن کر یقیناً ان معاشروں میں ضم ہو جائیں گے اور وہاں کے قوانین کا احترام کریں گے۔ یہ لوگ ان معاشروں کو درپیش سماجی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اس میں یورپ میں اسلام کے بارے میں پھیلی بنیاد پرستی کی تشریحات کا مقابلہ کرنا سرفہرست ہے۔

ترکی میں اجتماعی گرفتاریوں کی مہم جاری ہے۔ تقریبا 1.5 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے روزگار یا کام سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دو لاکھ سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان میں 50 ہزار سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

علاوہ ازیں سیاسی وجوہات کی بنا پر کڑی نگرانی میں رہنے والے شہری جو ملک سے کوچ کرنا چاہتے ہیں ،،، وہ پاسپورٹ منسوخ کیے جانے کے سبب نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے اپنے اُن بنیادی حقوق سے محروم ہیں جن کا تعین اقوام متحدہ نے کیا ہے۔

ایردوآن ترکی کی اس اچھی ساکھ سے فائدہ اٹھا رہا ہے جو ریاست کو 1923 سے بین الاقوامی سطح پر حاصل ہوئی۔ اس واسطے سفارتی تعلقات کو استعمال میں لایا جا رہا ہے اور ریاست کے وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا بھر میں Hizmet موومنٹ کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کو تنگی میں ڈالا جائے یا غائب کرایا جا سکے۔

جمہوری بیداری کا عدم وجود

جہاں تک اندرونی صورت حال کا تعلق ہے تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ حالیہ عرصے میں ترکوں کی جانب سے اپنے حکمرانوں سے جمہوریت کے مطالبے میں کمی آئی ہے۔ غالبا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اقتصادی استحکام کے بگاڑ کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

تاہم اسی طرح ایک تاریخی سبب بھی ہے۔ جمہوریہ ترکی نے جمہوری نظام حکومت کو تو اعلیٰ ترین مثال کے طور پر پیش کیا مگر عوامی حلقوں میں جمہوری اقدار کو راسخ کرنے کے واسطے منظم تربیتی پروگرام وضع کرنے کی کوششیں نہیں کیں۔ طاقتور حکمران اور ریاست کی اندھی تابع داری ہمیشہ سے تعلیمی نصاب کے موضوعات میں شامل رہی۔ اسی طرح فوجی انقلابوں نے جو کہ قریباً ہر دس سال پر پیش آتے رہے ،، جمہوریت کو جڑ پکڑنے یا پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔ یہاں تک کہ شہری یہ بھی بھول گئے کہ ریاست کا وجود عوام کی خاطر ہے ،،، نہ کہ اس کے برعکس۔ ایردوآن نے اس سماجی نفسیات کا بہت فائدہ اٹھایا۔

موجودہ حکومت کے سبب ترکی کی جمہوریت بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ تاہم میں اب بھی پر امید ہوں۔ یہ کریک ڈاؤن زیادہ عرصے جاری نہیں رہے گا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ ایک روز ترکی پھر سے جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو گا۔ تاہم اگر ہم جمہوریت کو جاری رکھنے اور اس کی جڑوں کو مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں مطلوبہ اقدامات کرنا لازم ہو گا۔

حل اور تجاویز

سب سے پہلے ہمیں تعلیمی نصاب کا جائزہ لینا ہو گا۔ قانون کے مقابل تمام شہریوں کے درمیان مساوات اور فرد کے بنیادی حقوق اور آزادی کے تحفظ جیسے موضوعات کو طلبہ کو ابتدائی سالوں میں پڑھایا جانا چاہیے تا کہ وہ جوان ہو کر خود اس کو برقرار رکھنے والے بن سکیں۔

آئین کی از سر نو تشکیل بھی لازم ہے جو کسی اقلیت یا اکثریت کو دیگر لوگوں پر غلبے یا کنٹرول کا موقع نہ دے۔ یہ آئین انسان کے بنیادی حقوق کو تحفظ دے جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور میں تحریر ہے۔ سول سوسائٹی اور آزاد صحافت کو بھی اس آئین کی جانب سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے تا کہ وہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی صورت میں ایگزیکٹیو اتھارٹی کی نگرانی اور ان پر گرفت کے عمل میں کردار ادا کر سکیں۔ آخری بات یہ کہ رائے عامہ وضع کرنے والی قیادت اور سماجی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اپنی تقاریر اور تحریروں میں جمہوری اقدار کو اعلی صورت میں پیش کریں۔

آج ترکی جمہویت اور انسانی حقوق پر کام روک چکا ہے اور اس نے ان دونوں امور کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ترکی نے بطور مسلم اکثریتی ریاست یورپی نظم پر جمہوریت تک پہنچنے کا تاریخی موقع ضائع کر دیا۔ آج سے دس برس قبل یہ واقعتا ممکن تھا۔

میں امید رکھتا ہوں کہ ترکی اور بعض مسلم اکثریتی ممالک کو جن تلخ اور رنجیدہ تجربات کا سامنا ہے ،،، وہ اجتماعی بیداری کا ذریعہ بنیں گے اور اس کے نتیجے میں جمہوریت کی روح پھیلانے، قانون کی بالادستی، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے اجراء اور افراد کے لیے آزادی اور بنیادی حقوق کی اہمیت اجاگر ہو گی۔  بشکریہ تُرک روزنامہ "زمان"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند