تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جواد ظریف کے لیے تاریخ کا سبق: ایران، نظام سے عظیم تر ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 23 رمضان 1440هـ - 28 مئی 2019م KSA 10:48 - GMT 07:48
جواد ظریف کے لیے تاریخ کا سبق: ایران، نظام سے عظیم تر ہے!

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر یہ ٹویٹ کی تھی:’’اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ ایران کے باضابطہ طور پر خاتمے پر منتج ہو گی۔ وہ امریکا کو آیندہ کبھی ڈرائے دھمکائے نہیں‘‘۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے اس کے جواب میں تاریخ کا ایک مختصر سبق دینے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ وہ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کو اسکندر اعظم، چنگیز خان اور دوسرے جارحین حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ایرانی صدیوں سے پورے قد سے کھڑے ہیں جبکہ تمام جارحین فنا ہوگئے‘‘۔

جواد ظریف نے بھی عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کی ایک مشہور زمانہ تقریر کے الفاظ کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے امریکا کی مارچ 2003ء میں عراق پر چڑھائی کے وقت یہ تقریر کی تھی۔انھوں نے عراقیوں پر زور دیا تھا کہ وہ دشمن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، جنگ کا ایک ہالا بنا دیں اور ’’ ہمارے وقت کے ان منگولوں‘‘ کو شکست سے دوچار کرنے کا عزم کریں۔ انھوں نے دشمن کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ وہ بغداد کی دیواروں سے سر ٹکرا خودکشی کرے گا‘‘۔

صدام حسین نے نجانے کس پیرائے میں منگولوں کا حوالہ دیا تھا لیکن منگول فوج نے تو درحقیقت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی ۔اس نے 1258ء میں عباسی خلافت کے دارالخلافہ بغداد پر قبضہ کر لیا تھا اور شہر کے مکینوں اور مفتوح فوج کے خون کی ندیاں بہا دی تھیں۔

صدام حسین شاید ’’ہمارے وقت کے منگولوں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی مغالطے کا شکار ہوئے تھے۔پھر بعد میں ان ہی منگولوں نے انھیں سبکی سے دوچار کیا تھا ۔صدام حسین شمالی شہر تکریت کے نزدیک باغ میں ایک زیر زمین گڑھے میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے،’وقت کے منگولوں‘ نے انھیں جالیا تھا۔گرفتاری کے بعد ان پر مقدمہ چلایا گیا اور پھر انھیں پھانسی چڑھا دیا گیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس وقت طاقت کا توازن امریکا کے حق میں ہے اور وہ تاریخ میں مماثلتیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس طرح شاید وہ صدر ٹرمپ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ بھی شاید صدام حسین کی طرح منتخبہ حافظے کے عارضے سے دوچار ہیں۔ انھوں نے ٹویٹر ہی پر جواب دینے کی کوشش کی ہے جہاں 240 حروف کی تحدید ہی دراصل ’چنیدہ الفاظ‘ کو کھیل کا قاعدہ بناتی ہے۔

جواد ظریف نے تاریخی حقائق کو کھل کر بیان نہیں کیا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ مقدونیہ کے اسکندر اعظم سوم نے کیسے فارسیوں کو شکست سے دوچار کیا تھا اور انھیں ایشیا ہی سے نکال باہر کیا تھا۔ اس نے ہخامنشی شہنشاہیت کی فوج کو تہ تیغ کر دیا تھا اور فارس کے شاہ داریوش سوم کا تختہ الٹ دیا تھا۔

یہ بات درست ہے اور جیسا کہ جواد ظریف نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے، ایران موجود رہا تھا لیکن شاہِ ایران اپنی حکمرانی کے ساتھ فنا ہو گیا تھا۔ اسی طرح منگولوں نے تیرھویں صدی کے پہلے نصف میں چنگیز خان اور ان کے بیٹے کی قیادت میں خوارزم کو فتح کر لیا تھا۔ اس طرح انھوں نے ایک اور فارسی ریاست کا خاتمہ کردیا تھا۔ منگول فتوحات پر فتوحات حاصل کرتے بغداد جا پہنچے تھے اور انھوں نے عباسی خلافت کا خاتمہ کردیا تھا۔ منگول سلطنت کی تقسیم کے نتیجے میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے ایران میں ایلخانی (ایلخانان) سلطنت قائم کی تھی۔ ایک مرتبہ پھر ایران کا وجود تو برقرار رہا تھا لیکن حکمراں سیاسی نظام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بوریا بستر گول ہوگیا تھا۔

ایران شاید اب بھی اپنا وجود برقرار رکھے لیکن کوئی ہلکے سے اعتماد کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا موجودہ نظام بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا۔ تہران میں نظام کو اس وقت پہلی مرتبہ ایسے مشکل چیلنج درپیش ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور ان کے نتیجے میں اس کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔ پابندیاں ایران کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اس پر مزید پابندیوں کا بھی امکان ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ متعدد مرتبہ ان نئی پابندیوں کا عندیہ دے چکی ہے۔

امریکا نے اسی ماہ ایران سے تیل کے درآمد کنندگان کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کر دیا ہے۔ نتیجۃً اپریل کے بعد سے ایران کی تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم ہو کررہ گئی ہیں۔ وہ اس وقت پانچ لاکھ بیرل یومیہ یا اس سے بھی کم تیل برآمد کر رہا ہے۔ اب ترکی اور بھارت نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران سے خام تیل کی تمام برآمدات بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ایران کے ایک معروف ماہر اقتصادیات حسین راغفر نے 7 اپریل کو سرکاری خبر رساں ادارے ’ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی‘ ( ایسنا) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی 33 فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے اور چھے فی صد آبادی تو باقاعدہ قحط (بھوک) سے دوچار ہے۔ ایرانی پارلیمان کے تحقیقی مرکز نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں آیندہ بارہ ماہ کے اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کی 23 سے 40 فی صد تک آبادی جلد ہی خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگی۔

خود صدر حسن روحانی اپنی قوم کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں۔ انھوں نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ایرنا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا صورت حال (1980-88 کی) جنگ کے زمانے سے بہتر ہے یا بد تر ہے لیکن اس جنگ کے زمانے میں ہمارے بنکوں، تیل کی فروخت یا برآمدات اور درآمدات کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور صرف اسلحہ خرید کرنے پر پابندیاں عاید تھیں‘‘۔

درحقیقت یہ بنک، تیل کی فروخت یا درآمدات و برآمدات نہیں، جن پر صدر حسن روحانی کو مشوش ہونا چاہیے بلکہ یہ تو ’’انقلاب کے بچے‘‘ ہیں جن کا انقلاب سے تعلق کم زور پڑچکا ہے اور ان کی خواہشات بھی اپنے آباء ایسی نہیں ہیں جنھوں نے چالیس سال قبل سڑکوں پر آ کر شاہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔ حسن روحانی کو تو در اصل ان کے بارے میں تشویش لاحق ہونی چاہیے۔

نوجوان ایران کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ ایران کی آٹھ کروڑ بیس لاکھ ( 82 ملین) آبادی میں سے نصف سے زیادہ 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔وہ حکمراں نظام کی اشرافیہ کے پروپیگنڈے کو کم ہی قبول کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے میں سازشوں کا بیانیہ ہوتا ہے اور دنیا بھر میں ان کے بڑھتے ہوئے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف مقدس فتوحات اور متبرک جنگوں کی غوغا آرائی ہوتی ہے۔

اس طرح کے پروپیگنڈے کے سب سے بڑے تخلیق کار تو خود آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں خود ایک تاریخی مغالطے کو بیان کیا ہے۔ انھوں نے انقلاب کو ایک معجزہ قرار دیا جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کو انھوں نے ’تاریخی زَقَندیں‘ بھرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اسرائیلیوں کے دریائے نیل کو عبور کرنے کے واقعے اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات سے جا ملایا۔

بہت اچھا جناب خامنہ ای صاحب! مگر کتاب سفر الخروج ( کتاب الخروج) کے مطابق تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ بحیرہ احمر کو عبور کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مصر سے جانیں بچا کر آنے والے اسرائیلیوں کے لیے سمندر میں بارہ راستے بنا دیے تھے۔ اس کے بعد وہ جبلِ سیناء میں جا بسے تھے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر دس احکامات نازل ہوئے تھے۔

ایک جانب خامنہ ای اور نظام کی اشرافیہ نے اپنے پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات کی تبلیغ وتشہیر جاری رکھی ہوئی ہے، دوسری جانب بہت سے دلیر ایرانی سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے دنیا کو اپنے روزمرہ مسائل ومشکلات سے متعلق ہزاروں ویڈیوز دکھا رہے ہیں۔ وہ ان کے ذریعے اپنے پست معیارِ زندگی، اظہار رائے کی آزادی کے عدم موجود اور گرتی ہوئی معیشت کی عکاسی کر رہے ہیں۔

دراصل اس وقت ایران کے ساتھ موجودہ مڈبھیڑ میں شامل کوئی بھی فعال فریق نظام کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کررہا ہے اور نہ اس کا خواہاں ہے بلکہ یہ نوجوان ایرانی ہیں جو یہ مطالبہ کررہے ہیں۔ وہ کثیر الجہت مسائل اور زبوں حالی کے پیش نظر اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔

آج ایران میں مظاہروں کے دوران میں ’’مرگ بر آمر‘‘ کا نعرہ عام بلند کیا جاتا ہے۔ یہ نعرہ دراصل اس انقلاب کا عکاس ہے جو شاید بہت سے ایرانیوں کے دل ودماغ ہی میں مر گیا ہے۔ ان کے نزدیک نظام انھیں صرف خوش نما نعرے اور بلند بانگ دعوے ہی دے رہا ہے۔

امریکا کے چونتیسویں صدر ڈوائٹ ڈیوڈ آئزن ہاور نے ایک مرتبہ کہا تھا:’’ کوئی بھی دانش مند آدمی یا دلیر آدمی تاریخ کی پٹڑی پر مستقبل کی ٹرین کے انتظار میں پڑا نہیں رہتا ہے کہ وہ آئے اور اس کو کچل ڈالے‘‘۔

ایران اس وقت جس صورت حال سے دوچار ہے، اس کے تناظر میں جواد ظریف اور ان کے ملک کو خود ترحمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور آئزن ہاور نے جو کچھ کہا تھا،اس پر کان دھرنے چاہییں۔ جی ہاں! آئزن ہاور نہ صرف خود تاریخ سے آگاہ تھے بلکہ انھوں نے اس کو بنایا بھی تھا۔

____________

ندیم قطیش سیاسی طنّاز ، مبصر اور ایک ٹاک شو کے میزبان ہیں۔ان کا شو ’ڈی این اے ‘سوموار سے جمعہ تک العربیہ ٹی وی چینل سے نشر ہوتا ہے۔وہ اخبار الشرق الاوسط کے کالم نگار بھی ہیں۔وہ @NadimKoteich سے ٹویٹ کرتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند