تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا امریکا اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتا انتہاپسندوں کی جیت ہوگا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 11 رجب 1440هـ - 18 مارچ 2019م KSA 23:29 - GMT 20:29
کیا امریکا اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتا انتہاپسندوں کی جیت ہوگا؟

امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گذشتہ منگل کو ختم ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی تھی لیکن فریقین نے یہ مذاکرات جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے اور ان کے درمیان مارچ کے آخر میں ایک اور دور متوقع ہے۔امریکا کے لیے اب افغان طالبان کے ساتھ کسی سیاسی تصفیہ تک پہنچنا اب ناگزیر بن چکا ہے۔

اس وقت افغانستان میں طالبان کی مزاحمتی تحریک کے خلاف امریکا کی تباہ کن فضائی مہم رکی ہوئی ہے۔گویا ایک طرح سے وہ ان فضائی حملوں سے محفوظ ومامون ہے اور اس کے علاقائی کنٹرول میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ افغان حکومت کی فورسز اور امریکا کی قیادت میں اتحاد طالبان پر قابو پانے کے لیے بھی کوشاں ہیں مگر افغان حکومت مادی اور نفسیاتی دونوں لحاظ سے شکست سے دوچار ہونے کو ہے کیونکہ اس کا علاقائی کنٹرول ختم ہورہا ہے اور اس کی قانونی عمل داری بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔موجودہ جوں کی توں صورت حال کوئی زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی اور بحران کے سیاسی تصفیے کا امکان بہت کم ہے۔

لیکن اگر امن معاہدے کے کم زور تانے بانے بُنے جاتے ہیں توا س سے کوئی اچھائی برآمد ہونے کے بجائے الٹا نقصان زیادہ ہوگا۔اس کا ایک بڑا خطرہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کو القاعدہ کی قیادت میں عالمی بنیاد پرستوں کی اخلاقی فتح گردانا جائے گا،اس کا مورال بلند ہوگا اور طالبان کے اس تحریک سے گذشتہ دو عشروں سے تعلقات استوار ہیں۔

افغان طالبان نے 1990ء کے عشرے کے اوائل سے نائن الیون حملوں کے بعد امریکا کی قیادت میں فوجوں کی افغانستان پر چڑھائی تک القاعدہ کو پناہ دیے رکھی تھی۔ القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن اور موجودہ سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے طالبان کے امیر ملّا محمد عمر کی بیعت کررکھی تھی۔ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ملّا محمد عمر کے آنے والے جانشینوں کی بھی بیعت کی ہے۔

القاعدہ اور طالبان کے درمیان تعلق داری تاریخ اور علامتی سطح سے ماورا ہے۔طالبان دوبارہ اپنی ’’اسلامی امارت‘‘ قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہ القاعدہ کی بھی ترجیحی حکمت عملی ہے۔طالبان افغانستان میں اپنی حکمرانی کے عرصے کو مثالی قرار دیتے ہیں۔وہ معاصر تاریخ میں اس کو ’’اسلامی نظام حکمرانی‘‘ کی درست مثال قرار دیتے ہیں۔

اگر کوئی ڈھیلاڈھالا امن معاہدہ کیا جاتا ہے تو یہ طالبان کو بہت کچھ دینے کے متراد ف ہوگا ۔اس طرح وہ دعویٰ کرسکیں گے کہ انھوں نے دنیا کی واحد سپر پاور پر فتح پالی ہے۔وہ افغانستان میں دوبارہ ویسا ہی نظام نافذ کردیں گے جیسا انھوں نے دوعشرے قبل نافذ کیا تھا۔حکمرانی کے طالبان ماڈل کا اگر دوبارہ احیاء ہوتا ہے تو اس سے خطے اورا س سے ماورا انتہا پسند گروپوں کو تقویت ملے گی۔

طالبان نے اپنے سرکاری بیانات کی حد تک تو یہ کہا ہے کہ وہ افغانوں کے مابین مکالمے کے حق میں ہیں اور ’’اقتدار پر تنہا خاص‘‘ کنٹرول نہیں چاہتے ہیں۔گذشتہ منگل کو مذاکرات کے اختتام پر امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ افغانوں کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔

تاہم طالبان کی سیاسی فوجی قیادت میں سخت گیر بھی ہوسکتے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ مطالبات کی شرائط پر اڑ سکتے ہیں۔ وہ زیادہ نہیں تو مذاکرات کے پورے عمل کے دوران میں ایک سخت گیر پریشر گروپ کے طور پر موجود رہیں گے۔وہ کوئی معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی اپنا یہ کردار برقرار رکھ سکتے ہیں۔وہ طالبان کے لیے بھی آئینی تبدیلیوں اور شراکتِ اقتدار کے سمجھوتے کے حوالے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔اس بات کا بھی خدشہ موجود ہے کہ ان میں سے منتشر گروپ جنم لے سکتے ہیں۔

طالبان کی میدان جنگ میں قوت کے باوجود بین الاقوامی برادری اپنے دباؤ کو بروئے کار لاتے ہوئے انھیں ایک اچھے سیاسی تصفیے پر مجبور کرسکتی ہے۔ اس سے القاعدہ کی قیادت میں تحریک کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔

طالبان دراصل دو چیزیں حاصل کرنا چاہتے ہیں : اوّل ،انھیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے دوم: اور انھیں غیرملکی مالی امداد اور ٹیکنوکریٹس کی معاونت مہیا کی جائے۔ 1990ء کے عشرے میں جب ان کی افغانستان کے بیشتر علاقوں پر حکومت تھی تو انھیں یہ دونوں چیزیں حاصل نہیں تھیں اور بین الاقوامی برادری نے انھیں مجموعی طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

طالبان کو افغانستان کے بہت سے حصوں میں حمایت حاصل ہے کیونکہ انھیں ایک بدعنوان اور نا اہل حکومت اور سفاک ملیشیاؤں کا متبادل سمجھاجاتا ہے ۔ اگر ان کا افغانستان کے ان علاقوں پر باضابطہ کنٹرول ہوجاتا ہے تو پھر عوام کی توقعات بھی بڑھ جائیں گی ،اس سے خود طالبان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ وہ نظامِ حکومت کو چلانے کے لیے درکار صلاحیت وتربیت سے آراستہ نہیں ہیں۔اس صورت میں امن کے لیے ابتدائی جوش وجذبہ ماند پڑ سکتا ہے اور بُری حکمرانی پر وہ عوامی غیظ وغضب کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔

طالبان کی اس وقت جن علاقوں میں بالادستی ہے ، وہاں انھوں نے کوئی متبادل مکمل نظام پیش نہیں کیا ہے۔البتہ انھوں نے سرکاری اسکولوں کو چلنے اور بین الاقوامی غیر سرکار ی تنظیموں ( آئی این جی او) کو کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔طالبان کے پاس ایسی کوئی افسر شاہی نہیں ہے جو ایک جدید ریاست کو برقرار رکھ سکے۔انھیں صلاحیت کار اور فنڈز کی شکل میں مدد کی ضرورت ہے۔

چناں چہ اس صورت حال میں بین الاقوامی برادری کیا کرسکتی ہے؟:

اوّل ، امریکا کو طالبان اور حکومت سمیت تمام افغان گروپوں کے درمیان ایک مشمولہ معاہدے کے بعد اپنے فوجی دستوں کا انخلا کرنا چاہیے۔اگر تمام نہیں تو کم سے کم ان گروپوں کو اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیے جو افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔ان گروپوں کے درمیان سمجھوتے کو برابری کی بنیاد پر ’’ صلح‘‘ سے تعبیر کیا جانا چاہیے اور اس کو طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

دوم، امارتِ اسلامی کو دوبارہ بحال کرنے کا اب کوئی جواز نہیں رہا ہے کیونکہ افغانستان پہلے ہی ایک ’’اسلامی جمہوریہ ‘‘ ہے۔سوویت یونین مخالف مجاہدین نے کابل میں جس نظام کے خلاف جنگ لڑی تھی ، وہ کمیونسٹ تھا اور مذہب دشمن تھا۔اس کے برعکس افغانستان کا موجودہ آئین اسلام کو ریاست کا دین قرار دیتا ہے ۔اس کے تحت ملک کے صدر کو مسلمان ہونا چاہیے۔اس میں اسلامی اصولوں کے منافی قانون سازی کی ممانعت ہے اور اسلامی فقہ میں تخصص کے حامل علماء بہ طور جج خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے پہلے چیف جسٹس فضل ہادی شنواری ایک قدامت پسند مذہبی عالم تھے اور وہ ٹیلی ویژن پر پابندی کے حق میں تھے۔

افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کرنے والے بہت سے ’بادشاہ گر‘ راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ۔وہ اسلامی علوم وفقہ میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔افغانوں کے درمیان مکالمے کے دوران میں انھیں خواتین کے حقوق کی پاسداری سمیت موجودہ نظام کی بہتری کے پیش نظر اٹھ کھڑے ہونا چاہیے ۔اس طرح مل جل کر ہی وہ افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام میں طالبان کے اثرورسوخ کو کم کرسکتے ہیں۔

سوم ، افغان طالبان کو باضابطہ طور پر القاعدہ سے اپنا ناتا توڑنا ہوگا لیکن یہ کام طالبان کے لیے بہت مشکل ہوسکتا ہے۔پاکستان میں القاعدہ کا قلع قمع کردیا گیا ہے لیکن وہ افغانستان میں اپنی جنوبی ایشیا کی شاخ کے ذریعے ابھی تک فعال ہے۔حالیہ برسوں کے دوران میں طالبان نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن محض خالی خولی الفاظ ہی کافی نہیں ہیں۔

طالبان سے القاعدہ کی باضابطہ مذمت کا کہنے کے بجائے یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ افغانستان میں برسر پیکار اس گروپ سے اپنا ناتا بالکل توڑ لیں ۔ وہ امریکا اور افغانستان کی خصوصی فورسز کو القاعدہ کے ملک میں موجود بچے کھچے لیڈروں اور کارکنوں کے استیصال کی کارروائیوں کے لیے مواقع فراہم کریں۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے سمجھوتے کی اوپری سطح تو بہت ’’ اچھی‘‘ اور واضح ہے۔اس سے افغانستان میں گذشتہ 40 سال سے جار ی لڑائی کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔ایک ایسی جنگ ،جس سے القاعدہ ایسے گروپوں کے جنم کی راہ ہموار ہوئی تھی۔اس سے ایشیا کے غریب ترین ملک کو اپنے کھوئے ہوئے ماضی کو لوٹانے کا موقع ملے گا۔افغانستان میں جنگ کا اگر مذاکرات کے نتیجے میں خاتمہ ہوتا ہے تو یہ ایک طرح سے القاعدہ کے بیانیے کا بھی انکار ہوگا۔اگر افغان جنگ کے سیاسی تصفیہ کے حصول میں ناکامی ہوتی ہے تو اس سے صرف اور صرف القاعدہ ایسے گروپ ہی جنم لیں گے ، طوائف الملوکی اور تشدد کو بڑھاوا ملے گا کیونکہ ایسے گروپ صرف تشدد کے ماحول ہی میں پنپ سکتے ہیں۔

__________________________

عارف رفیق مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن ڈی سی میں بہ طور نان ریزیڈنٹ فیلو کام کررہے ہیں۔ وہ مشرقِ اوسط اور جنوبی ایشیا میں درپیش سیاسی خطرات سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والی مشاورتی کمپنی ’’وزیر کنسلٹنگ ایل ایل سی‘‘ کے صدر بھی ہیں۔ ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ یہ ہے:
@arifcrafiq

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند