تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا جاگ جائے، لبنان کو حزب اللہ چلا رہی ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م KSA 20:06 - GMT 17:06
امریکا جاگ جائے، لبنان کو حزب اللہ چلا رہی ہے!

امریکا کے محکمہ خارجہ نے لبنانی وزیر خارجہ جبران باسیل کو گذشتہ ہفتے ایک کانفرنس میں گفتگو کے لیے مدعو کیا تھا۔ انھیں یہ دعوت اس حقیقت کے باوجود دی گئی تھی کہ ان کے حزب اللہ سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور امریکا نے 1995ء سے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ یہ دعوت نامہ امریکا کی لبنان کے بارے میں گمراہ کن پالیسی کا بھی غماز ہے اور وہ یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اس ملک کے ریاستی اداروں میں سرمایہ کاری دراصل حزب اللہ کی ریاست میں سرمایہ کاری ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جبران باسیل کو جس کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا،اس کا عنوان ’’مذہبی آزادی کے لیے پیش رفت پر وزارتی اجلاس‘‘ تھا۔ بہ الفاظ دیگر یہ مذہبی رواداری کے فروغ پر غور کے لیے اجتماع تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا، لبنان کے بارے میں گہرے الجھاؤ کا شکار ہے۔

جبران باسیل نے واشنگٹن کے لیے روانہ ہونے سے چندے قبل حزب اللہ کے سکیورٹی چیف اور اپنے قریبی تعلق دار وافق صفا سے ملاقات کی تھی۔ان صاحب پر امریکا نے حال ہی میں پابندیاں عاید کی ہیں۔ اس ملاقات میں لبنان کی نظامت عامہ برائے سکیورٹی کے سربراہ عباس ابراہیم بھی شریک تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ لبنان کے ریاستی اداروں اور حزب اللہ کے درمیان ڈھانچا جاتی سطح پر کیسی تال مال اور اکٹھ ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ باسیل کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں آگاہ ہے۔ واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے کی افشا ہونے والی خفیہ مراسلت کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے دورے پرآئے ہوئے لبنانی وزیر کو باور کرایا تھا کہ ’’ہم وزیر برائے امور خارجہ کے حزب اللہ کے بارے میں بیانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ لبنانی وزیر خارجہ یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں‘‘۔اس کیبل میں اس امید کا اظہار کیا گیا تھا کہ جبران باسیل سید حسن نصراللہ اور ان کے گروپ سے لاتعلقی اختیار کرلیں گے۔

اس سے قبل جب برطانیہ نے چند ماہ قبل حزب اللہ کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا تو جبران باسیل نے اس تنظیم کے حق میں بیانات جاری کیے تھے۔انھوں نے یہ قراردیا تھا کہ اس گروپ کو لبنان کے ریاستی ادارے اور تمام عوام قبول کرتے رہیں گے۔اس کے ایک ماہ کے بعد جبران باسیل نے بیروت میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ کھڑے ہوکر حزب اللہ کا دفاع کیا تھا اور بالاصرار یہ کہا تھا کہ ’’یہ ایک سیاسی جماعت ہے اور کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ہے‘‘۔

لبنانی وزیر خارجہ نے امریکا کی جانب سے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کو تسلیم کیا تھا اور ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ ان کی حکومت کے اس سے عدم اتفاق کو امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔

امریکا نے انھیں یا لبنان کو وسیع تر معنوں میں آمادہ کرنے کے لیے مشکل ہی سے کچھ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جبران باسیل اور ان کی حکومت کسی قسم کے مضمرات کے بغیر اپنا کام جاری رکھیں گے۔اسی لیے تو انھوں نے امریکی محکمہ خزانہ کے سینیر عہدے دار کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔

جبران باسیل کو حزب اللہ کا اتحادی ہونے کے ناتے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے سبوتاژ ہونے کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امریکا نے لبنان کے ریاستی اداروں میں سرمایہ کاری کی پالیسی اختیار کررکھی ہے اور وہ ان کا استحکام چاہتا ہے۔ لبنانی کسی جواز کے بغیر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکا بالآخر اس پالیسی کو جاری رکھے گا۔ چناںچہ حزب اللہ کے اتحادی لبنانی وزیر خارجہ نے بھی درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انھیں کچھ بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت تو ان کی محکمہ خارجہ کی دعوت پر امریکا میں موجودگی تھی۔

امریکا، دنیا کی واحد سپر پاور، ناقابلِ یقین حد تک خود کو اس بات کا قائل کرچکا ہے اور وہ لبنانیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ ان کا حزب اللہ کے مقابلے میں ایک ترجیحی شراکت دار ہے۔ لبنانی امریکی اشیاء وصول پا رہے ہیں اوران سے اس کے سوا کوئی مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے کہ حزب اللہ لبنانی بنکوں کو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔حزب اللہ بڑی دیدہ دلیری سے اور وسیع پیمانے پر ان بنکوں کو استعمال کررہی ہے۔ امریکا کی مالی مدد سے چلنے والی لبنانی فضائیہ سے خاموش بیٹھ رہنے یا داعش کے خلاف جنگ کے سوا کچھ بھی مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ لبنان میں امریکا کی سرمایہ کاری حزب اللہ کے کام آرہی ہے اور وہی اس سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا رہی ہے۔ سیاسی منظرنامے پر اسی کا غلبہ ہے۔

جبران باسیل ،جنھوں نے اپنے خسر کی طرح ملک کا صدر بننے کی بھی خواہش پال رکھی ہے،اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ حزب اللہ ہی لبنان کو چلا رہی ہے کیونکہ حزب اللہ کی منظوری کے بغیر ان کی خواہش حقیقت کا روپ دھار نہیں سکتی ہے۔ان کی طاقت کو صرف ایک وزارت یا پارلیمانی بلاک یا حکومتی بلاک تک محدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس کا روایتی منشور ہے۔

ماضی میں حزب اللہ اس طاقت کا عملاً بھی اظہار کرچکی ہے اور اس نے ملک کو کئی سال تک مضحمل کیے رکھا تھا۔اس نے حکومت کی تشکیل کے عمل کو دو سال تک معطل کیے رکھا تھا تاکہ وہ اپنے اتحادی مشعل عون کو ملک کا صدر منتخب کرا سکے۔ وزیر اعظم سعد الحریری کو استعفا دینے پر مجبور کیا اورانھیں2011ء میں ملک سے راہ فرار اختیار کر جانے پربھی مجبور کردیا۔ پھرانھیں اسی وقت واپس آنے کی اجازت دی تھی جب وہ حزب اللہ کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔حزب اللہ نے سکیورٹی کے شعبے میں عملاً فیصلہ سازی کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔عملہ کے تقرر اور تعیناتی کا معاملہ تو ایک طرف رہا۔ ملکی معیشت پر وہ اپنے بھرپور اثر ورسوخ کا مظاہرہ کر رہی ہے اور جب کبھی اس کو طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ اس سے بھی گریز نہیں کرتی ہے۔

لبنان پر حزب اللہ کی گرفت بہت مضبوط اور گہری ہے۔اس کی کمک اس کی خام طاقت ہے اور وہ اس کا آزادانہ استعمال کرتی رہتی ہے۔ اس کو دوسرے کرداروں اور اداروں کی بھی مدد وحمایت حاصل ہے اور ان ہی کے ذریعے وہ وزارتوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ مثال کے طور وزارت خزانہ پر حزب اللہ کی اتحادی امل تحریک کا کنٹرول ہے۔ لبنانی کابینہ میں اسی وزارت کو سب سے طاقتور سمجھا جاتا ہے۔

جبران باسیل ہی لبنان کے واحد اعلیٰ عہدہ دار نہیں، جنھوں نے حالیہ دنوں میں واشنگٹن کا دورہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امل تحریک کے ایک رکن پارلیمان علی بازی کی قیادت میں ایک وفد بھی اس شہر میں تھا۔ انھوں نے لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے دو ارکان کے خلاف امریکا کی حال ہی میں عاید کردہ پابندیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔علی بازی نے امریکا کی پابندیوں کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور انھوں نے حزب اللہ کو جارج واشنگٹن سے جا ملایا تھا۔

انھوں نے کہا:’’ جارج واشنگٹن نے آزادی اور حرّیت کے لیے برطانوی قبضے کے خلاف جنگ لڑی تھی اور میرے وطن میں بھی لوگ قبضے اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔

امریکا کے ایک عہدہ دار نے اپریل میں ایک اماراتی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’حزب اللہ اور امل تحریک، دونوں ایک ہیں‘‘۔ اس حقیقت کے باوجود تب واشنگٹن آنے والے لبنانی وزراء کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ امل تحریک کے سربراہ اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری پر کوئی پابندی عاید نہیں کی جائے گی۔

یہ اب معمول کا طریق کار بن چکا ہے۔ حزب اللہ کے اتحادیوں اور مخالفین کے وفود واشنگٹن میں آتے ہیں اور وہ حزب اللہ کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ ان پابندیوں کا زہر ختم کرنے کے لیے لابی کرتے ہیں اور لبنان کے بارے میں امریکا سے نرم روی اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔وہ لبنان کے لیے امریکا کی امداد جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں، خواہ وہ حزب اللہ ہی کے کام آرہی ہے۔ بہ الفاظ دیگر لبنانی حکومت حزب اللہ کا سفارتی بازو ہے۔

امریکا کی حزب اللہ اور لبنانی ریاست کے درمیان تمیز کے لیے دیرینہ پالیسی یقینی طور پر گم راہ کن ہے۔ جیسا کہ جبران باسیل کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات سے عیّاں ہے،یہ امتیازی تفریق یقینی طور پر غلط ہے۔ لبنان کے ریاستی اداروں میں سرمایہ کاری دراصل حزب اللہ کی ریاست ہی میں سرمایہ کاری ہے۔
____________

ٹونی بدران فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت میں ریسرچ فیلو ہیں۔ وہ ٹویٹر پر اس نام سے موجود ہیں: @AcrossTheBay.
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند