تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
منزل کی تلاش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 15 ذوالحجہ 1441هـ - 5 اگست 2020م
آخری اشاعت: بدھ 21 شعبان 1441هـ - 15 اپریل 2020م KSA 16:55 - GMT 13:55
منزل کی تلاش

ہر انسان کو کامیاب زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ہر کوئی آسودہ حالی اور نیک نامی کی آرزو کرتا ہے،عقل و شعور رکھنے والا کوئی شخص بھی ابتلا اور بے کسی کی تمنا نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ کامیاب زندگی کسے کہتے ہیں؟برتری اور شادمانی کا مفہوم کیا ہے اور تاریخ کے صفحات پر انمٹ نقوش چھوڑنا کیونکر ممکن ہے؟ دنیا میں بیشتر لوگوں نے اپنی افتاد طبع اور سمجھ کے مطابق ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ مذہب کے پیروکار دلیل لائے کہ تقرب اور روحانیت کے درجات نجات کی ضمانت ہیں۔پادشاہوں نے گمان کیا کہ فتوحات کی کثرت اور قلمرو کی وسعت زمانے میں امر ہونے کے لیے لازمی ہے۔فلاسفہ نے جوہر و عرض اور علت و معلول کے مباحث کو سرمایۂ حیات سے تعبیر کیا۔علم الکلام میں ید طولیٰ رکھنے والوں نے رائے دی کہ جبر و قدر اور صفات باری تعالیٰ کی حقیقت جاننا انسان کی اصل غایت ہے۔اہلِ نشاط نے کہا کہ نیم باز لبوں کا خمار اور گداز بدن کا سحر آمیز لمس زندگی کا ماحصل ہے۔غرضیکہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔

انسانوں کی اکثریت اپنے نظریات کی اسیر اور علم کی پُجاری ہے۔بسااوقات اپنی تدبیر پہ ناز کرتی اور فراست پہ اِتراتی ہے۔لوگ کبھی مال کی فراوانی، کبھی سلطنت کی فراخی، کبھی حسن کی رعنائی اور کبھی نزاکت کے بانکپن پر غرور کرتے ہیں۔مؤرخ کا قلم غیر جانبدار ہو تو تاریخ کی کتابوں میں درج ایک مصرع پوری غزل لکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کی عمر بیس سال تھی جب یونان کے شمالی شہر مقدونیہ میں تخت نشیں ہوا۔وہ ممتاز یونانی فلسفی اور مفکر ارسطو کا شاگرد تھا۔بارہ سال تک مقدونیہ اس کا پایہ تخت رہا۔اس دوران میں اس نے عظیم ترین سلطنت کی بنیاد رکھی جو یونان کے محلّات سے لیکر ہندوستان کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ جی ہاں، آپ نے درست اندازہ لگایا۔ یہ سکندر اعظم کی داستان ہے۔ وہ اپنے پورے دور حکومت میں ناقابل شکست رہا۔ اس کا نام رعب اور دبدبے کی علامت تھا۔ سکندر محض بتیس سال جیا اور 323 قبل مسیح میں اس کا بابل میں انتقال ہوگیا۔چشمِ فلک کی بے اعتنائی اور حالات کی ستم ظریفی دیکھیں لگ بھگ آدھی دنیا پر پوری شان و شوکت سے حکومت کرنے والا پادشاہ کہاں دفن ہے، کسی کو خبر بھی نہیں جس کا سکہ مشرق سے مغرب تک رواں تھا۔آج اس کی قبر ہی بے نام و نشان ہے۔

منگولیا سلطنت کا بانی چنگیز خان تاریخ کے مشہور و معروف مگر بے رحم فاتحین میں سے ایک تھا۔اس کے وار کو سہنا اور حملے کی مزاحمت کرنا ناممکن تھا۔18 اگست 1227ء کو چنگیزخان نے چین میں وفات پائی۔اس کے جنازے میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار تھی۔ چنگیز خان کے آٹھ سو فوجیوں نے جنازے کے بعد ان دو ہزار لوگوں کو قتل کر دیا اور ازاں بعد سب نے اس لیے خودکشی کر لی کہ قبر کا مقام پوشیدہ رہے۔آج کسی کو معلوم نہیں چنگیز خان کہاں دفن ہے؟ بنو امیہ کی تاریخ حجاج بن یوسف کے بغیر ادھوری ہے اس کا دور جنگ و جدال اور قتل و غارت سے عبارت تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو بے دریغ قتل کیا۔چھے ماہ تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر کے منجنیقوں سے سنگ باری کرتا رہا جس سے کعبہ کی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا۔ حجاج نے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ تدفین کے بعد اس کی قبر کے نشانات مٹا دیے جائیں۔ چناں چہ ایسے ہی ہوا۔بیس سال تک عراق کا گورنر رہنے والا حجاج جو اپنے دور میں ہیبت اور موت کا دوسرا نام تھا، کسی نامعلوم مقام پر مدفون ہے۔ سکندر اعظم، چنگیز خان اور حجاج بن یوسف، تاریخ عالم کی شہرت یافتہ شخصیات، لاکھوں کروڑوں معمولی اور غیر معروف لوگوں کی طرح رزق خاک ہوئے اپنے دور کے شاہین، پرواز سے تھک کر یوں گرے کہ دم ہی توڑ گئے۔

زیرک انسان اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے۔زندگی بامقصد ہو تو جینے کا مزہ ہی اور ہے مال و اولاد اور اختیار و منصب کی آرزو کرنا برائی نہیں لیکن یہ سب کامیابی کی ضمانت بھی نہیں۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کا تذکرہ ہے جو غُربت و بے نامی کی زندگی گزارتے تھے لیکن انانیت کی گندگی سے پاک اور ایثار و محبت پر یقین رکھتے تھے۔کم مانگتے اور زیادہ دیتے تھے ان کی خواہشات محدود تھیں اور اسی لیے زندگی پرسکون تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ عمرہ کی ادائی کے لیے مدینہ سے مکہ کا قصد کیا تو سب کا شوق اور ولولہ دیدنی تھا کہ ہجرت کو کئی سال ہو چکے تھے۔جائے منزل پر پہنچے تو مشرکینِ مکہ نے ہتک آمیز رویہ اپنایا اور عمرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حدیبیہ کے مقام پر ببول کے درخت تلے آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے جاں نثار ساتھی بیعت کی غرض سے جمع ہوئے۔کبار صحابہ بھی موجود تھے۔حضرت ابو سنان اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پورے مجمع میں بیعت کے لیے سب سے پہلے میں نے ہاتھ بڑھایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:’’بیعت کرنے کے بعد تم کس چیز کی پاسداری کرو گے؟‘‘ میں نے جواب دیا کہ ہر اس چیز کی جو آپ کے دل میں ہے۔ دیگر صحابہ بھی ایسے ہی جذبات و خیالات کے حامل تھے خلوص و وفا اور صدق و جلا کے پیکر۔ قرآن حکیم کی آیت نازل ہوئی: ’’جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘

کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں، اذانِ سحر میں

انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا تھا۔ہجرت کے دوسرے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے لیے کوچ کیا۔انس رضی الله عنہ آپ کی روانگی سے بے خبر رہے اور اس وجہ سے بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ مسلسل آزردگی اور ندامت کا شکار رہتے کہ پہلے غزوے میں شرکت سے محروم رہا۔ انس رضی الله عنہ نے اللہ سے عہد کیا کہ آیندہ موقع ملا تو پچھلی ساری کسر نکال دیں گے۔ اگلے سال غزوہ اُحد میں جنگی چالوں پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وقتی طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دستے منتشر ہو رہے تھے۔اسی اثنا میں انس بن نضرؓ ننگی تلوار تان کر مشرکین کی طرف لپکے۔راستے میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ ملے۔
سعدؓ نے پوچھا:’’کدھر کا قصد ہے؟‘‘
انسؓ نے جواب دیا:’’لشکرِ کفار کا‘‘۔
سعدؓ نے کہا ’’ادھر تو موت ہے‘‘۔
انسؓ بولے:'اللہ کی قسم! مجھے اُحد پہاڑ کی دوسری جانب سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔‘‘ یہ کہا اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے.

انسؓ جنگ آزمودہ اور شمشیرزنی کے ماہر تھے۔ چناں چہ چشمِ زدن میں کشتوں کے پشتے لگ گئے۔کفار نے جمع ہو کر دھاوا بول دیا۔انس رضی الله عنه بے جگری اور شجاعت کی داستان رقم کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آپ کے جسم پر 80 سے زیادہ تلواروں اور نیزوں کے زخم تھے شہادت کے بعد لاش ناقابل شناخت ہو چکی تھی۔بہن نے انگلی کے نشانات سے پہچانا۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا:’’اہل ایمان میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کر دیا تو ان میں سے کچھ اپنی نذر کو وفا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور کچھ موقع کے منتظر ہیں۔‘‘

طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھیں کے جگر میں

دنیا امتحان گاہ ہے۔یہاں آزمائش سے فرار ممکن نہیں۔کسی کو دولت سے آزمایا جاتا ہے اور کسی کو فقر سے، کسی کے لیے اولاد آزمائش ہے اور کسی کے لیے بانجھ پن، کسی کو صحت و عافیت سے پرکھا جاتا ہے اور کسی کو اذیت و بیماری سے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنے ایمان اور عقیدے کی سلامتی کے ساتھ رخصت ہو جائے۔مخلوق خالق سے جا ملے اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہے۔

کرونا وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔یہ کسی کی زندگی یا موت پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔اس کا کام بندے کی اللہ کے ساتھ ملاقات طے کرنا ہے اور کچھ نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند