تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خاشقجی قتل کیس کا فیصلہ:اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 10 ربیع الثانی 1442هـ - 26 نومبر 2020م
آخری اشاعت: بدھ 27 ربیع الثانی 1441هـ - 25 دسمبر 2019م KSA 21:07 - GMT 18:07
خاشقجی قتل کیس کا فیصلہ:اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا!

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل ہماری نسل کے سب سے سنگین جرائم میں سے ایک ہے۔اس کے مرتکبین انتہائی سفاک ہیں۔جو لوگ اس پر اپنا دفاع کررہے ہیں، ان کا بھی انسانیت سے کوئی علاقہ نہیں۔

اس جرم سے جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہ ان کا خاندان ہے اور اس کی نمایندگی ان کے بیٹے کرتے ہیں۔وہ ایک سال تک اپنے والد کے سفاکانہ انداز میں قتل کی خوف ناک تفصیل سنتے اور اس پر صدمہ برداشت کرتے رہے ہیں۔ وہ جس صدمے اور مصیبت دوچار ہوئے ہیں، مجھے اس پر ان سے گہری ہمدردی ہے۔اب وہ اس باب کا خاتمہ چاہتے ہیں۔چناں چہ سعودی عدلیہ کے فیصلہ کی اشاعت کے فوری بعد صالح خاشقجی نے ٹویٹر پر لکھا کہ وہ اوران کا خاندان اس فیصلے سے مطمئن ہے۔

مقتول کے دوسرے بیٹے نے بھی اس کی تائید کی ہے اور انھوں نے بھی صالح کے بیان کو دوبارہ ٹویٹ کیا ہے۔صالح کی ٹویٹ توقع کے عین مطابق تھی۔انھوں نے ہرکسی سے اپیل کی ہے ، خواہ وہ ان کے ہمدرد ہیں یا سعودی حکومت کے ناقد،کہ آگے بڑھیے۔جمال خاشقجی کا خاندان اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ انھیں اب امن چین سے رہنے دیا جائے۔وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے والد کیا چاہتے تھے۔ مقتول نے سعودی قیادت پر اپنی تنقید کو کبھی نہیں چھپایا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہی وہ سعودی قوانین کے بھی پابند تھے۔

میں ذاتی اور نطریاتی طور پر کڑی سزا کا مخالف ہوں لیکن خاشقجی سزائے موت کے مخالف نہیں تھے۔یہ اور اس طرح کی بہت سے باتوں سے مجھے جمال خاشقجی سے اختلاف تھا۔

اب جمال خاشقجی کے قاتل قصور وار قرار پائے ہیں اور انھیں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ان کے خاندان نے اس فیصلے کی تائید کی ہے اور کوئی بھی ان پر اپنی اخلاقی برتری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے اور نہ کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ جمال خاشقجی سے ان کے اپنے خون کے رشتوں سے زیادہ قریب ہے۔ہم اس وقت یہیں پر ہیں۔

مجھے مسٹر خاشقجی کے خاندان سے گہری ہمدردی ہے اور ان کی اس خواہش کا بھی مجھے احترام ہے کہ اب یہ معاملہ ختم ہوجانا چاہیےلیکن اس کے ساتھ مجھے ان لوگوں کے رویّے پر افسوس ہے جوان کی موت کو اپنے سیاسی مقاصد کی غرض سےملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں اور اس حقیقت کو نظر انداز کررہے ہیں کہ جمال خاشقجی اپنے وطن سے محبت کرتے تھے اور ان کا خاندان بدستور وہیں رہ رہا ہے مگر وہ اس انسانی المیے کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

عدلیہ نے اپنے الفاظ میں جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا ہے۔محض سیاسی بنا پر اگر اس کے فیصلے کو مسترد کیا جاتا ہے تو یہ ایک انتہائی خطرناک مثال ہوگی اور اس کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے،اور وہ یہ کہ مملکت کے استحکام اور اس میں روبہ عمل میں آنے والی اصلاحات کو نقصان پہنچایا جائے۔

جمال خاشقجی کے خاندان کو تحقیقات اور مجرموں کوسزا سنائے جانے تک اس مقدمہ میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیل سے مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔انھوں نے جو کچھ ملاحظہ کیا ہے،اس سے وہ غیرمتزلزل انداز میں مطمئن ہیں۔سعودی عدلیہ ان غیرملکی سیاسی قوتوں یا پنڈتوں کو جوابدہ نہیں جن کی نظریاتی یا دوسری وجوہ کی بنا پر یہی خواہش ہے کہ یہ کیس کھلا رہے اور تادیر چلتا رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قتل سے سعودی عرب کی شہرت اور تشخص کو ناقابل نقصان پہنچا ہے۔ملک اس وقت غیر معمولی اور بے مثال اصلاحات کے عمل سے گزررہا ہے،اس کے لیے ملک میں معمول کے حالات ناگزیر ہیں۔ان اصلاحات کے تحت ذاتی آزادیاں مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے معرض خطر میں نہیں ہوں گی۔

سعودی حکومت مملکت کو غیرملکی زائرین،سیاحوں اور سرمایہ کاروں، دونوں کے لیے کھولنے کی غرض سے سخت جدوجہد کررہی ہے۔ یہ پیش رفت عام سعودیوں کے لیے نہ صرف ایک طویل عرصے سے ناگزیر تھی بلکہ یہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

جمال خاشقجی کے کیس کو سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے لیے کھلا رکھنے کی کوششیں ایک بچکانہ حرکت اور تجزیے کی غماز ہیں۔ایسا کوئی تجزیہ تعلقات عامہ کی تو مشق ہوسکتا ہے لیکن اس کو عدالتی فیصلے پر مناسب تبصرہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔اس سے اصلاحات کے مخالف مذہبی انتہا پسندوں ہی کے مقاصد کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ سعودی عدلیہ پر جو لوگ ارادی طور پر یا ویسے ہی حملہ آور ہیں، وہ مملکت کے خلاف اپنے دوسرے نظریاتی محرکات یا اسباب کی بنا پر بھی اپنی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔پہلے ان کے پاس جمال خاشقجی کا قتل کیس ایک بہانہ تھا۔ اب اس کا فیصلہ آچکا ہے ،قاتلوں کو سزا سنائی جاچکی ہے اور ان کے خاندان نے اس فیصلے کو قبول کرلیا ہے۔اس لیے اب یہ بہانہ قابلِ جواز نہیں رہا ہے۔

جمال خاشقجی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس چیز کا احترام کیا جائے جو ان کا خاندان چاہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سعودی عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کیاجائے اور آگے بڑھا جائے۔
____________

غانم نسیبہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشہور نسیبہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ دبئی اور لندن میں رہتے ہیں اور لندن میں قائم ایک کنسلٹنسی فرم کارنراسٹون گلوبل ایسوسی ایٹس کے بانی ہیں۔وہ برطانیہ ہی میں قائم ایک اور غیر منافع بخش تنظیم Muslims Against Anti-Semitism کے چئیرمین ہیں۔
ان کا ٹویٹرکا پتا یہ ہے:@gnuseibeh
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید