تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شیعہ ہلال: امریکا کے لیے مشرقِ اوسط میں بڑا چیلنج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 21 رجب 1441هـ - 16 مارچ 2020م KSA 22:25 - GMT 19:25
شیعہ ہلال: امریکا کے لیے مشرقِ اوسط میں بڑا چیلنج

مشرقِ اوسط میں درپیش آج بہت سے ایشوز امریکا کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان میں سب سے بڑا اور خطرناک نام نہاد شیعہ ہلال اور تہران کے ملّاؤں کا ضرر رساں کردار ہے جو خطے کے تمام شورش زدہ علاقوں میں بروئے کار ہے۔

ایران کے انقلابی نظام (رجیم) کے قائدین نے خطے میں موجودہ بدامنی کو دوام بخشنے کے لیے اپنے قومی سرمائے ۔۔۔ وقت، دولت اور اہلکاروں ۔۔۔ کو جھونکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ دراصل اس طرح وہ اپنا اثرورسوخ پھیلا رہا ہے۔ یہ ہلال ایک تزویراتی مرکز ثقل ہے۔ ایرانی نظام اور سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے نزدیک شیعہ ہلال کی تعمیر ،اس کو برقرار رکھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا ان کی سب سے بڑی کاوش کا مظہر ہے۔

یہ شیعہ ہلال ہے کیا؟ یہ لبنان ، شام ، عراق اور یمن پر مشتمل علاقہ اور ان ملکوں کی شیعہ آبادی ہے۔اس کی قیادت خود ایران کرتا ہے اور اس میں حزب اللہ ، حماس ، حوثی اور جنوبی عراق کی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں۔یہ لوگ اور علاقے مشرقِ اوسط میں اکثریت کی حامل سُنی مسلم دنیا میں ایک حد فاصل قائم کرتے ہیں اور ان کے ذریعے ایران کو خطے بھر میں داخلی لائنوں کو بروئے کار لاکر روایتی فوجی کارروائیوں، دہشت گردی اور رقوم کی ترسیل کا موقع مل جاتا ہے۔

پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اس ہلال کے موجد وبانی تھے۔انھوں نے کم وبیش تن تنہا ہی تعلق داریوں اور اتحادوں کا ایک نیٹ ورک تشکیل دیا تھا جس کی بدولت ایران کو ایک جانب وسیع تر اثرورسوخ قائم کرنے اور دوسری جانب امریکا اور ہمارے اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا موقع مل گیا۔ایرانیوں نے انکار،تقیہ، پُراسراریت اور سیدھے سبھاؤ جھوٹ کے ذریعے تخریب اور موت کے بیج بوئے اور پھر وہ بڑی سادگی سے اپنے کندھے اُچکاتے ہوئے چلتے بنے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس امریکا اور مغرب کے ساتھ براہ راست محاذآرائی کے لیے روایتی طاقت ناکافی ہے لیکن اس طرح کے غیر روایتی ہتھکنڈے اور حربے ان کے لیے بڑے شاندار انداز میں اپنا کام دکھا رہے ہیں۔

مختلف خطوں میں بہت سی اقوام تزویراتی لحاظ سے اپنے لیے اہمیت کے حامل اتحاد اور طاقت کے بلاک تشکیل دینی کی کوشش کرتی ہیں۔مشترکہ جامع لائحہ عمل کے نام سے معروف ایران کے جوہری سمجھوتے کے سقوط کے بعد ملّاؤں نے قاسم سلیمانی کو نہ صرف علاقائی طاقت کے قیام پر اکسایا بلکہ اس سمجھوتے کو تہس نہس کرنے کی بھی ترغیب دی تھی۔

اپنے آلہ کاروں کو فعال انداز میں مال واسباب مہیا کرنا ایک چیز ہے لیکن ان آلہ کاروں کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر لڑنے یا ان کی قیادت کرنے یا ان کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے مسلح خصوصی اہلکاروں کو بھیجنا دوسرا معاملہ ہے۔ایسی تمام کوششیں کسی سفارت کاری کی آئینہ دار نہیں ہیں بلکہ یہ جنگی کارروائیاں ہیں۔ایران کی القدس فورس از خود وضع کردہ زون میں کام کررہی ہے۔اس کے ہم پلہ ماضی میں سابق سوویت یونین کی اسپیت ناز رہی ہے۔اس کا کام کیا ہے،دہشت گردی کی کارروائیاں، قتل ، جدید بارودی سرنگیں مہیّا کرنا اور علاقے کی شکل وصورت اس طرح بنانے کے لیے مسلسل کام کرنا جو تہران کا باجگزار یا رہینِ منت ہو اور ایران تویہی چاہتا ہے کہ اس کے ہمسایوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

اوباما انتظامیہ کی ایرانیوں سے مذاکرات کی کاوشیں احمقانہ تھیں۔تب امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری اور ان کی ٹیم میں کوئی تال میل نہیں تھی۔تب سابق امریکی وزیر دفاع اور میرین کور کے جنرل جیمز میٹس کو اس قول کی یاددہانی کرانی چاہیے تھی:’’ فارسیوں( ایرانیوں) نے گذشتہ ایک ہزار سال میں کوئی جنگ نہیں جیتی ہے،انھوں نے اس عرصے کے دوران میں کوئی مذاکرات بھی نہیں ہارے ہیں۔‘‘

ایک شیعہ ملک کے واشنگٹن میں سفیر نے بھی اس قول کا اعادہ کیا تھا۔ان سے جب جوہری سمجھوتے پر مذاکرات کے دوران میں سوال کیا گیا تھا تو وہ یوں گویا ہوئے تھے:’’آپ امریکی فارسیوں سے مذاکرات کیوں کررہے ہیں؟ان سے مذاکرات میں کوئی نہیں جیتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ جیت جاتے ہیں۔‘‘

جان کیری اپنے منصب کے مطابق صلاحیت کے حامل نہیں تھے، بس انھیں سواری کا موقع مل گیا۔امریکی بظاہر ایک ڈیل کے لیے مرے جارہے تھے (وہ تب اوباما کا ورثہ تشکیل دے رہے تھے)اس صورت حال میں ایرانی اپنے مطالبات بڑھاتے چلے گئے۔انھوں نے یہ سب کچھ حاصل کر لیا اور کروڑوں ڈالر کی نقدی اس پر مستزاد تھی۔ایران کو پھر یہ تشویش بھی لاحق تھی کہ اس کی جیتی ہوئی فتح کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واپس لے سکتے ہیں۔

اس تناظر میں انھوں نے پورے خطۂ ہلال میں فعال انداز میں تخریبی کارروائیاں شروع کردیں اور یہ قاسم سلیمانی کی موت پر منتج ہوئی تھیں۔ایرانی ایک مرتبہ پھر ہکا بکا رہ گئے کہ امریکا قواعد وضوابط کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔

یہ سُنیوں کو شیعوں یا عربوں کو ایرانیوں پر ترجیح دینے کا معاملہ نہیں ہے۔سادہ الفاظ میں یہ دوستوں کو دشمنوں پر ترجیح دینے کا معاملہ ہے اور اس فریق کو ترجیح دینے کا معاملہ ہے جس پر امریکا زیادہ اعتماد کرسکتا ہے۔

تہران کے ملّاؤں پر کسی بھی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری سمجھوتے کی تنسیخ میں ہزیمتوں اور شیعہ ہلال میں اپنے ہرکارہ اوّل کے کھوجانے کے باوجود ایرانی ابھی تک متحرک اور فعال ہیں۔یہ ہلال ابھی تک زندہ ہے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔اس بڑے چیلنج سے عزم اور قوت کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔
___________________
اسٹیون پی بوچی نے تین عشرے تک امریکا کی آرمی میں خصوصی فورسز افسر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں اور پینٹاگان کے اعلیٰ عہدہ دار رہے تھے۔اس وقت وہ ہیرٹیج فاؤنڈیشن میں وزیٹنگ ریسرچ فیلو کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کا ٹویٹراکاؤنٹ یہ ہے:@SBucci.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند