تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کرکٹ کا کھیل، کھیل کی سیاست
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 13 ربیع الثانی 1435هـ - 14 فروری 2014م KSA 09:42 - GMT 06:42
کرکٹ کا کھیل، کھیل کی سیاست

میں نے طے کر رکھا تھا کہ نجم سیٹھی کے حوالے سے کچھ نہ لکھوں گا۔ خواہ مخواہ اس کو ایک اور طرح کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ وہ مجھے اپنے اس عزم پر قائم رہنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ میں نے سوچا تھا کہ کرکٹ بورڈ کی چیئرمینی کے معاملے میں انہیں جو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے ، وہ اس کام ہی سے توبہ کر لیں گے۔ اللہ نے بڑی عزت دے رکھی ہے ، آخر کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

ضرورت ہو گی تبھی تو وہ یوں خم ٹھونک کر دوبارہ اس منصب کی طرف لپک کر آئے ہیں۔ ملک کے جو حالات ہیں، اس میں لوگ کھیل تماشے کو بھول ہی چکے ہیں۔ پھر بھی اس کا اپنا نشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کوئی پانچ ارب روپے کی ایمپائر یا سلطنت ہے۔ چیئرمین اس کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔ اس وقت یہ بھی میرا مسئلہ نہیں، مسئلہ تو ایک اور نکلا ہے جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبورکیا ہے۔ ٹی وی کے ایک پروگرام میں سنجیدہ بات کرتے ہوئے پی جے میر نے پوچھ لیا یہ کرکٹ میں کیا ہوا ہے۔ اس میں دوسرے لوگوں نے ناک بھوں چڑھائی کہ طالبان مذاکرات کے درمیان یہ کوئی کرنے کی بات ہے ، مگر پی جے میر کی کرکٹ سے اپنی دلچسپی ہے۔ مجھ سے البتہ رہا نہ گیا۔ عرض کر بیٹھا کہ اس میں میاں نواز شریف کا کوئی قصور نہیں۔ قصور تو نجم سیٹھی کا ہے۔ انہیں اور ان کی بیگم کو بڑے کام کرنے کا شوق ہے۔

الیکشن سے پہلے ہی سننے میں آ رہا تھا کہ جگنو محسن سینیٹر یا قومی اسمبلی کی رکن بنائی جارہی ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ سیٹھی صاحب چونکہ نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہو گئے تھے، اس لئے فوری طور پر یہ ممکن نہیں۔ اگرچہ پیپلزپارٹی کی اس نامزدگی پر مسلم لیگ کا صاد کر دینا ، بعض لوگوں کو حیران کر گیا۔ میرے جیسوں کے لئے یہ کوئی انہونی بات نہ تھی۔ پھر خبر چلی سیٹھی صاحب امریکہ میں پاکستان کے سفیر بننا چاہتے ہیں۔ ارے، بھئی کس خوشی میں ؟ خیال تھا کہ امریکیوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا، وہ اتنے خوش ہوں گے کہ جتنے شاید حسین حقانی کے تقرر پر بھی نہ تھے۔ میرے پاس اس کے لئے دلائل موجود تھے۔ جب ایک زمانے میں سیٹھی صاحب گرفتار ہوئے تو اس وقت حسین حقانی اور ایک دو اور افراد پر بھی کچھ ابتلا گزر رہی تھی۔ احتجاج مگر بنیادی طور پر سیٹھی صاحب کی گرفتاری پر ہوامیرا مطلب ہے امریکہ کی طرف سے ۔ تاہم امریکی سفیر کی تقرری اتنا حساس معاملہ تھا کہ میاں صاحب کو پاکستان میں بھی بعض حساس اداروں کو اعتماد میں لینا پڑا ہوگا۔ شاید یہاں کوئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ پھر میاں صاحب ملک چلانے کے لئے جس پالیسی پر گامزن تھے، اس کے لئے وہاں انہیں سفارتی طور پر کسی تجربہ کار شخص کی ضرورت ہو گی۔

اب یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ انہیں بے نیل و مرام کھلا چھوڑ دیا جاتا۔ ادھر عدالت نے ذکاء اشرف کو فارغ کیا ، ادھر فوراً ہی سیٹھی صاحب کا تقرر کردیا گیا۔ عرض کیا،یہ کوئی چھوٹی سلطنت نہ تھی ۔یہ بڑے بڑے اداروں سے بڑا ادارہ تھا۔ اس پرمتمکن بھی بڑے بڑے لوگ ہوتے رہے ہیں۔ اس کے لئے کرکٹ کی سوجھ بوجھ ضروری نہیں۔ وہ دن گئے کہ جب یہ کام اس کو سونپا جاتا تھا جو کرکٹ کے معاملات چلا سکے۔ ایک زمانے میںتھا کسی ادارے کے سربراہ کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی تھی تاکہ ان کا ادارہ اس کھیل کے اخراجات کا بوجھ اٹھا سکے۔ اب وہ دن لد چکے۔ اب تو کرکٹ میں اتنا پیسہ ہے کہ اسے سرپرستی کے لئے نہ حکومت کی ضرورت ہے نہ کسی پی آئی اے کی۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ بس سر پر تاج رکھ دیجئے، بادشاہی قائم ہو جائے گی۔

مجھے یہاں تک بھی کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ہما کسی کے سرپہ تو بیٹھنا تھا، کیا ہوا ہمارے سیٹھی صاحب کے سر پر بیٹھ گیا خدا انہیں خوش رکھے، مگر یہاں ایک اور کہانی شروع ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ ذکاء اشرف ابھی عالمی کرکٹ ادارے کے اجلاس سے روتے دھوتے واپس لوٹے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ ان کی چھٹی کر دی گئی ہے۔ اکثر لوگوں کو جونیجو یاد آئے جب وہ مشرق بعید کے دورے سے پلٹے تھے کہ انہیں خبر دی گئی کہ ضیاء الحق نے انہیں برطرف کردیا ہے۔ یہ بھی ایسی ہی بات نہیں؟

اصل بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ وہ واپسی پر اس بات کا رونا رہ رہے تھے کہ کس طرح دنیا کے تمام کرکٹ کھیلنے والے ملک منہ موڑ گئے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی اس سازش کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے جس سے اس کی انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ یہ اجارہ داری میرٹ کی بنیاد پر نہیں ، کھیل پر آپ کی مہارت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ پیسے کی بنیا پر ہے۔ اس پر بہت اعتراضات آ رہے تھے، میں نے کسی بھلے آدمی کو اس کا حامی نہیں پایا۔ بھارت میں بھی بڑے بڑے سابقہ کرکٹر اس پر ناک منہ چڑھاتے نظر آئے۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ انڈیا نے اپنی بڑی مارکیٹ کے زور پر کرکٹ پر قبضہ جمانے کا منصوبہ بنایا اور اس میں کامیاب رہا۔
یہ نہیں کہ انگلینڈ یا آسٹریلیا کی مارکیٹ چھوٹی ہو گی، مگر وہاں شاید فٹ بال، رگبی وغیرہ پر زیادہ سپانسپرشپ ملتی ہو۔ مجھے زیادہ پتا نہیں۔ بس اندازے لگا رہا ہوں۔ بہرحال قصہ یوں ہے کہ ذکاء اشرف ہیرو بنے چلے آ رہے تھے کہ انہوں نے اصولوں کا سودا نہیں کیا،پاکستان کا سر بلند رکھا، یہ الگ بات ہے کہ آخری وقت میں جنوبی افریقہ نے بھی قلا بازی کھا ئی۔ اب صرف سری لنکا رہ گیا تھا، وہ بھی پلٹا کھانے کے موڈ میں ہے۔

نجم سیٹھی نے آتے ہی اعلان کیا کہ اس بورڈ نے تو پاکستان کو تنہا کردیا ہے۔ وہ اب از سر نو معاملات کا جائزہ لیں گے۔ مطلب صاف ہے کہ پاکستان بھی سجدہ سہو کرے گا اور ایک ماہ بعد ہونے والے اجلاس میں تھری بگ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔ ہو سکتا ہے، حقیقت پسندی کا تقاضا بھی یہی ہو۔ رمیز راجہ تو سمجھا رہے ہیں کہ کس چکر میں ہو، نوٹ کمائو اور چپ سادھے رہو۔ کرکٹ جائے بھاڑ میں۔ہو سکتا ہے یہ بات درست بھی ہو، مگر نجم سیٹھی یہ کام اس لئے کریں گے کہ انہیں بھارت کے ساتھ ہر صورت اپنی محبت جتانا ہے۔اوپر میں نے جس گرفتاری کا حوالہ دیا، وہ بھارت ہی میں کی جانے والی ایک تقریر کے حوالے سے تھی۔ تب نواز شریف کی سوچ اور تھی، اب شاید اور ہے۔ ویسے بھی وہ بھارت سے دوستی کا اعلان سیٹھی صاحب ہی کے ادارے سفما میں جا کر کرتے رہے ہیں۔ سو اگر ہم نے کرکٹ میں بھارت کا ساتھ دیا تو یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر پاکستان کے مفاد میں کیا گیا ہے، بلکہ یہ جاننا چاہیے کہ حکومت پاکستان کی یہی پالیسی ہے کہ بھارت کو کسی صورت کسی بھی میدان میں ناراض نہ کیا جائے۔ نجم سیٹھی اس کار خیر کے لئے بہترین آدمی ہیں۔

کیا خیال ہے،اب کھیل میں بھی سیاست آ گئی ہے۔ چھوڑئیے اس بات کو ،ہم کیری پیکر کو بھول چکے ہیں؟ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا ہی تھا جو ہوا۔ کارپوریٹ سیکٹر نے اس کھیل کو گود لے لیا ہے۔ اب یہ کھیل سے زیادہ کاروبار ہے۔ جہاں پیسہ ہو گا، وہاں یہ پھلے پھولے گا۔ اس کا نتیجہ جو نکلے گا،وہ ہم سب دیکھیں گے ، مگر مجھے تو فکر ہوئی کہ اگر ہم نے یوں تقرریاں اور فیصلے کرنا ہے تو ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔

یاد آیا، خرم دستگیر وزیر مملکت تھے، شاید نجکاری کے معاملے میں وہ اسحاق ڈار کو پسند نہ تھے۔ انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ اس دوران بھارت جانا پڑ گیا۔ وہاں بھارت سے ایسی تجارتی مراعات کا اعلان کر آئے کہ آتے ہی مکمل وزیر بنا دیئے گئے۔ تجارت کا قلمدان انہیں سونپ دیا گیا، یہ سب کچھ چند ہی دنوں میں ہوا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ہمارے فیصلے ایسی باتوں کو ذہن میں رکھ کر کئے جاتے ہیں۔

نہیں، میرا خیال ہے سیٹھی صاحب کی تقرری صرف اس خاطر نہیں۔ میں خواہ مخواہ تپا بیٹھا ہوں۔ انہیں تو ہر حال میں نوازنا مطلوب تھا۔ وجہ میں بیان کر چکا ہوں۔ کچھ بین السطور بھی ہو گا۔ اس سے زیادہ بے ضرر منصب اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو گا اور یہ کہ رنگ بھی چوکھا آئے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا کام وابستہ ہو گیا ہے جس کے لئے سیٹھی صاحب موزوں ترین تھے۔ چلئے کرکٹ کے لئے نہ سہی، بھارت دوستی ہی کے لئے سہی۔ اب تو وہ حکومت کے لئے کارآمد بھی ہو گئے ہیں۔ گویا انہیں یہ عہدہ ان کے اس میرٹ پر دیا گیا ہے۔ باقی کہانیاں ہیں۔ اچھا مالدار ادارہ اور اس سے کرکٹ کے شائقین کے علاوہ بھی بہت سے حلقوں کے مفادات وابستہ ہیں۔

بس اتنا ہی کافی ہے۔ باقی آئندہ کیلئے اٹھائے رکھتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند