تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں برقی تجارت کے قانون سے نئے دَر وا ہوں گے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 5 ربیع الاول 1442هـ - 22 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: منگل 8 رجب 1441هـ - 3 مارچ 2020م KSA 18:54 - GMT 15:54
سعودی عرب میں برقی تجارت کے قانون سے نئے دَر وا ہوں گے!

سعودی عرب میں گذشتہ سال اکتوبر میں متعارف کردہ ای کامرس (برقی تجارت) کے نئے قانون سے نئے در وا ہوں گے اور سعودی عرب برقی تجارت کے ایک علاقائی مرکز کے طور پر اُبھرے گا۔اس کی قیادت ٹیکنالوجی کی رسیا اورماہر آبادی کرے گی جو ڈیجیٹل تجربات کی سکیورٹی کی خواہاں ہے۔

سعودی عرب میں انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد خطے بھر میں سب سے زیادہ ہے۔حالیہ اعدادوشمار کے مطابق 2018ء میں سعودی عرب کی 74۰81 فی صد آبادی انٹرنیٹ استعمال کررہی تھی۔2023ء میں یہ تعداد بڑھ کر 96۰44 فی صد ہوجائے گی جبکہ سعودی عرب میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 94 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ 13 لاکھ ہوجائے گی۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سعودی عرب کو دنیا کے ای کامرس میں تیزرفتار ترقی کرنے والے دس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کی سالانہ شرح نمو 32 فی صد سے زیادہ ہے۔

اس نئے قانون کا اطلاق سعودی عرب میں رجسٹر پلیٹ فارموں کے علاوہ غیر اندراج شدہ ان تمام کاروباروں اور افراد پر بھی یکساں طور پر ہوتا ہے جو سعودی صارفین کو مصنوعات اور خدمات مہیا کرتے ہیں۔صارفین کا اعتماد بڑھانے کے لیے یہ ایک نمایاں قدم ہے۔یہ قانون صارفین کو فراڈیے کاروباریوں سے تحفظ مہیا کرتا ہے،ان کے ڈیٹا میں نقب زنی نہیں ہوتی اور برقی پرچون کے ماحول میں دوسری عام غلط کاریوں کا بھی سدباب ہوگا۔

سعودی حکومت ڈیجیٹل رقوم کی ادائی ،لائسنسوں کے اجراء کو معقول بنانے اور ای کاروبار کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے،ان میں کم لاگت کے کاروباری سیٹ اپ اور آزمائشی بنیاد پر ای کامرس کے سوفٹ وئیر کی فراہمی شامل ہیں۔

یہ قانون سعودی عرب کی ای کامرس مارکیٹ کے لیے ایک جامع نظام مہیا کرتا ہے،یہ نہ صرف ریٹیل کے شعبہ کی ترقی کا راستہ مہیا کرے گا بلکہ یہ سعودی عرب کی معیشت کو ویژن 2030ء کے تحت متنوع بنانے کے عمل میں اہم حصہ ڈالے گا اور اس کا مملکت کی معیشت میں حصہ قریباً 80 فی صد تک ہوگا۔

ای کامرس کی ترقی میں رقوم کی ڈیجیٹل ادائی کا کردار

ای کامرس کی طرح رقوم کی ڈیجیٹل ادائی سعودی عرب کے جامع اصلاحات کے منصوبہ 2030ء کا ایک اہم حصہ ہے۔سعودی عرب نے 2030ء تک ای پے منٹ کا 70 فی صد ہدف مقرر کیا ہے اور اس کو توقع ہے کہ وہ یہ ہدف حاصل کرلے گا۔

سعودی عرب ٹیکنالوجی کے عالمی اداروں اور مقامی بنکوں کے ساتھ مل کر قومی ادائیوں کا ایک محفوظ ڈھانچا تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے۔مملکت بھر میں رقوم کی ڈیجیٹل ترسیل اور ادائی کو توسیع دینے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔ سعودی عرب میں دوبدو ٹاکرے کے بغیر رقوم کی ادائی اور موبائل والٹس ،ایپل پے اور مدا پے وغیرہ کی جانب زیادہ سے زیادہ لوگ راغب ہورہے ہیں۔ادائی کی ان شکلوں تک رسائی ،برقی تجارت اور موبائل کامرس کی سعودی عرب میں بے مثال ترقی متوقع ہے۔

اب کہ آن لائن خریداری کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے یا وہ اِن اسٹور بھی اپنے موبائل فونز استعمال کررہے ہیں تو ایسے میں کسی رکاوٹ اور پریشانی کے بغیر محفوظ ڈیجیٹل پے منٹ کا تجربہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔اس چیلنج سے نمٹنے میں ٹوکن ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ٹوکن کار ٹیکنالوجی کا موبائل والٹس اورآن لائن رقوم کی ترسیل کو قابل عمل بنانے میں اہم عمل دخل ہے۔اس کے ذریعے اکاؤنٹ کی حساس معلومات کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر 16 عدد کے اکاؤنٹ نمبر کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناختی علامت کے ساتھ تبدیل کیا جاسکتا ہے اور یہی ٹوکن کہلاتا ہے۔

اس ٹوکن کاری کے ذریعے رقوم کی ترسیل حقیقی اکاؤنٹ کی تفصیل کو ظاہر کیے بغیر کی جاسکتی ہے کیونکہ حقیقی اکاؤنٹ کی تفصیل کو کوئی چوری کرسکتا ہے یا اس میں جعل سازی کی جاسکتی ہے۔ٹوکن کاری آن لائن پرچون فروشوں کو رقوم کے لین دین کا ایک جدید اور محفوظ طریقہ مہیا کرتی ہے۔جیسا کہ ٹوکن کار کارڈوں کو فائل پر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔اس سے آن لائن خریداری کرنے والوں کو بھی کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر باسہولت تجربہ ہوگا۔

3 ڈی ٹیکنالوجی تاجروں اور جاری کنندگان کو ای کامرس کی مجاز ترسیلات زر کے لیے ایک محفوظ تہ مہیا کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا نیا 2۰0 ورژن تاجروں اور جاری کنندگان کو کارڈ کے حامل کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے زیادہ محفوظ ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔اس طرح ہر خریدار کو کسی پاس ورڈ کے ساتھ تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

مزید برآں ای کامرس میں رقوم کی ادائی کے لیے ای ایم وی سکیور ریموٹ کامرس نامی اقدام سے ویب گاہ، موبائل سائٹس اور موبائل ایپ پر کارڈ سے ادائی مزید سہل اور آسان ہوجائے گی۔رقوم کا یہ نیا قابلِ عمل حل اس سال کے آخر میں عالمی سطح پر دستیاب ہوگا۔اس سے تاجروں کو شاپنگ کارٹ میں کمی لانے میں مدد ملے گی اور ایک مربوط اور سہل نظام کے ذریعے مختلف النوع کے کارڈ ڈیجیٹل خریداری پر ادائی کے لیے دستیاب ہوں گے۔

مستقبل میں ڈیجیٹل کامرس کے لیے ویژن یہ ہے کہ نیا بٹن موجودہ ’’گیسٹ چیک آؤٹ‘‘ عمل کی جگہ لے گااور یہ ٹیکنالوجی اس ہدف سے بالکل درست طور پر مربوط ہوگی۔

سعودی عرب کے معاشی مستقبل میں ای کامرس کا مقام

جیسے جیسے ڈیجیٹل صارفین کے کردار اور ترجیحات کا تعیّن ہورہا ہے،اسی طرح ٹیکنالوجیز ، خدمات اور قواعد وضوابط کا بھی ارتقا ہونا چاہیے کہ جو ای کامرس کو تقویت فراہم کریں۔

اس تناظر میں سعودی عرب اپنے ای کامرس کے اہداف کے حصول کے لیے درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔اس کے یہاں رقوم کی ڈیجیٹل ادائی کو اختیار کرنے کے عمل میں تیزی آرہی ہے یا مارکیٹ کی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنایا جارہا ہے اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جارہا ہے۔یوں سعودی مملکت نے واضح طور پر ای کامرس کی ایک ترقی پذیر مارکیٹ کی راہ کا واضح طور پر ادراک کرلیا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند