تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کالی موت سے کرونا وائرس تک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 3 جمادی الثانی 1442هـ - 17 جنوری 2021م
آخری اشاعت: بدھ 21 شعبان 1441هـ - 15 اپریل 2020م KSA 15:55 - GMT 12:55
کالی موت سے کرونا وائرس تک

قرون وسطیٰ کے آخری حصے میں یورپی اقوام کو ان گنت مسائل کا سامنا تھا۔ایک طرف قدرتی آفات جیسے قحط سالی اور بیماریاں تھیں اور دوسری جانب باہمی جنگیں۔ چودھویں صدی کی شروعات تھی جب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ مہلک وبا کالی موت (Black Death) کی چین سے ابتدا ہوئی۔ وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی گردن، بغل یا ٹانگوں میں گلٹی نکلتی تھی، بخار اور نقاہت کی علامات کے ساتھ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی تھی اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہوجاتی تھی۔

کالی موت کی وبا اکتوبر 1347ء میں تاجروں کے ذریعے سسلی (اٹلی) پہنچی اور کم و بیش ایک سال کے قلیل عرصے میں اسپین، فرانس، برطانیہ، پرتگال، جرمنی اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔اس وقت یورپ کی آبادی آٹھ کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ اس میں سے 1351ء تک (محض چار سال میں) پانچ کروڑ لوگ وبا کے ہاتھوں مارے گئے۔ گویا مُردوں کی تعداد زندہ لوگوں سے زیادہ تھی۔ زمین میں گڑھے کھود کر لاشوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا جاتا تھا اور اجتماعی تدفین ہوتی تھی۔

یورپ میں کالی موت کی وبا اٹلی سے شروع ہوئی تھی، اس لیے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں وہی سرفہرست تھا۔کالی موت نے مسلمانوں کے زیرنگیں علاقوں کو بھی نہ چھوڑا۔ قاہرہ جسے اس وقت اسلامی دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، بہت بری طرح متاثر ہوا۔ مصر کی آبادی کا 40 فی صد حصہ وبا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ وبا نے 1349ء میں دوسرے بے شمار علاقوں کے ساتھ مکہ مکرمہ، موصل اور بغداد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چشم فلک نے ایک عظیم انسانی بحران کا مشاہدہ کیا۔اطباء نے وبا کے متعدی ہونے کی وجہ سے مریضوں کے علاج سے انکار کر دیا۔ بازار اور راستے لاشوں سے اٹ گئے۔ محتاط اندازوں کے مطابق یورپ اور ایشیا (Eurasia) میں کالی موت سے بیس کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

زمانے بیت گئے۔ کالی موت کی جاں سوز و جہاں سوز آزمائش ٹل گئی۔ آج ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ تب انسان زمین پر چلتا تھا اب ہوا میں اڑتا ہے۔تب آدمیت کے پیمانے وضع ہو رہے تھے،اب تہذیب و ترقی کا عروج ہے۔ تب روزگار کے لیے لوگ جنگلوں اور بیابانوں میں خاک چھانتے تھے،اب فطرت کے رازوں سے جان کاری کے دعوے دار ہیں۔ ٹیکنالوجی اور جدت کے ان فلک پیما کارناموں کے باوجود آج کرونا وائرس کے مہیب سائے چارسو منڈلا رہے ہیں لوگ لرزاں و ترساں ہیں۔ دن کی رونق اور رات کا فسوں ماند ہے۔میکدے، شبینہ کلب، تعلیمی ادارے، بازار، بستیاں اور عبادت گاہیں سب بند ہیں۔ وائرس امیر و غریب، حاکم و محکوم، مرد و عورت اور پیر و جوان کو بغیر کسی فرق و امتیاز کے بہت تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔دو تین ماہ کے مختصر عرصے میں متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے اور پچاس ہزار سے زیادہ لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کرونا وائرس کئی اعتبار سے کالی موت سے مماثلت رکھتا ہے۔دونوں کی ابتدا چین سے ہوئی۔ دونوں کی علامات جیسے بخار اور سانس لینے میں دشواری بھی یکساں ہیں۔ کالی موت کی وبا ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتی تھی۔ موجودہ وائرس بھی متعدی ہے۔ یورپ میں دونوں وباؤں کا آغاز اٹلی سے ہوا۔کالی موت اور کرونا وائرس، دونوں نے اٹلی ہی میں سب سے زیادہ تباہی و بربادی کی داستان رقم کی۔

کالی موت سے بچاؤ کے لیے متاثرہ لوگوں کو بالخصوص اور تن درست افراد کو بالعموم قرنطینہ میں رکھا جاتا تھا۔یہ طریق کارگر ثابت ہوا اور دنیا کو برسوں کی کدوکاوش کے بعد کالی موت سے نجات ملی۔ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر سماجی دوری پر عمل پیرا ہونا، حفاظتی تدابیر کو اختیار کرنا اور غیر اہم ملاقاتوں سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہے۔ ان لوگوں کو خاص طور پر احتیاط کرنے کی ضرورت ہے جن کے جسم کا مدافعتی نظام بڑھاپے یا کسی بیماری کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے۔

پوری دنیا میں وائرس کی وجہ سے سیکڑوں ہزاروں کمپنیاں عارضی یا مستقل طور پر بند ہو چکی ہیں، نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو معاشی عدم تحفظ اور بے روزگاری کا سامنا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک میں حکومتیں اپنے عوام کی مالی مدد کا بیڑا اٹھاتی ہیں۔تاہم ان ملکوں میں جہاں بہت غربت و افلاس ہے، متموّل افراد کو عوام کا دست و بازو بننا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی شخص بھی فقر و فاقہ سے مرنے نہ پائے۔

ایک طبقے کی رائے ہے کہ موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھنے سے وائرس کا زور ٹوٹ جائے گا۔یہ محض ایک نظریہ ہے جس کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں، بلکہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق کالی موت کی وبا پھیلتی ہی گرمیوں میں تھی۔ موسم سرما کے دوران میں لوگ قدرے سکون و عافیت سے رہتے تھے۔ مغربی ممالک میں محکمہ صحت سے وابستہ حکام یہ تنبیہ کر چکے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد برطانیہ میں بیس ہزار جبکہ امریکہ میں دو لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا یہ عالم ہے تو وہ ملک ناقابل بیان حد تک انسانی بحران کی زد میں آ سکتے ہیں جو معاشی ابتری، وسائل کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند