تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی خواتین کی چیخیں اور میری چھوٹی بہن فرح
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 9 شوال 1440هـ - 13 جون 2019م KSA 22:09 - GMT 19:09
ایرانی خواتین کی چیخیں اور میری چھوٹی بہن فرح

عوامی مقامات پر کوڑے کھاتی ، معاشی طور پر پسماندہ اور سماجی طور پر دھتکاری ہوئی ،یہ میرے وطن ، ایران میں خواتین کی روزانہ کی تصویر ہے۔وہ اپنی حکومت کی نظر میں مردوں سے کم تر ہیں۔

روزانہ ہی اس حقیقت کو ان کہی چیرہ دستیوں ، پابندیوں اور توہین آمیز ناروا سلوک کی کہانیوں سے تقویت ملتی ہے۔شاید ان میں سب سے خوف ناک بچیوں سے ناروا سلوک کی داستانیں ہیں۔نو سال تک کی بچیوں کو ان کی عمر سے کئی عشرے بڑے مردوں سے جبری بیاہ دیا جاتا ہے۔جب میں ان چیرہ دستیوں کے بارے میں سنتی ہوں تو میں کچھ بھی مدد نہیں کر سکتی لیکن مجھے رہ رہ کر اپنی چھوٹی بہن فرح کا خیال آتا ہے۔

فرح کی عمر پندرہ سال ہے۔ وہ چاق چوبند ایتھلیٹ ، خوب صورت اور آزاد ہے۔اگرچہ وہ اس آخری لفظ کے بارے میں مدلل گفتگو کرے گی ۔ہر نوجوان لڑکی کی طرح اس کی ہماری ماں سے مستقل جنگ رہتی ہے ۔وہ خود پر تحدیدات کو چیلنج کرتی ہے۔

فرح کا نام ہماری دادی اماں کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ ایک قوت ہے جس کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔میں یہ بات بخوبی جانتی ہوں کہ اس میں اس قوت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے لیکن یہ سوچنا بھی دردآمیز ہے کہ اس کی تمام تر صلاحیتوں ،اس کی زندگی کو اس سے ایک نظام نے چھین لیا ہے۔اس نظام نے اس کو نِکو بنا دیا ہے۔اس کی اوائل عمری میں شادی کا تصور بھی محال ہے جبکہ وہ بلوغت کے دور سے گزر رہی ہے اور جذباتی اور جسمانی لحاظ سے بالغ ہورہی ہے۔

فرح کو اس کی دوستوں نے قبول کیا ہے،اس کے اساتذہ نے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے اور کامیابی کے لیے ہر موقع فراہم کیا ہے لیکن ذرا تصور کیجیے کہ اگر معاشرہ اسے پروان چڑھنے کا موقع فراہم نہ کرتا ،اگرا س کو جبری طور پر برقع اوڑھنے پر مجبور کیا جاتا اور اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی تو پھرا س کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا؟

فرح ایسے وقت میں پروان چڑھ رہی ہے جب مغرب میں خواتین مردوں کے مساوی ،مکمل برابری کی راہ میں حائل باقی ماندہ رکاوٹوں کو بھی دور کررہی ہیں۔جب ترقی کا یہ سفر جاری ہے تو ایسے میں ناگزیر ہے کہ ایران کی ان دلیر خواتین کی کہانیاں بیان کی جائیں جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اپنے وجود کو لاحق خطرات کا مقابلہ کررہی ہیں۔

ان مضبوط اور قابل فخر خواتین کو قانونی امتیازات ، معاشی ناانصافی اور سماجی قدغنوں کے ذریعے شکست دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔عالمی اقتصادی فورم کی 2018ء کی عالمی صنفی خلیج ( گلوبل جینڈر گیپ) رپورٹ کے مطابق صنفی مساوات میں دنیا کی 149 اقوام میں ایران کا 142 واں نمبر تھا۔اس رپورٹ میں دنیا کے ممالک کی صنفی مساوات کے لیے اقدامات اور پیش رفت کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے۔

ایرانی خواتین کو طلاق اور مساوی ورثے کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ایک شادی شدہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کرسکتی۔روزگار کی منڈی میں بھی ان کے ساتھ منظم انداز میں امتیاز برتا جاتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ ایرانی خواتین کو جامعات میں صرف بعض چنیدہ مضامین پڑھنے کی اجازت ہے اور وہ ان کے سوا دوسرے مضامین نہیں پڑھ سکتی ہیں حالانکہ جامعات میں ان کی تعداد 60 فی صد سے زیادہ ہے۔یعنی مرد طلبہ کے مقابلے میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔

فرح کا میری والدہ سے مجھ اور میری دوسری بہن ایمان سے الگ طرح کا تعلق ہے۔ہم تو بڑی ہوچکی ہیں مگرامی کو اس سے خاص طرح کا لگاؤ اور اُلفت ہے۔اگر فرح ایران میں جوان ہورہی ہوتی تو شاید وہ اس سال وہاں ہماری ماں سے محروم ہوجاتی کیونکہ وہاں خواتین کے لیے طبی سہولتوں کا فقدان ہے اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ایران میں خواتین کی صحت کا معاملہ حال ہی میں میری والدہ کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد سے زیادہ واضح طور پر اجاگر ہوا ہے۔انھوں نے اس مہلک مرض کے بارے میں آگہی کے لیے ایک مہم چلائی ہے۔

یوں تو ہرکسی کی ایک کہانی ہے لیکن ایران میں بسنے والی خواتین کی حقیقی معنوں میں بہت ہی دردناک کہانیاں ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے وہ مجھے یہ بتاتی ہیں کہ انھیں کن کن پابندیوں کا سامنا ہے۔ان سے کیا ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے ، یہ سب کچھ دل توڑنے والا ہے۔’’اخلاقی‘‘ پولیس خواتین کو ہراساں کرتی ہے ،انھیں ملازمتیں دینے سے انکار کیا جاتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے خاوندوں کے وقار کی توہین ہوسکتی ہے۔

لیکن ایران ہمیشہ ایسا نہیں رہا ہے۔عہد رفتہ میں خواتین پر ایسی پابندیاں عاید نہیں رہی تھیں ۔ایران میں اسلامی انقلاب سے قبل میرے دادا اور پَردادا نے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی تھیں اور خواتین کو وسیع تر حقوق دیے تھے اور ان کا تحفظ کیا تھا۔ان کے ویژن سے خواتین کی ایک نسل کی ترقی کو مہمیز ملی تھی۔ان میں سے بہت سی خواتین نے سنہ 1967ء اور 1975ء میں عائلی تحفظ قوانین کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کی جانب اہم اقدامات تھے۔

ان قوانین کے تحت مردوں کی ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی عاید کردی گئی تھی ،خواتین کو طلاق ( خلع) کا حق دیا گیا تھا اور خواتین کی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال مقرر کی گئی تھی۔1979ء کے بعد ان دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔دسمبر 2018ء میں بچیوں کی جبری شادی پر پابندی اور بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر تیرہ سال مقرر کرنے کی ایک قرارداد شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

ایران میں خواتین کے بنیادی حقوق کی منظم انداز میں خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، ان کی آزادی کو محدود تر کیا جارہا ہے اور ان کے فطری حوصلے اور مضبوطی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے۔فرح کی طرح کی ایرانی خواتین آزاد اور مضبوط ارادوں کی مالک ہیں۔اس لیے وہ ہر روز جبرواستبداد کی قوتوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گی لیکن انھیں اس کے لیے حمایت کی ضرورت ہے۔خواتین کے لیے زیادہ مساوات اور برابری کی مانگ کی موجودہ لہر صرف مغربی خواتین تک محدود نہیں رہ سکتی ہے۔یہ مطالبہ تمام خواتین کے لیے ہونا چاہیے۔

فرح کوجو حوصلہ افزائی ،آزادی اور سرپرستی حاصل ہے، تمام ایرانی خواتین اس کی حق دار ہیں۔اگرآپ توجہ دیں ، کان دھریں تو آپ لاکھوں، کروڑوں خواتین کو چلاتے ہوئے سنیں گے کہ وہ محفوظ نہیں ہیں لیکن یہ آوازیں سنی جانی چاہییں۔ کیا آپ سنیں گے؟
____________
شہزادی نور پہلوی ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کی بڑی بیٹی ہیں۔وہ کولمبیا یونیورسٹی ( امریکا) میں ایم بی اے کی طالبہ ہیں۔وہ ایک غیر منافع بخش سرمایہ کاری فنڈ آکمین کی مشیر کے طور پر بھی کام کررہی ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند