تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کرکٹ کے برہمن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 12 ربیع الثانی 1441هـ - 10 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ربیع الثانی 1435هـ - 12 فروری 2014م KSA 09:56 - GMT 06:56
کرکٹ کے برہمن

کرکٹ ہار گئی، سٹے بازی، جواء، کالادھن، دھونس اوردھاندلی جیت گئی۔ غلامی کیخلاف مجاہد اعظم نیلسن منڈیلا کے دیس، جنوبی افریقہ نے ’’بگ تھری‘‘ کے سامنے سرنگوں ہو کراپنی آزادی بیچ ڈالی۔ ایسا گھاٹے کا سودا کھیلوں کی دنیا میں کسی قوم نے نہ کیا ہو گا۔

زمانہ قدیم میں فرعونوں کی سرزمین، مصر میں ایک انوکھا بازار لگتا۔ خریدا ربھی انسان اور جنس بازاربھی گوشت پوشت کے جیتے جاگتے مردوزن۔ انسانوں کے تاجر ملکوں ملکوں گھوم کر تنومند، نوجوان مردوں کو تلاش کرتے۔ ان کو لوہے کی زنجیریں پہناتے اور بازارمیں برہنہ کھڑا کرتے، خریدار آتے، ان کے جسموں کو ٹٹولتے، پرکھتے، باقاعدہ بولی لگتی اور انسان بک کر آقا کے کھیتوں، کھلیانوں میں جت جاتا۔ اس بازارمیں دنیا بھرسے منتخب کنیزیں بھی لائی جاتیں۔ بردہ فروش، نگرنگر سے نگینے اٹھاتے، کبھی سستے داموں خریدتے، کبھی جبری اغوا کر لاتے۔ تجربہ کار، کہنہ مشق خواتین ان کو کاروبار ہوس کے اسرار و رموز سکھاتیں۔ جب یہ تربیت، مشق اور ریاضت کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوچکی ہوتیں تو پھر ان کو بازارمیں ڈسپلے کیلئے لایا جاتا۔ عیش پرست دولت مند مدد خریدارآتے، یہ حسینائیں ان کی طرب گاہوں اورعشرت کدوں کی زنیت بن جاتیں۔

آج انسان مہذب ہو چکا۔ دنیا بدل چکی، آج برابری اور مساوات کا چلن ہے۔ جمہوریت کا دوردورہ ہے۔ آج غلامی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم کے مردوزن، اپنی مرضی، منشاء کے خلاف بازاروں میں بکتے۔ انسان آج بھی بکتے ہیں۔ کل مصر کے بازاروں میں آج ممبئی، پرتھ، جوہانسبرگ اور ویلز کے بازاروں میں۔ فرق صرف یہ تھاکہ کل کا انسان غلام اور آج کاانسان آزاد۔ وہ مرضی کے خلاف بکتا تھا۔ یہ اپنی مرضی اورخواہش سے۔ وہ کھیتوں، کھلیانوں میں مشقت کرتا۔ آج کے خوبصورت، سمارٹ، ہینڈسم، یونیورسیٹیوں سے اعلی تعلیم یافتہ، کرکٹ کی اکیڈمیوں سے ٹرینڈ، آئی پی ایل اور بگ بیش میں بخوشی بکتے اور کرکٹ کے میدانوں میں اپنے آقاؤں کیلئے کھیلتے اوران کیلئے کمائی کرتے ہیں۔ دنیا بالکل نہیں بدلی، کبھی بدل بھی نہیں سکتی۔ ہاں اتنی ضرور بدلی ہے کہ اب فردواحد ہی نہیں۔ پورا ملک ہی جاتا ہے۔ جیسے کروڑوں انسانوں کے آزاد خودمختار جمہوری ملک ’’بگ تھری ‘‘ کے ہاتھوں اپنا آپ بیچ بیٹھے۔ اپنا حق رائے دہی فروخت کر چکے۔ اپنی زبان پر ڈالروں کی زنجیریں پہن لیں اوردہنوں پر لالچ کی ٹیپیں لگالیں قومے فروختندوچہ ارزاں فروختند۔

کرکٹ کبھی ’’جنٹل مین‘‘ کا کھیل سمجھا جاتا۔ برطانوی معاشرے میں کرکٹ 1853کے لگ لگ متعارف ہوئی۔ نوآبادتی نظام جہاں جہاں فتح کے جھنڈے گاڑتا رہا۔ اسی زمین پر انگریزی زبان، پنٹ کوٹ، چھری کانٹے، اپنی تہذیب، اپنے نظام تعلیم اور کرکٹ کے بیج بوتا چلا گیا۔ جنگ عظیم کے بعد انگریزسامراج کی سلطنت سمٹتی چلی گئی۔ آخرکاریہ سامراج چند جزیروں پر مشتمل ’’گریٹ برٹن‘‘ تک محدود رہ گیا۔

لیکن ان کی چھوڑی ہوئی نشانیاں ان سابق کالونیوں میں تناور درخت بن چکی تھیں۔ ان میں سے ایک کرکٹ ہے۔ کرکٹ ایک خوبصورت اوررومانوی کھیل ہے۔ برطانوی امرا کے کھیل پر جلد ہی ان کے سابق غلام ملکوں نے قبضہ کر لیا۔ ایک طویل عرصہ پہلے ویسٹ انڈیز، پھر بھارت، پھر سری لنکا، اس کے بعد پاکستان، اس کھیل کے ورلڈچیمپیئن بنے۔ برصغیر پاک وہند کے عوام کرکٹ کے دیوانے ہیں۔ کرکٹ کو بھارت میں فسٹ ریلجین کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کا جنون بھارتی عوام سے بھی بڑھ کر ہے۔ لیکن فرسٹ ریلجین بن کر نہیں۔

دونوں ملکوں کا آپس میں مقابلہ ہوتوشائقین کے دلوں کی دھڑکن چھکوں چوکوں کی برسات کے تابع ہوکررہ جاتی ہیں۔ وکٹ گرتی ہے تو چلتی سانس بھی رک رک جاتی ہے۔ عوام کو تفریح، کھلاڑیوں کو روزی کے ساتھ ساتھ دولت اودرشہرت، کاروباری افراد کو دولت کے انبارملتے ہیں۔ فاتح ملک کا وقاربلند ہوتاہے۔ آج کی دنیامیں کھیل بہت بڑی صنعت بن چکے، کرکٹ ہویا کوئی اور کھیل اس میں اربوں، کھربوں روپے خرچ اور وصول ہوتے ہیں۔ جہاں پیسہ ملوث ہو۔ وہاں جرم لازمی ہوتا ہے۔ کھیلوں کی چکاچوند سے چمکتی دمکتی دنیا کے نقاب کے پیچھے جرم کا چہرہ پنہاں ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے بلیک مارکیٹر کھیل اورسلولائیڈ کی گلیمرس مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری قائم کر کے اپنا کالادھن نہ صرف سفید کرنے میں کامیاب رہتے ہیں بلکہ اپنی دولت کے ڈھیرمیں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب پس پردہ ہی رہتاہے۔ البتہ کبھی کبھارایسے سیکنڈل منظرعام پرآ جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ گراؤنڈ اور کورٹ میں ایک دوسرے سے برسرپیکار سٹارکھلاڑی نہیں، بلکہ مافیاؤں کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں تھیں۔ میچوں کے نتائج میدانوں میں نہیں۔ سٹہ بازوں کے دفتروں میں ہوتے۔ ان اکادکا سیکنڈلوں کے باوجود کھیلوں کی دنیا مجموعی طور پر صاف ستھری ہے۔ اولمپک اورایسے ہی بڑے ٹورنامنٹ کی ساکھ اچھی ہے۔ لیکن 2014 ء کے ان اولین مہینوں میں بگ تھری نے جو کھیل کھیلا۔ اس کی مثال کھیلوں کی دنیا میں نہیں ملتی۔ بگ تھری کی دولت، دھونس اوردھاندلی کے سامنے طاقتوراور کمزور ملکوں نے جس طرح ہتھیار ڈالے اس کی نظیربھی کھیلوں کی تاریخ میں ناپید ہے۔

کرکٹ کی دنیا پر اب بگ تھری کی حکمرانی ہے۔ بگ تھری ممالک کی کرکٹ ٹیمیں کاغذی شیر ہیں۔ جو صرف اپنے ہوم گراؤنڈ، ہوم کراوڈ سامنے دھاڑتے ہیں۔ بدیسی میدانوں میں اترتے ہی یہ شیر بھیگی بلی بن کر میاؤں، میاؤں ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ نئے فارمولے کے مطابق اب ان تینوں ملکوں کی ٹیمیں رینکنگ کی قید سے آزاد ہو چکیں۔ یہ عمل کھیل کے جسم سے روح نکال لینے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کا سارا پیسہ ان تینوں ’’بگ تھری‘‘ کے خزانوں میں جائے گا۔ فیصلے یہ تینوں ممالک کرینگے۔ دوسرے صرف اس پرعمل کرینگے۔ بالکل زمانہ قدیم کے غلاموں کی طرح۔ دنیائے کرکٹ کا اصل حکمران سری نواسن ہو گا۔ جس کا ساراجسم جوئے اورسٹے بازی کی غلاظت سے لتھڑا ہواہے۔ کرکٹ پر اب جمہوریت کا نہیں، برہمنیت کا راج ہو گا۔ جس میں برہمن کو اچھوتوں پر حکومت کرنے کا اختیارہوتا ہے۔ مہذب دنیا کے ملکوں نے اپنی مرضی سے کرکٹ کی دنیا میں اچھوت بن کررہنا قبول کرلیا ہے۔ کوئی ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، کچھ بھی تو نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند