تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گولان کی چوٹیوں پر اسرائیلی عمل داری ، بشارالاسد اور ایران کے لیے امریکی تحفہ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 17 رجب 1440هـ - 24 مارچ 2019م KSA 18:48 - GMT 15:48
گولان کی چوٹیوں پر اسرائیلی عمل داری ، بشارالاسد اور ایران کے لیے امریکی تحفہ؟

حالیہ ہفتوں کے دوران میں گولان کی چوٹیوں کی قانونی حیثیت ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔شام کے اس علاقے پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور 1981ء میں اس کو ریاست میں غاصبانہ طور پر ضم کر لیا تھا مگر عالمی برادری نے اسرائیل کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اس کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی تصور کرتی ہے مگر دوسری جانب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکنز نے ایک بل متعارف کرایا ہے اور اس میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کی توثیق کی گئی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اسی ماہ اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں گولان کے ساتھ پہلی مرتبہ ’’مقبوضہ‘‘ کے بجائے ’’کنٹرول‘‘ کا لفظ لکھا گیا ہے۔

ایک ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم تو گولان کا دورہ بھی کر آئے ہیں اور یہ ایک طرح سے اس علاقے پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی توثیق تھی۔اس طرح کے اقدامات کے بہت سے حامی انھیں شام کے اسد رجیم اور ایران کے لیے ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں۔مگر شامی انقلاب کے حامی اور گذشتہ برسوں سے ایران کی توسیع پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والے ہم ایسے لوگ اس بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

اسد رجیم کو اس وقت مختلف چیلنجز درپیش ہیں لیکن حال ہی میں گولان کی چوٹیوں پر توجہ مرکوز ہوجانا دراصل اس کے ہاتھ کھیلنے کے مترادف ہے ۔ بشار الاسد ،ان کے ایرانی اور روسی اتحادی گذشتہ سال کے دوران میں حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ مفتوح بنائے گئے علاقوں پر اب اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔انقلاب کی جائے پیدائش درعا میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور س کے پڑوس میں واقع السویدہ میں اسد مخالف جذبات کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

شامی صدر کے وفادار علاقوں میں ابتر معاشی صورت حال کی وجہ سے عدم اطمینانی کو مہمیز مل رہی ہے۔یہ تمام صورت حال بشار الاسد کی فوج کے ہاتھوں فضائی حملوں سے شہری ڈھانچے کی تباہی اور شہری علاقوں کے محاصرے کا نتیجہ ہے۔ان کی تباہ کاریوں کے بعد تو شام کے روشن دماغ ملک چھوڑ کر ہی چلے گئے ہیں جبکہ اسد حکومت نے اقتصادی مواقع کا اپنی کرپشن سے گلا ہی گھونٹ دیا ہے۔بشار الاسد پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے وفاداروں کو یہ باور کراتے رہے ہیں کہ جونہی مغرب اور خلیج کے حمایت یافتہ دہشت گرد شکست سے دوچار ہوں گے تو صورت حال بہتر ہوجائے گی ۔اب شامی صدر نے دوبارہ فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے تو ان کمیونٹیوں کے افراد میراج کے ذریعے بہتری کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تمام عوامل بشارالاسد کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن سکتے ہیں لیکن گولان کی چوٹیوں کو مرکز ِ توجہ بنانا ایک غلط حکمتِ عملی ہے۔ یہ ایک طرح سے شامی صدر کے لیے ایک تحفہ ہوگا اور اس سے وہ وفاداروں کی حمایت کو برقرار رکھ سکیں گے۔اسد رجیم کے وفادار علاقوں میں میڈیا پر پابندیاں عاید ہیں اور اطلاعات تک کم رسائی کا ماحول ہے۔اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ حالیہ اقدامات علامتی ہیں اور ان کا کوئی عملی اثر نہیں ۔بشارالاسد پہلے ہی یہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ ان کے قریبی حلقے پر امریکی پابندیاں اقصادی بحران کا سبب ہیں۔امریکی حکومت کے اب ایک مرتبہ پھر گولان کی چوٹیوں کو موضوع بحث بنانے سے یہ جھوٹ زیادہ قابل یقین بن جائے گا۔

اس سے ایران کی توسیع پسندی کی کاوشوں کو بھی مہمیز ملے گی ۔ایران شامیوں اور دنیا کے سامنے مسلسل یہ دعوے کرتا چلا آرہا ہے کہ اس کی شامی انقلاب کے خلاف مداخلت کا حتمی مقصد تو اسرائیل سے جنگ آزما ہونا ہے۔گولان پر اسرائیل کے کنٹرول سے ایران کو شام میں اپنی خطرناک سرگرمیوں کو توسیع دینے اور انھیں جاری رکھنے کا جواز ملے گا۔ان میں میزائل اڈوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔اس نے حال ہی میں لبنان کی سرحد کے نزدیک سفیتہ کے مقام پر میزائل اڈا تعمیر کیا ہے۔وہ شام کے صحرا کے بیچوں بیچ ریل کی پٹڑی بچھانے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ چناں چہ امریکا کی گولان کی چوٹیوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کوششوں سے ایران کو اپنی توسیعی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا جواز ملے گا اور اس کو ان سے روکنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ایران اور بشار الاسد کا راستہ روکنے اور ان سے محاذ آرا ہونے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ شام کے جنوب میں ایک محفوظ علاقہ قائم کیا جائے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے شہریوں کے تحفظ کی ذمے داری کے اصول کے تحت قائم کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے علاقائی مدد حاصل کی جانی چاہیے۔اس وقت اردن میں چھے لاکھ ستر ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور ان کی وجہ سے اس ننھے ملک کو بھاری معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اردن اور لبنان سے شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے ایک فارمولا وضع کرسکتی ہے کیوں کہ بہت سے مہاجرین بھی اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک شام میں بشار الاسد اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے تو وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے ہیں۔

اسد رجیم کی سکیورٹی سروسز ملک میں واپس آنے والے مہاجرین کا پیچھا کرتی ہیں ۔انھیں ماضی میں حزب اختلاف کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کر لیا جاتا ہے یا انھیں فوجی بھرتی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ایران بھی یہ چاہتا ہے کہ یہ مہاجرین اپنے وطن سے دور ہی رہیں۔اس نے حمص اور دمشق کے علاقوں میں آبادی کو بے گھر کرنے کی حکمتِ عملی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے تا کہ اسد رجیم کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کو یقینی بنایا جاسکے۔ روس اس حکمت ِ عملی کو روکنے میں ناکام رہا ہے ۔اس کا اسرائیل کی گذشتہ ہفتے افشا ہونے والی خفیہ معلومات سے بھی پتا چلا ہے کہ شام کے جنوب مغرب میں حزب اللہ کے یونٹ موجود ہیں ۔شامی مہاجرین کی پڑوسی ملکوں سے محفوظ واپسی کے لیے بین الاقوامی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

مہاجرین کی اپنے گھروں کو محفوظ اور سکیورٹی فورسز کے کسی قسم کے خوف وہراس کے بغیر واپسی ان کا بنیادی حق ہے۔ایک محفوظ زون کے قیام سے مہاجرین کو ان کا یہ حق دلایا جاسکتا ہے جبکہ ہمسایہ ریاستوں کو بھی اس طرح مستحکم کیا جاسکتا ہے۔اس سے ایرانی توسیع پسندی کے دامِ تزویر میں آئے یا اسد کے مصاحبین کی بدعنوانیوں میں کوئی مدد کیے بغیر شام کی تعمیرِ نو کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ شام کے جنوب میں مجوزہ محفوظ علاقے میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں واپسی سے ایران کا شام کے اس حصے میں آبادی کی ہئیت ترکیبی کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہوگا ۔یہ دراصل ایران اور اسد کی ایک بڑی شکست ہوگی ۔یہ گولان پر علامتی اقدامات کے برعکس ایک بڑا ٹھوس قدم ہوگا۔

بشارالاسد نے بظاہر اقتدار پر دوبارہ گرفت مضبوط بنا لی ہے،اس لیے اب وسیع تر حل کی امید تو ترک ہی کردینی چاہیے اور چھوٹی چھوٹی یا علامتی فتوحات پر غور کرنا چاہیے۔ایران اور بشار الاسد کے امریکی مخالفین شامی عوام کے مفاد میں اور ایران کی توسیع پسندی کو روک لگانے کے لیے ٹھوس اور پائیدار اقدامات سے کرسکتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند