تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
غربِ اردن کو ضم کرنے کے اسرائیل کے لیے کیا مضمرات ہوں گے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 6 ربیع الاول 1442هـ - 23 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: اتوار 29 شوال 1441هـ - 21 جون 2020م KSA 15:12 - GMT 12:12
غربِ اردن کو ضم کرنے کے اسرائیل کے لیے کیا مضمرات ہوں گے؟

کرونا وائرس کی وَبا اپنے عروج پرہے، اقصادی بحران کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے،موسم گرما اپنے جوبن پر ہے، ایسے میں غربِ اردن میں واقع یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کا ممکنہ منصوبہ بہت سے اسرائیلیوں کے ذہن میں تو ہے ہی نہیں۔حال ہی میں اسرائیلی چینل 12 کے ایک سروے کے نتائج کے مطابق صرف 3۰5 فی صد اسرائیلیوں کو انضمام کے اس منصوبے سے کوئی تعلق واسطہ یا دلچسپی ہے۔

لیکن وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہودی بستیوں کو ضم کرنے کے آغاز کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے، یہ یکم جولائی ہے اور آج سے اس میں صرف دس دن باقی رہتے ہیں۔ بظاہر لگتا یہ ہے کہ اسرائیل میں لوگ اور خطے کے عوام اس آیندہ پیش رفت کے بارے میں متضادالخیال ہیں کیونکہ ان ممالک میں بے روزگاری کی شرح عروج پر ہے، ان کی قومی کرنسیاں ضعف واضمحلال کا شکار ہیں اور ان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سکڑ رہے ہیں۔

لیکن کووِڈ-19 یا ناکام ہوتی معیشت یہودی بستیوں کو ضم کرنے کے یک طرفہ منصوبے کے اسرائیل اور مشرقِ اوسط کے لیے تباہ کن طویل المیعاد مضمرات کو محدود کرنے والی نہیں۔یکم جولائی کو شاید آسمان ہمارے سروں پر نہ آپڑے، بالخصوص انضمامی قبضے کے کمانڈر انچیف نیتن یاہو نے ابھی تک اپنی اس مہم کی تفصیل کے بارے میں اپنا ذہن نہیں بنایا ہے لیکن آخرکار اگر اسرائیلی حکومت یہودی بستیوں کو ضم کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرتی ہے اور پارلیمان اس فیصلے کی تائید کردیتی ہے تو ہم ایک نئے خطرناک دور میں داخل ہوجائیں گے اور ہمارے پاس اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا کوئی آپشن بھی نہیں ہوگا۔

اخلاقی طور(غاصبانہ قبضے کے اس پہلو پر ان دنوں میں کم ہی کوئی بحث ومباحثہ ہوتا ہے) پر غلط ہونے کے علاوہ ضم کرنے کا منصوبہ بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی شائستگی کے بھی منافی ہے۔اس سے ایک نئی علاقائی حقیقت کی تخلیق ہوگی اور وہ اس طرح کہ اعتدال پسند قوتیں کمزور ہوں گی جبکہ سخت گیر اور کٹڑ عناصر مضبوط ہوں گے۔

اس تحریک کے نتیجے میں پہلے سے کم زور فلسطینی اتھارٹی کی تو شاید موت واقع ہوجائے جبکہ عسکری گروپ حماس تو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے زیادہ خوش ہوگا جیسا کہ اس نے تیرہ سال قبل غزہ میں کیا تھا۔تنازع کے دوریاستی حل کے لیے امید دم توڑ جائے گی اور اسرائیل خود کو ایک ناقابل حل تنازع سے معاملہ کرنے میں تنہا پائے گا۔اس پر یورپی یونین کی پابندیاں عاید ہوں گی اور عرب دنیا میں اس کا کوئی دوست نہیں ہوگا۔

جن عرب نظاموں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے تھے اور تمام تر اونچ نیچ کے باوجود وہ گزرے برسوں کے دوران میں امن کو برقرار رکھتے رہے ہیں،انھیں اب اندرون ملک سخت گیر قوتوں کی تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ قوتیں پہلے ہی اسرائیل سے ان امن معاہدوں کی تنسیخ اور سفارت خانے بند کرنے کے مطالبات کررہی ہیں۔

اردن، کہ جہاں اس وقت قابل ذکر فلسطینی آبادی موجود ہے، بالخصوص متاثر ہوگا اور بالآخر وہ بھی امن معاہدوں سے انخلا کا انتخاب کرے گا کیونکہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے حقوق کا مضبوط حوالہ موجود ہے لیکن اگر اردن کے ساتھ کوئی مزید سکیورٹی تعاون برقرار نہیں رہتا ہے تو اس صورت میں اسرائیل کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ تب کیا ہوگا جب اسرائیل کا ایک عرب ریاست اردن کے ساتھ طویل بارڈر پُرامن اور محفوظ نہیں رہے گا؟

مزید برآں اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔طرفین نے امریکا کی مدد سے بڑی محتاط روی سے ان تعلقات کے تانے بانے بُنے ہیں۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے قائدین غرب اردن کو ضم کرنے کے منصوبے کو سختی سے مسترد کرچکے ہیں اور ان کا یہ مؤقف یروشلیم میں معروف ہے۔

تاہم بہت سے اسرائیلی سیاست دان خود کو یہ دلاسا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مشرقِ اوسط میں الفاظ سستے اور بے وقعت ہوتے ہیں اور دن کے اختتام پر گلشن کا کاروبار ایسے ہی چلتا رہے گا۔

مگر سکیورٹی اور دفاعی ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔عرب لیگ کا پیش کردہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا تائید شدہ ’عرب امن اقدام‘ بالآخر میز پر زیر غور نہیں رہے گا اور خطے میں تعاون اور خوش حالی کے عظیم موقع کو گنوا دیا جائے گا۔

اورحرفِ آخر یہ کہ ،ایران بھی یہاں موجود ہے۔وہ اپنے جوہری فوجی پروگرام کو توسیع دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔وہ آئی اے ای اے سے کذب بیانی کرے گا اور اہم شواہد کو چھپا دے گا جبکہ اپنی علاقائی بالادستی کا سلسلہ جاری رکھے گا لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومت مکمل طور پر انضمامی قبضے کے عمل میں الجھ چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ داخلی تنازعات اور لڑائیوں میں الجھی ہوئی ہے۔

ایران اچانک ہی نیتن یاہو کی ترجیح کیوں نہیں رہا ہے؟ شاید اس لیے کہ وہ بیک وقت دونوں محاذوں پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرسکتے ہیں اور یہاں خطرہ بھی لاحق ہے۔اسرائیل کو ایران پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو اسرائیل اور عرب ریاستوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے اور مشرقِ اوسط میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔جب تمام آنکھوں ہی ہی قبضے پر مرکوز ہیں تواسرائیل کی توجہ ناگزیر طور پر منتشر ہوگی۔اسرائیل اور علاقائی سلامتی کے لیے اس کا ممکنہ نقصان شدید تر ہوگا۔

اگرچہ یکم جولائی کی تاریخ آنے والی ہے لیکن اب بھی وقت ہے۔اسرائیل کے لیے ابھی اس میں کوئی زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے کہ وہ قبضے کی ٹرین سے اُتر آئے اور اس خطرناک اقدام سے باز رہے۔عرب امن اقدام ابھی موجود ہے۔ اسرائیل کو ایک متشدد اور یک طرفہ پالیسی کے بجائے فلسطینیوں سے سلسلہ جنبانی شروع کرنا چاہیے، مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور عرب ریاستوں اور عالمی برادری دونوں کی حمایت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔خطے کو یقینی طور پر کسی نئی اُتھل پُتھل کی ضرورت نہیں ہے،اس کو پہلے ہی کافی چیلنجز اور خطرات درپیش ہیں، جن سے اس نے ابھی معاملہ کرنا ہے۔
_____________________________
سینیا سفیتلوفا اسرائیلی پارلیمان (الکنیست) کی سابق رکن ہیں۔ان دنوں وہ میٹویم انسٹی ٹیوٹ میں اسرائیل، مشرقِ اوسط تعلقات پر پروگرام کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔نیزوہ انسٹی ٹیوٹ برائے پالیسی اور اسٹریٹجی، آئی ڈی سی ہرزلیہ میں سینیر ریسرچ تجزیہ کار کے طور پر کام کررہی ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند