تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عبدالقادر مجھے آپ پر فخر ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 جمادی الثانی 1440هـ - 19 فروری 2019م
آخری اشاعت: پیر 4 ذیعقدہ 1434هـ - 9 ستمبر 2013م KSA 15:42 - GMT 12:42
عبدالقادر مجھے آپ پر فخر ہے

سابق ٹیسٹ کرکٹراور اپنے وقت کے مایہ ناز بولر عبدالقادر کے بڑے بیٹے عبدالرحمن قادر کو پنجاب پولیس نے اپنے ساتھیوں سمیت جوا کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا اور حوالات میں بند کر دیا۔ ایک ٹی وی چینل نے یہ خبر چھ ستمبر کو چلائی۔ ملزمان سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا یہ الزام جھوٹ اور سراسر جھوٹ ہے۔ جب کرکٹر عبدالقادر سے ٹی وی چینل نے بات کی تو جو میں نے سنا وہ حیران کن تھا۔ عبدالقادر کو میں اُن کی کرکٹ کی وجہ سے ضرور پسند کرتا تھا مگر مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک بڑا آدمی اور قابل فخر مسلمان ہے۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے حق میں بات کرے گا، چاہے بیٹا جوئے میں ملوث ہی کیوں نہ ہو، اُس کی معصومیت اور صفائی کی قسمیں کھائے گا، اُس کو پولیس سے چھڑوانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے گا مگر جو اس سابق کرکٹرنے کہا وہ میرے لیے ایک خوشگوار حیرانی تھی۔ جب نیوز کاسٹر نے عبدالقادر سے اپنے بچے کی گرفتاری اور الزام کے بارے میں پوچھا تو عبدالقادر نے کہا، ”میں نے ساری زندگی دولت نہیں کمائی۔ میں نے زندگی میں اگر کچھ کمایا تو عزت کمائی۔ یہ جو واقعہ ہے یہ میرے لیے دردناک، افسوسناک اور شرمناک ہے۔ میں عدالت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ عبدالرحمن قادر کو سخت سے سخت سزا دے۔“

جب عبدالقادر سے اُن کے بیٹے پر جوئے کے الزامات کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی الزامات نہیں ہیں بلکہ سچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے کیے پر پردہ نہیں ڈالیں گے۔ اس موقع پر عبدالقادر نے حضور پاک صلی اللہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ”آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ وسلم کی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی چوری کرتیں تو اُن کے لیے بھی وہی سزا تجویزکی جاتی جو کسی عام فرد کو دی جاتی ہے“۔ عبدالقادر نے کہا کہ حضور صلی اللہ وسلم کی تعلیمات پر ہر مسلمان کو عمل کرنا چاہیے اور اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہم مسلمان اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کی طرفداری کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی تعلیمات کی نفی کرتے ہیں جس سے ہمارے پورے معاشرے میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ عبدالقادر کا ردعمل ایک عام باپ، ایک عام دوست اور ایک عام مسلمان کا نہیں تھا بلکہ انہوں نے ایک اچھے اور باعمل مسلمان کا رویہ اپناتے ہوئے اپنے بیٹے کے خلاف ایک بار پھر گواہی دیتے ہوئے کہا، ”بالکل اُس (بیٹے) نے یہ کام (جوا کھیلا) ہے۔ اُس کو قانون کے تحت جو زیادہ سے زیادہ سزادی جا سکتی ہے وہ اسے(بیٹے کو) ملنی چاہیے۔ ہم مسلمانوں کی اولاد ہیں۔ ہم رسول پاک صلی اللہ وسلم کو ماننے والے ہیں۔ ہم نبی کریم صلی اللہ وسلم کے امتی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان ساری باتوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ شیطانیت کے کام ہیں۔ جوا کھیلنا اور شراب پینا یہ سب کچھ اسلام میں منع ہے۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کی حرکتیں کریں ۔“

اس کے بعد عبدالقادر نے کہا کہ انہیں اُس وقت بہت تکلیف ہوئی جب چیف جسٹس، جن کو اللہ نے بہت عزت سے نوازا، اُن کے بیٹے کا اسکینڈل سامنے آیا۔ اسی قسم کی تکلیف کا ذکر انہوں نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کا حوالہ دیتے ہوئے کیا اور پھر نوجوان نسل کو والدین کی اہمیت کے بارے میں قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیا اور اُنہیں تنبیہ کی کہ اولاد کو والدین کی عزت اور نیک نامی کا ذریعہ بننا چاہیے نہ کہ اُن کے لیے بدنامی کا سبب بنیں۔ میں نے اسلام کی انصاف اور گواہی کے متعلق تعلیمات کو پڑھا اور کئی بار سنا۔ اللہ اور اُس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق مسلمان کو گواہی دینے کا حکم ہے چاہے جرم یا گناہ کرنے والا اُن کا اپنا بیٹا، باپ، بھائی وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، مگر عملی زندگی میں مجھے بڑے بڑوں نے مایوس کیا۔ جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو ہم اکثر مسلمان اپنی اولاد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں، دوستوں خاندان اور قبیلے والوں کی غلطی، اُن کے گناہ، اُن کے جرم پر پردہ ڈالتے ہیں، ان پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں، مہنگے مہنگے وکیلوں کی مدد لیتے ہیں باوجود اس کے کہ یہ سب اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔

مجھے اپنی زندگی میں عبدالقادر جیسے بہت ہی کم لوگوں سے واسطہ پڑا جو اپنی اولاد کے خلاف اس بے باکی سے گواہی دیں اور وہ اس لیے کیوں کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت ہے۔ اس سابق کرکٹر نے توٹی وی چینل کے رابطہ کرنے پر اپنا ردعمل دیا مگر جو کچھ اللہ نے اُس کی زبان سے نکالا وہ ہمارے معاشرے اور ہم تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق اور قابل تقلید مثال ہے۔ عبدالقادر نے سچ کہا کہ اللہ کے حکم کی رو گردانی کر کے ہم اپنوں کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں، اُنہیں معصوم ثابت کرنے کے جتن کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ خرابی کی ان موجودہ حدوں کو چھو چکا ہے۔ اس سابق کرکٹر کو اس آزمائش پر اس مثالی انداز میں پورا اترنے پر میرا سلام۔ عبدالقادر مجھے آپ پر فخر ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند