تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن میں جنگ داخلی معاملہ ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 11 ربیع الثانی 1441هـ - 9 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 29 محرم 1441هـ - 29 ستمبر 2019م KSA 16:05 - GMT 13:05
یمن میں جنگ داخلی معاملہ ہے!

بہت سے بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کار یمن میں جاری جنگ کو سعودی عرب میں مداخلت یا ایک فرقہ وار تنازع کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔اس بیانیے سے امریکی کانگریس بھی متاثر ہوئی ہے اور اس کے بعض ارکان نے اس مفروضے کی بنیاد پر قانون سازی کی کوشش کی ہے کہ یہ حوثیوں اور سعودی عرب کے مابین جنگ ہے اور یہ حوثیوں کی اپنے ہی ہم وطن یمنیوں کے خلاف جنگ نہیں ہے۔سعودیوں نے ( تو یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی دعوت پر)اس جنگ میں مداخلت کی تھی جبکہ حوثی اکثر فرقہ وار کارڈ کھیلتے رہتے ہیں لیکن ان دونوں بیانیوں سے حوثیوں اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے درمیان تنازع کی حقیقی عکاسی نہیں ہوتی ہے۔

اس کے بجائے یہ حالیہ جنگ حوثیوں اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان چھے داخلی تنازعات ہی کا تسلسل ہے۔حوثی ملیشیا اور علی صالح کے درمیان 2004ء سے 2010ء تک یہ چھے لڑائیاں لڑی گئی تھیں۔ داخلی سطح پر متشدد جھڑپیں اس کے بعد کے برسوں میں بھی جاری رہی ہیں اور یہ لڑائی سعودی عرب کے سرحدی علاقوں تک پھیل گئی تھی۔

دراصل سنہ 2000ء کے عشرے کے تنازعات کی جڑیں 1960ء کی دہائی میں جدید یمنی ریاست کے قیام میں پیوست ہیں۔یہ ریاست اپنی ادارہ جاتی صلاحیت کی ترقی میں ناکام رہی ہے جس سے تمام یمنیوں کو ریاستی اداروں تک رسائی کے مساوی مواقع مہیا ہوتے جبکہ اس کے بجائے اختیار واقتدار ایک محدود اشرافیہ تک محدود و مرتکز ہوکر رہ گیا۔

یمن کی ان مسائل کو حل نہ کرنے کی عدم صلاحیت ہی نے متشدد تنازعات ، بغاوتوں اور سول نافرمانی کے خطرات کو جنم دیا۔خلاصہ یہ کہ یمن کے داخلی استحکام کولوگوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی طور پر دیوار سے لگانے اور سماجی اور اقتصادی سطح پر محدود کرنے سے نقصان پہنچا ہے۔ حوثیوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن ان کی باغیانہ روش محض فرقہ وار نوعیت کی نہیں تھی کیونکہ بہت سے زیدی شیعہ ان کے پیغام کو مسترد کرتے ہیں۔وہ انھیں انارکی پھیلانے والے غیر جمہوری عناصر قرار دیتے ہیں جبکہ بہت سے اہلِ سُنت بھی ان کے غیر فرقہ وار تحفظات کی تائید کرتے ہیں۔

حوثیوں نے دراصل ہادی حکومت کے فعال نہ ہونے اور کم زور ملکی معیشت پرعوام میں پائی جانے والی مایوسی کا فائدہ اٹھایا تھا اور ستمبر 2014ء میں انھوں نے دارالحکومت صنعا پر چڑھائی کردی تھی۔ان کی تیز رفتار پیش قدمی میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی مدد ومعاونت بھی کارفرما تھی کیونکہ علی صالح اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔حوثیوں نے حکومت کی جانب سے ایندھن پر دیے جانے والے زرتلافی کے خاتمے کے منصوبے کی عوامی مخالفت سے خوب فائدہ اٹھایا اور یمنیوں سے اشرافیہ کی بدعنوانیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا۔بس ان نعروں کے ساتھ انھوں نے صنعاء میں ہادی حکومت کا تختہ الٹ دیا، سرکاری اداروں ، وزارتوں اور دفاتر پر وہ قابض ہوگئے اور صدر منصور ہادی ملک سے راہِ فرار اختیار کرکے سعودی عرب میں مقیم ہونے پر مجبور ہوگئے۔

لیکن حوثی بہت جلد ہی اپنے اعلان کردہ اصلاح پسند ایجنڈے سے دستبردار ہوگئے اور انھوں نے بہ زور طاقت پورے ملک پراپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے بعد کے واقعات سے یمن کو آج درپیش تنازع کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

امریکا کی تب اوباما انتظامیہ کے ساتھ سعودی بھی یمن میں 2014ء کے خزاں کے بعد بگڑتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔سعودی عرب کو ایک جانب تو منصورہادی کی حکومت سے متعلق مایوسی لاحق تھی۔اس کے ساتھ یمن میں بڑھتی ہوئی طوائف الملوکی اور اپنی جنوبی سرحدوں پر عدم استحکام سے بھی اس کی تشویش دو چند ہوگئی تھی۔

سلامتی کی ان تشویشوں کے پیش نظر ہی سعودی عرب یمن میں مداخلت پر مجبور ہوا تھا۔جدید سعودی ریاست کے اوائل ایام میں بھی سعودیوں نے یمن کی مذہبی امامت، امام یحییٰ کے زیرِ قیادت زیدی شیعہ کی ریاست کے ساتھ سرحد پر مختصر جنگ لڑی تھی۔ یہ تنازع معاہدہ طائف طے پانے پر ختم ہوا تھا۔ اس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کا تعیّن کیا گیا تھا اور پھر سنہ دو ہزار میں جدہ میں طے شدہ معاہدے میں سرحدوں کی ازسرنو حد بندی کی گئی تھی۔اس کے تحت تین سرحدی صوبوں عسیر ، جازان اور نجران کا کنٹرول سعودی ریاست کے حوالے کردیا گیا تھا۔

بعد کے برسوں میں سعودی عرب کو یمن میں جاری عدم استحکام کے اپنی سرحدوں تک درآنے کے حوالے سے مسلسل تشویش لاحق رہی تھی۔ 1960ء کی دہائی میں سعودی عرب نے زیدی امامت کی ری پبلکن فورسز کے ساتھ خانہ جنگی کی حمایت کی تھی۔ری پبلکن فورسز نے 1962ء میں زیدی امامت کے خلاف بغاوت برپا کردی تھی کیونکہ سعودی عرب یمن کی مصر کے پان عرب ازم سے وابستگی پر نالاں تھا اور وہ مصری صدر جمال عبدالناصر کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔سعودی عرب نے بعد کے برسوں میں یمن میں سیاست دانوں اور قبائلی زعماء کے ساتھ روابط استوار کر لیے تھے۔ سعودی عرب نے بالخصوص شمالی صوبہ عمران سے تعلق رکھنے والے شیخ عبداللہ بن حسین الاحمر سے تعلقات قائم کیے تھے۔وہ یمن کے طاقتور قبیلے حاشد کی فیڈریشن کے سربراہ تھے۔

شیخ عبداللہ الاحمر سیاسی جماعت اصلاح کے قائد تھے اور وہ علی عبداللہ صالح کے دورِ حکومت میں یمنی پارلیمان کے اسپیکر رہے تھے۔انھوں نے حوثیوں کے مقابلے میں صالح حکومت کی حمایت تھی۔اس پر بعض زیدیوں نے ان کےخلاف سخت ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔

حوثیوں کے صنعاء میں 2014ء میں یمنی حکومت کے اداروں پر کنٹرول کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہوا تھا۔اس پرسعودی عرب یمن کے بارے میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ وہ ایران کے جزیرہ نما عرب کا گھیراؤ کرنے کے منصوبے کا حصہ بن گیا ہے۔وہ ایران نواز نظاموں کے ذریعے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔اس خدشے کو سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے لیڈر کے اس بیان سے بھی تقویت ملی ہے کہ’’یمن میں جنگ کی جیت سے مشرقِ اوسط میں طاقت کے توازن کو وضع کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘ چناں چہ سعودی اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ یمن سعودی مملکت کے لیے ایک وجودی خطرہ بن گیا ہے۔

عالمی برادری اس تنازع کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی المیے پر مایوس ہو کر اب بیرونی کرداروں پر مسلسل اپنی توجہ مرکوز کررہی ہے لیکن یمن کے مسائل کو صرف اندرونی طور پر ہی طے کیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ یمنیوں نے بہ ذات خود بھی پہلے 2011 ء ، پھر 2013ء اور 2014ء میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس تنازع کی حقیقی جڑ ،بنیاد کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور وہ سیاسی بے دخلی اور سماجی اقتصادی طور پر لوگوں کو دیوار سے لگانا ہے۔اس ملک میں عشروں تک یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔اگر عالمی برادری یمن میں جاری بحران کا حل چاہتی ہے تو وہ مثبت کردار ادا کرے اور گذشتہ ساٹھ سال سے جاری تنازع کے پائیدار حل کی حمایت کرے۔

_______________________

جیرالڈ فیئر اسٹین یمن میں امریکا کے سابق صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں سفیر رہے تھے۔وہ ستمبر 2010ء سے اکتوبر 2013ء تک صنعاء میں متعیّن رہے تھے۔اس کے بعد وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک محکمہ خارجہ میں مشرقِ قریب امور کے پرنسپل ڈپٹی اسٹنٹ سیکریٹری رہے تھے۔اس وقت وہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں سینیر نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند