تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وینزویلا میں حزب اللہ کی نیکولس مادورو کی منشیات کی تجارت میں شراکت داری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 4 رمضان 1440هـ - 9 مئی 2019م KSA 19:03 - GMT 16:03
وینزویلا میں حزب اللہ کی نیکولس مادورو کی منشیات کی تجارت میں شراکت داری

بین الاقوامی میڈیا میں وینزویلا میں 30 اپریل اور یکم مئی کو رونما ہونے والے واقعات کے تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تب وینزویلا کے عبوری صدر ژوان گائیڈو کو دنیا کے چوّن ممالک نے تسلیم کرلیا تھا۔انھوں نے وینزویلا کے 1999ء کے آئین کی دودفعات 333 اور 350 کے تحت صدر نیکولس مادورو کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے عوامی مزاحمت مہم شروع کی تھی۔ان کی’’ آزادی کے لیے کارروائی ‘‘ سے وینزویلا کے لاکھوں لوگوں میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی ۔ان میں دوتہائی کو تو سست رفتار قحط سالی کا سامنا تھا جبکہ صدر مادورو تب تک اپنی جیبیں بھر چکے تھے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مادورو نہیں تھے جنھوں نے جدید دور میں قومی خزانے سے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ شروع کیا تھا اور 200 ارب ڈالرز سے زیادہ کی دولت اینٹھ لی ہے بلکہ یہ ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز تھے جنھوں نے قومی خزانے سے ڈکیتی کے اس نظام کو متعارف کرایا تھا۔2002ء میں سرکاری تیل کمپنی کے کارکنان نے ان کے خلاف ہڑتال کردی تھی اور انھیں 48 گھنٹے کے لیے اقتدار سے بھی محروم ہونا پڑا تھا۔اس کے بعد انھوں نے اس کا توڑ یہ کیا تھا کہ انھوں نے سرکاری تیل کمپنی پیٹرو لیوس ڈی وینزویلا ( پی ڈی وی ایس اے ) میں فوج کو ٹھونس دیا تھا ۔ بین الاقوامی تربیت یافتہ انتظامی ذمے داران کو نکال باہر کیا تھا اور ان کی جگہ اپنے وفادار فوجی کمانڈروں کو سرکاری تیل کمپنی کے معاملات سونپ دیے تھے حالانکہ انھیں تیل کی صنعت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا ۔ ہاں البتہ ان کا حزب اللہ سمیت ’منشیات دہشت گردی ‘کے دھندے میں ملوّث تنظیمو ں سے ضرور تعلق تھا۔

سرکاری تیل کمپنی میں اتھارٹی کی اس تبدیل سے بدعنوانی کی ’’وسیع اور عظیم تر‘‘ اسکیموں کی راہ ہموار ہو ئی تھی۔چناں چہ جو رقم اقتصادی ترقی پر صرف ہونی چاہیے تھی ، اس کا اس طرح ایسے ہی ضیاع ہونے لگا ۔ مادورو کے برسراقتدار آنے کے بعد تو صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی ۔ پی ڈی وی ایس اے کا شعبہ مالیات ایران سے روس تک ہر کسی کے منظم جرائم کے لیے منی لانڈرنگ کا میکانزم بن گیا تھا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وینزویلا کی ایران کے ساتھ تعلق داری کیسے قائم ہوئی تھی؟اس کا آغاز سابق صدر ہوگو شاویز کی سرکاری پالیسی سے ہوا تھا۔اس کے تحت وینزویلا میں ایران کے مالیاتی چینلز قائم کیے گئے تھے۔ہوگو شاویز نے 2001ء اور 2003ء میں ایران کے دوروں کے موقع پر تب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کےسمجھوتوں پر دست خط کیے تھے۔ان میں ٹریکٹر کے پُرزوں اور کاروں کی تیاری کے علاوہ بنک کاری کے شعبے میں تعاون کے سمجھوتے شامل تھے۔ مفاہمت کی ایک یادداشت ’ توسیع صدرات ایران بنک‘ سے متعلق تھی۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ تعلق داری ایک اور راستے سے استوار ہوئی تھی۔1980ء کے عشرے میں لبنان میں خانہ جنگی کے زمانے میں لبنانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد نے لاطینی امریکا کے ملکوں کا رُخ کیا تھا۔حزب اللہ نے ان لبنانی تارکینِ وطن کے ساتھ ایک گہری مالیاتی تعلق داری قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کی ایک وجہ تو یہ بنی تھی کہ ایرانی صدور علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی نے اپنے ادوار حکومت میں حزب اللہ کو مہیا کی جانے والی رقوم میں قریباً 70 فی صد تک کٹوتی کردی تھی جبکہ ایرانی معیشت پر پابندیوں کے بھی نمایاں اثرات مرتب ہوئے تھے۔

ان دونوں دھاروں کا 2007ء میں اس وقت ملاپ ہوگیا تھا جب وینزویلا کے اس وقت کے وزیر خارجہ مادورو اور نائب وزیر برائے مالیات رافاعیل عیسیٰ کی دمشق میں ایک ہوٹل کے کمرے میں حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ سے ملاقات ہوئی تھی۔اس ملاقات کے بعد مادورو تہران چلے گئے تھے جہاں صدر شاویز ایرانی ہم منصب احمدی نژاد سے ملاقات کررہے تھے۔اس کے بعد تو ان تینوں فریقوں کے درمیان بہت سے تجارتی تعلقات استوار ہوگئے تھے اور سرکاری حیثیت سے بالا تر غیر قانونی بھی۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے وینزویلا میں اپنے ذیلی ادارے کھول لیے تھے اور اس نے پی ڈی وی ایس اے کے ذریعے رقوم کی ترسیل شروع کردی تھی ۔پاسداران اسی کواستعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں داخل ہوئے تھے اور اس طرح عالمی پابندیوں سے بچ گئے تھے۔

لیکن حزب اللہ اور وینزویلا اس سے بھی زیادہ گہرے رشتے میں بندھے ہوئے تھے اور یہ خونی رشتہ تھا۔ اس کی بڑی مثا ل وینزویلا کے سابق وزیرداخلہ اور انصاف طارق العیسامی ہیں۔ وہ شامی نژاد وینزویلی ہیں۔العیسامی پرفروری 2017ء میں کنگ پن ایکٹ کے تحت منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ میں نمایاں کردار ادا کرنے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔تب وہ وینزویلا کے نائب صدر تھے۔ان کے فرنٹ مین سمرک لوپیز بیلو پر بھی پابندی عاید کردی گئی تھی۔ان پر پیٹرولیم ، تقسیم کار ، انجنئیرنگ ، ٹیلی مواصلات اور ہولڈنگ کمپنیوں کے ذریعے منشیات کے کالے دھندے سے حاصل ہونے والی رقوم کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کا الزام تھا۔ان میں سے بہت سی کمپنیوں کے پاس پی ڈی وی ایس اے کے سرکاری ٹھیکے بھی تھے۔

گائیڈو کے ’’آزادی آپریشن‘‘ کا مادورو کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا حتمی مقصد تو حاصل نہیں ہوسکا ہے لیکن اس سے اور بہت سے انکشافات ہوئے ہیں۔ایک طویل عرصے سے پابندِ سلاسل سیاسی قیدی لیو پولڈو لوپیز کو سیبن انٹیلی جنس ایجنسی کے شکنجے سے آزاد کرا لیا گیا ہے ،درمیانے درجے کے بعض افسروں نے گائیڈو کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور نظام کے داخلی ڈھانچے میں بھی دراڑ آگئی ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مادورو کے قریبی حلقے اب ان کی رخصتی کے موضوع پر بات چیت کررہے ہیں۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ مادورو اس وقت ’بوتل میں بچھوؤں سے گھرے‘ ہوئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اگر روس مداخلت نہ کرتا تو مادورو اپنے انتظار میں کھڑے طیارے میں سوار ہوچکے ہوتے۔خلاصہ یہ ہے کہ روسی شامی کھیل ہی کا وینزویلا میں اعادہ کررہے ہیں۔ان کا مادورو کے لیے پیغام واضح تھا:’’ ہم پر اعتماد کریں ، ہم نے بشارالاسد کا اقتدار برقرار رکھا ہے ، تو ہم آپ کو بھی اقتدار میں برقرار رکھیں گے‘‘۔

روسیوں کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اگر گائیڈو صدارتی محل پر قابض ہوجاتے ہیں تو وہ مادورو کو دیے گئے 17 ارب ڈالرز کے قرضے کی رقم سے محروم ہوجائیں گے۔ان میں 10 ارب ڈالرز ابھی واجب الادا ہیں۔اس کے علاوہ تیل صاف کرنے اور گیس کے حقوق الگ سے متنازع ٹھہرےہیں کیو نکہ روس سے قرضے کی کسی دستوری چینل سے منظور ی حاصل نہیں کی گئی تھی ، یعنی وینزویلا کی قومی اسمبلی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی اور ان کا مقصد جابر اشرافیہ کااقتدار برقرار رکھنا تھا۔

روس کی مداخلت ممکنہ طور پر وینزویلا سے قرض کی رقوم کی واپسی کے لیے بعد از مادورو حکومت کے ساتھ کسی بندوبست کی غرض سے بھی ہوسکتی ہے لیکن حزب اللہ سے ایک مختلف چیلنج درپیش ہوگا۔امریکا کی وینزویلا پر پابندیوں کے حزب اللہ کی مالیات پر ثانوی اثرات ہوں گے ۔اس سے شام میں لڑنے والے اس کے جنگجوؤں کی تن خواہوں کی ادائی ، فوجی اور دہشت گردی کی صلاحیتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔تاہم وہ مادورو نظام کے منشیات کے دھندے سے بھاری رقوم بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔مادورو کی فوج کا حمایت یافتہ کارٹل پابندیوں کا توڑ کرنے کی غرض سے نقد رقوم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔مادورو کی فوج ایک تخمینے کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ ، تیل ، خوراک ، سونے کے دھندے سے 8 ارب 80 کروڑ ڈالرز سالانہ کما رہی ہے ۔جیسا کہ ہم نے اسی ہفتے دیکھا ہے، وہ اپنے مالیاتی مفادات سے بآسانی دستبردار نہیں ہوں گے اور یہ حزب اللہ کے لیے بہت سود مند ہیں۔

چناں چہ مادورو کا برسر اقتدار رہنا حزب اللہ کے بہترین مفاد میں ہے اور وہ اس مقصد کے لیے سخت جاں فشانی سے کام کریں گے۔2012ء میں میرے بیروت کے سفر کے موقع پر انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ہوگو شاویز کا جو کوئی بھی جانشین بنتا ہے ، وہ اس کو اقتدار میں رکھیں گے۔اس کے بعد سے حسن نصر اللہ واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ العیسامی کو مادورو کا جانشین دیکھنا چاہیں گے۔

اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ کیا حزب اللہ مادورو کو غیر قانونی یا دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے برسر اقتدار رکھنے کی کوشش کرے گی اور کیا مادورو کے اقتدار کو کوئی نمایاں فوجی خطرہ درپیش رہے گا؟

دوسری متبادل صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے تو وہ اپنے غیر قانونی مالیاتی چینلوں کو برقرار رکھنے کی کوششیں کریں گے۔اس مقصد کے لیے وہ گائیڈو اور ان کے بعد فوجی باقیات سے راہ ورسم استوار کریں گے ، وہ اپنے اتحادی نشان زد کریں گے یا کرپشن کو بروئے لائیں گے ۔ حزب اللہ کا یہ ایک کلاسیکی طریق کار ہے۔

اگر اس وقت یا بعد از انتقالِ اقتدار حزب اللہ سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ وضع نہیں کیا جاتا ہے تو میرے لوگوں کو مزید مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے یہ مصائب مزید بھی گہرے ہوسکتے ہیں۔ہم نے پہلے ہی شامی مہا جرین کے بحران کو ایک سال کے اندر طے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس کے علاوہ اس عرصے میں ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پر قابو پایا جائے گا ۔ پیرو اور کولمبیا ایسے ممالک اپنے ہاں دہشت گردوں کی مزاحمتی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے سخت محنت سے کام کر رہے ہیں۔وہ امن اور خوش حالی چاہتے ہیں۔وینزویلا کی جانب سے جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروپوں کو دی جانے والی مالی امداد کی بندش سے نہ صرف مغربی کرۂ ارض میں امن وسلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے مشرقِ اوسط میں بھی امن وسلامتی کی راہ ہموار ہوگی۔

_________________________
ڈاکٹر وینیسا نیو من ژوان گائیڈو کی برطانیہ میں مقرر کردہ سفیر اور سفارتی مشن کی سربراہ ہیں۔وہ اس سفارتی تقرر سے قبل ایک طویل عرصے تک دہشت گرد گروپوں کے جرائم سے متعلق امور کی ماہر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں ۔ وہ ’’خونیں نفع : امریکی صارفین کےدہشت گردی کے لیے معصومانہ عطیات‘‘ ( بلڈ پرافٹس : ہاؤ امریکن کنزیومرز ان وٹنگلی فنڈ ٹیررسٹس) کے عنوان سے کتاب کی مصنفہ ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند