تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کرکٹ، شیکسپیئر اور اردو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 20 ذیعقدہ 1440هـ - 23 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 25 رمضان 1434هـ - 2 اگست 2013م KSA 19:18 - GMT 16:18
کرکٹ، شیکسپیئر اور اردو

کرکٹ کے ممتاز مبصر یا کہیے کہ نامی گرامی اردو کمنٹیٹر منیر حسین دنیا سے گزر گئے۔ اب انھیں کرکٹ شائقین کے حلقوں میں بہت یاد کیا جا رہا ہے۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ ان سے پہلے کرکٹ میچوں کی کمنٹری انگریزی میں ہوتی تھی۔ پاکستان کے اولین دور ہی میں کرکٹ کے کچھ ایسے کھلاڑی پیدا ہو گئے جنہوں نے اس کھیل میں بہت میدان مارے۔ پاکستان سے لے کر انگلستان تک جو کرکٹ کا گھر تھا ان کی دھاک بیٹھ گئی۔ سو جب ہندوستان سے یا انگلستان سے میچ ہوتا تو ریڈیو پاکستان سے میچ کی کمنٹری نشر ہوتی مگر کمنٹری انگریزی میں ہوتی اور خلقت کرکٹ کی دیوانی مگر انگریزی سے نا آشنا۔ سو ریڈیو کان سے لگائے بیٹھے ہیں مگر خاک سمجھ میں نہیں آ رہا کہ عمر قریشی انگریزی میں کیا بگھار رہے ہیں۔ بتانے والے بتا رہے ہیں کہ یہ احساس منیر حسین نے دلایا کہ کمنٹری اردو میں بھی ہونی چاہیے۔ یہ بات ریڈیو پاکستان والوں کے دل کو لگی اور میچوں کی کمنٹری اردو میں شروع ہو گئی۔ اس سے ریڈیو کی کرکٹ کمنٹری نے قبول عام کا درجہ حاصل کیا۔ سو اب منیر حسین کو بابائے اردو کمنٹری کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

منیر حسین کا یہ شرف برحق مگر کیا مضائقہ ہے کہ اس تقریب سے ہم قیوم نظر کو بھی یاد کر لیں۔ قیوم نظر اولاً شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ شاعر کے طور پر وہ میرا جی اسکول سے وابستہ تھے۔ غزل اور پابند نظم کو سلام کیا اور نظم آزاد کو اپنایا۔ انھیں حلقہ ارباب ذوق کا بھی معمار اعظم کہنا چاہیے مگر دوسری طرف کرکٹ میں بھی ان کا قدم تھا۔ کھلاڑی کے طور پر تو وہ واجبی واجبی تھے۔ مگر ان کا امتیاز یہ ہے کہ اردو کمنٹری کے معاملہ میں وہ منیر حسین سے چار قدم آگے گئے۔ کمنٹری کرتے ہوئے انھیں خوب سوجھی کہ یہ جو کرکٹ کی انگریزی اصطلاحیں ہیں، انھیں عام لوگ کیا سمجھیں۔کرکٹ سے عشق اپنی جگہ پر مگر کمنٹری کے عام سامع کی بلا جانے کہ گگلی کیا ہوتی ہے اور بائونڈری کس چڑیا کا نام ہے۔ سو ان کا استدلال یہ تھا کہ ان اصطلاحوں کو اردو کا جامہ پہنا لیا جائے تو کرکٹ کے کھیل کے دائوں پیچ بھی لوگوں کی سمجھ میں آنے لگیں گے۔ سو انھوں نے یہ کام شروع کر دیا۔

یہ پاکستانی کرکٹ کے اولین دور کا ذکر ہے۔ ٹیلی ویژن ابھی نمودار نہیں ہوا تھا۔ میچ کے دم بہ دم کا احوال جاننے کا ذریعہ صرف ریڈیو تھا۔ سو ان میچوں کے سلسلہ میں خاص و عام میں اشتیاق اتنا تھا کہ جب کرکٹ کا کوئی بڑا معرکہ پڑتا‘ ہندوستان کے ساتھ یا انگلستان کے ساتھ تو ٹی ہائوس کے کائونٹر پر ریڈیو سیٹ رکھا نظر آتا۔ جب ریڈیو پر ایک دم سے شور اٹھتا تو میزوں پر بیٹھے ادیبوں کے کان کھڑے ہوتے تو ادبی بحث پیچھے رہ جاتی۔ تجسس ہوتا کہ فیلڈ میں کیا واقعہ گزرا اور قیوم نظر جو ریڈیو سے مستقل کان لگائے کھڑے ہیں خوش ہو کر یہ خوشخبری سناتے کہ حنیف محمد نے چھکا مارا ہے۔ بائونڈری کو انھوں نے بائونڈری کبھی نہیں کہا۔ چوکا اور چھکا کہہ کر اپنا مطلب نکالتے تھے۔

ویسے کچھ ترجمے تو گلیاروں میں میچ کھیلنے والے لڑکوں بالوں نے خود ہی کر لیے تھے۔کتنی جلدی بیٹ اور بال ان کے محاورے میں آ کر گیند بلا بن گئے۔ جلد ہی انھوں نے چوکے اور چھکے کی اصطلاحیں بھی وضع کر لیں۔ یہانتک تو انھیں قیوم نظر کا شرمندہ احسان ہونا نہیں پڑا۔ ان اصطلاحوں سے آگے جب قیوم صاحب نے قدم بڑھایا تو ان کی تراشی ہوئی اصطلاحیں ٹی ہائوس میں یاروں کے لیے لطیفہ بازی کا بہانہ بن گئیں۔

ہم نے ریڈیو پر تو قیوم صاحب کی کمنٹری کم ہی سنی۔ سنی بھی تو ان سنی کر دی مگر جب وہ ٹی ہائوس میں چائے کی میز پر بیٹھ کر نخالص اردو میں کمنٹری کرتے تھے تو ہم سنی کو ان سنی نہیں کر سکتے تھے۔ توجہ سے سنتے تھے۔ بیشک ان کے جانے کے بعد ان کی گھڑی ہوئی اصطلاحوں کو مزے لے لے کر دہراتے تھے اور انھیں ہنسی میں اڑا دیتے تھے۔ قیوم صاحب تک یہ خبریں پہنچتی تھیں مگر ان کے یہاں کرکٹ اور اردو دونوں کی خدمت کا جذبہ اتنا تیز تھا کہ وہ یاروں کی دلگی بازی ایک کان سنتے اور دوسرے کان اڑا دیتے اپنے کام میں اسی سنجیدگی سے لگے رہتے۔

واقعہ یوں ہے کہ انگریزوں کے راج میں ادھر انگلستان سے بہت نادر اشیا ہماری طرف آئیں اور فوراً ہی مقبول بھی ہو گئیں۔ کوٹ پتلون آئے‘ ہیٹ آیا‘ ٹائی آئی‘ مگر سب سے بڑھ کر دو چیزیں آئیں اور سب سے بڑھ کر مقبولیت بھی انھیں ملی۔ اول کرکٹ دوم شیکسپیئر۔ شیکسپیئر کی مقبولیت کا احوال کیا پوچھتے ہو۔ وہ پارسی تھیٹر کا زمانہ تھا اور آغا حشر کا قلم رواں تھا۔ شیکسپیئر کے کتنے ڈرامے ان کے زور قلم سے اردو میں آ کر کیا سے کیا بن گئے۔ اور ہم ان کے اس زور قلم سے اتنے مسحور ہوئے کہ وہ خود ہمیں شیکسپیئر نظر آنے لگے۔ سو پھر وہ انڈین شیکسپیئر کے نام سے مشہور ہوئے۔

مگر کرکٹ میں آ کر ہم پھنس گئے، یہ شیکسپیئر نبا شد۔ جس نے جیسا ترجمہ کیا ہم نے اسے خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیا۔ آغا حشر تو خیر آغا حشر تھے جنہوں نے اپنے وقت میں تھیٹر کے میدان میں حشر بپا کر رکھا تھا۔ ہم نے تو سید قاسم محمود کے ترجموں کو بھی اللہ عزیز کر کے قبول کر لیا۔ ایک شام وہ ٹی ہائوس آئے اور ہمیں خوشخبری سنائی کہ میں نے ہملٹ کا ترجمہ کر ڈالا ہے۔ ہم سب فرط حیرت میں غرق ہو گئے۔ بولے کہ بس ایک لائن پر آ کر میرا قلم رک گیا۔ پوچھا‘ کونسی لائن ۔ کہا

To-marrow and to marrow and to marrow

پھر کہا کہ میں نے تین راتیں اس لائن پر صرف کیں۔ آخر ترجمہ کر ڈالا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ترجمہ کیا۔ بولے کہ

کل اور کل اور کل

ہم نے سر پیٹ لیا اور کہا کہ قاسم محمود‘ اس ترجمہ پر تم نے اپنی تین قیمتی راتیں صرف کیں۔ یہ ترجمہ تو تمہاے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

مگر کرکٹ کا ترجمہ ٹیڑھی کھیر ہے۔ شیکسپیئر نباشد کہ جس کے گمان میں جیسا آیا ترجمہ کر ڈالا۔ یہ کرکٹ ہے۔ ہمارے بزرگ قیوم نظر نے کتنی دماغ سوزی کی۔ کرکٹ کی ایک ایک اصطلاح کے لیے کیسی کیسی اردو کی اصطلاح تراشی۔ مگر کرکٹ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اس نے کسی بھی اپنے ترجمے کو درخور اعتنا نہیں جانا۔

انھی پیدائشی انگریزی اصطلاحوں ہی کے ساتھ ہمارے دلوں میں بس گئی۔ مطلب یہ ہے کہ شیکسپیئر کو تو ہم اردو کا جامہ پہنا سکتے ہیں۔ جامہ اچھا برا جیسا بھی ہو یہ شیکسپیئر کی قسمت ہے۔ مگر کرکٹ کے باب میں ہم کمنٹری تو اردو میں کر سکتے ہیں‘ خود کرکٹ کو اردو کا جامہ نہیں پہنا سکتے۔

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند