تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا امریکا، ایران کے خلاف طبل جنگ بجانے والا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 8 رمضان 1440هـ - 13 مئی 2019م KSA 09:46 - GMT 06:46
کیا امریکا، ایران کے خلاف طبل جنگ بجانے والا ہے؟

ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ عراق کے شکست خوردہ سابق صدر صدام حسین نے امریکہ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ امریکا انہیں برابر دھمکی دے رہا تھا کہ اگر انہوں نے کویت سے انخلا نہ کیا تو امریکا ان کے خلاف تباہ کن جنگ چھیڑ دے گا۔ صدام حسین کو آخری انتباہ عراق پر فضائی حملے سے چند روز قبل سوئٹزرلینڈ میں عراقی وزیر خارجہ طارق عزیز اور امریکی وزیر خارجہ جیمس بیکر کی ملاقات پر کیا گیا تھا۔ اس وقت کویت پر عراق کے ناجائز قبضے کو 5 ماہ ہو چکے تھے اور عراقی صدر کو پے در پے متعدد بار نتائج سے خبردار کیا جا چکا تھا۔

ایران کا منظر نامہ بھی اس سے ملتا جلتا ہی ہے۔ ایران کو امریکا کئی بار خبردار کر چکا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو تباہ کن ہو گی۔ امریکا یہ بات تو دہراتا رہتا ہے کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا تا ہم عملی طور پر وہ ایران کو جنگ کی طرف ہی دھکیل رہا ہے۔ امریکا کی اقتصادی پابندیوں نے ایرانی نظام کو تھکا ڈالا ہے۔ یہ پابندیاں ممکن ہے ایک گولی چلائے بغیر ہی ایرانی نظام کا دھڑن تختہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ویسے ایران بھی امریکا سے جنگ نہیں چاہتا اسے پتہ ہے کہ جنگ چھڑی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران ناکہ بندی ختم کرانے کیلئے طاقت کے استعمال کی دھمکی کا کھیل کھیل رہا ہے۔

ہو سکتا ہے محدود پیمانے پر طاقت استعمال کرنے کی جسارت بھی کر بیٹھے مثلا خلیجی ملک یا سعودی عرب وغیرہ کے تیل مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ ایران کے حکمراں یہ خیال کر سکتے ہیں کہ جس طرح حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کمپنی کی مشہوری کے لئے محدود جھڑپ کر لیتی ہے ویسے ہی وہ بھی ایسا کر کے امریکا کے ساتھ سمجھوتے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس قسم کی سوچ پرخطر ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ ایران کو جنگ کے دھانے پر لے جا کر کھڑا کر دے اور اس کا یہ کھیل مکمل جنگ بھڑکانے کا باعث بن جائے۔

ہمیں لگتا ہے کہ جنگ کا امکان ہے ہماری سوچ کو تقویت اس بات سے پہنچ رہی ہے کہ امریکا کے متعدد جنگی جہاز خلیج اور آس پاس کے سمندر میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ کوئی کھیل نہیں ہے۔ اس قسم کا اقدام جنگ کی تیاری کیلئے ہی کیا جاتا ہے۔ اعلی حکام کا اشارہ ملتے ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ امریکا کی جانب سے ایران کیلئے انتہائی سنجیدہ پیغام ہے۔

یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنا ہو گی کہ امریکا بھیانک عسکری طاقت ہے اس کی مثال ہاتھی جیسی ہے جو اپنے قدموں تلے آنے والی گھاس کو بن دیکھے روند ڈالتا ہے۔ کشمکش کے علاقوں میں قابل علاج زخم لگتے ہیں۔ نیا منظر نامہ مختلف ہے۔ ایرانی نظام کو وہی مار لگ سکتی ہے جو دو جنگوں میں صدام حسین کو لگی تھی۔ تباہی اور پھر مکمل بربادی۔ ایران کو وہی چوٹ لگ سکتی ہے جو طالبان کو لگی۔ طالبان کو ستمبر کے طیارہ حملوں کے بعد کابل سے بیدخلی کی صورت میں لگی تھی۔

ایک سوال بار بار کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر امریکا اتنی زیادہ تباہ کن عسکری طاقت کا مالک ہے تو اس نے اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کو دسیوں بار ایران کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر ایران کے خلاف کیوں استعمال نہیں کیا؟

یہ سوال ایک تو حیرت واستعجاب کے شکار افراد دہرا رہے ہیں او ردوسری جانب سازش کے نظریے کا پرچار کرنے والے بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ وہ لوگ بھی یہی باتیں کر رہے ہیں جو امریکی نظام اور ایرانی نظام کے درمیان خفیہ تعلق کی موجودگی کی بابت شکوک و شبہات کھڑے کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران نے خطے میں یا اس کے باہر اب تک جو کچھ کیا وہ امریکہ پر براہ راست حملے کے زمرے میں نہیں آتا۔ بات چونکہ ایسی ہے لہذا کسی بھی امریکی صدر نے کانگریس کی حمایت حاصل کر کے ایران کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی۔ امریکی آئین یہ پابندی لگائے ہوئے ہے ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو جہاں جہاں اور جب بھی کوئی نقصان پہنچایا اس نے وہ کام انتہائی محتاط انداز میں کیا۔ احتیاط کا عالم یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حملوں پر قانون دانوں کی منصوبہ بندی کا شک گزرنے لگتا ہے۔ دوسری جانب امریکا بھی ایران اور اس کے مفادات کے خلاف خفیہ عسکری آپریشن کرتا رہا ہے یہ کام سی آئی اے اور امریکی اتحادیوں کے ذریعے انجام دیا گیا۔ ایران کو اذیت ناک اقتصادی بائیکاٹ کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔

ایران کے خلاف جوابی آپریشن نہ کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ امریکا کو یہ امید رہی کہ ایران اپنی سیاست تبدیل کر لے اور اس کا اتحادی بن جائے اور اس طرح ایران امریکہ کے بڑے حریفوں روس اور چین کی گود میں گرنے سے بچ جائے۔

ممکن ہے روس یا چین ایران کو حکمراں نظام برقرار رکھنے کیلئے تحفظ فراہم کردے۔ یہ کام شطرنج کی بساط پر کھیلے جانے والے کھیل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ بشار الاسد کے نظام حکومت کے حوالے سے روس مداخلت کر کے یہ نظیر قائم کر چکا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے جا رہا تھا روس نے سہارا دے کر اسے بچا لیا۔ روس اب یہی کھیل وینزویلا میں میڈورو نظام کے ساتھ کر رہا ہے۔

ایران کا نظام مختلف ہے۔ یہ مذہبی، انقلابی اور انتہا پسندانہ نظریات کے مرض میں مبتلا ہے۔ امریکا اس کی اصلاح کے لیے ڈرانے دھمکانے اور سمجھانے کے لئے جتنی تدابیر استعمال کر سکتا تھا کر چکا ہے۔ امریکا کے سارے وسائل ناکام ہو چکے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اب فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے۔ اس احساس کا باعث یہ بھی ہے کہ عراق میں صدام، لیبیا میں قذافی اور سوڈان میں عمر البشیر جیسے شر پسند حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا گیا ہے۔ شام میں بشار الاسد کا نظام بھی کمزور کر دیا گیا ہے۔ بشکریہ روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند