تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کا منصوبہ اور رفیق حریری کا قتل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 5 جمادی الاول 1437هـ - 14 فروری 2016م KSA 20:54 - GMT 17:54
ایران کا منصوبہ اور رفیق حریری کا قتل

14فروری کو لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی گیارھویں برسی منائی گئی ہے۔ان کے قتل کے بعد سے ہر سال ہی خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ منصوبے سے متعلق نئے حقائق آشکار ہوتے ہیں اور یہ کہ یہ جُرم اس منصوبے سے الگ تھلگ نہیں تھا۔

اس منصوبے میں لبنان شامل ہے اور اس نے 2003ء میں عراق پر امریکا کی چڑھائی کے بعد سے ایک رُخ اختیار کرلیا تھا۔امریکی فوجیوں نے عراقی رجیم کا مضمرات کا اندازہ کیے اور ان کو ملحوظ رکھے بغیر ہی تختہ الٹ دیا تھا۔تب امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ایران کو عراق چاندی کی طشتری میں رکھ کر پیش کردیا تھا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے صدر بش کو اگست 2002ء میں عراق پر چڑھائی کے نتائج وعواقب سے خبردار کرنے اور اس فوجی مہم جوئی سے باز رہنے کی سعی کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے تھے۔شاہِ اردن عراق پر ایرانی کنٹرول کے خطرات سے بخوبی آگاہ تھے۔

حزب اللہ

ہم لبنان میں سلسلہ وار واقعات کی ایک نئی قسط کو ملاحظہ کررہے ہیں۔اس کا آغاز مئی 2000ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مارچ 1978ء میں منظور کردہ قرارداد نمبر 425 کے تحت لبنان کے جنوب سے اسرائِیل کے انخلاء سے ہوا تھا لیکن حزب اللہ نے اس کے بعد اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا تھا۔

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حزب اللہ ایرانی مقاصد سے دستبردار ہوچکی ہے تو وہ حقائق کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جب لبنان شام کے ماتحت تھا اور شامی فوج لبنان میں موجود تھی تو حزب اللہ نے کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔صرف رفیق حریری کے قتل کے بعد ہی وہ کابینہ میں شامل ہوئی تھی۔

پھر اس نے حکومت میں ''رکاوٹی ووٹ'' کا تصور متعارف کرایا اور اس کو مضبوط کیا۔اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ ملک کے نئے صدر کے انتخاب ہی میں حائل ہوچکی ہے۔

ایران شام میں حزب اللہ کی مداخلت کو اپنے طویل المیعاد منصوبے کا لازمی کردار سمجھتا ہے جبکہ اس کے دوسرے لازمی حصے کا تعلق خود لبنان سے ہی ہے۔رفیق حریری کے قتل کے بعد حزب اللہ معاہدۂ طائف کو ختم کرنے کے درپے ہے،حالانکہ اسی معاہدے کے تحت لبنان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کا یہ خیال ہے کہ وقت ایرانی منصوبے کے ساتھ ہے۔خاص طور پر وہ ایسا اس لیے بھی سوچتے ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے باوجود ابھی تک اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔حزب اللہ کا خیال ہے کہ طاقت کا وہ توازن جس کے سبب معاہدۂ طائف کی راہ ہموار تھی،اب موجود نہیں رہا ہے۔مزید برآں لبنان کے اندر اور باہر بہت سے لوگ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ اس معاہدے کو تو رفیق حریری کی ناگہانی موت کے ساتھ ہی اپنی موت آپ مرجانا چاہیے تھا۔

ایران جائز اور قانونی اداروں کے ذریعے لبنان کی سیاست کا انتظام اور اس کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔خاص طور پر وہ بنک کاری کے شعبے کے ذریعے ایسا کرنا چاہتا ہے۔وہ لبنان کو ہائی جیک کرنا چاہتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے اس نے شیعہ فرقے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔وہ لبنان میں ایک نیا انتخابی قانون چاہتا ہے جس سے سنی اور مسیحی برادری کمزور ہو۔لبنانی وزیر خارجہ کا مؤقف ایران کے بالکل مشابہ ہوتا ہے۔

تاہم لبنان میں ایران کے منصوبے کے بارے میں ایسے بہت سے جائز سوالات جواب طلب ہیں اور وہ یہ کہ کیا وہ اس پر عمل درآمد کے قابل ہے تاکہ وہ خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرسکے۔ان سوالوں کا جواب دینا قبل ازوقت ہوگا لیکن جو بات یقینی ہے،وہ یہ کہ لبنان اس وقت ایک ناخوشگوار صورت حال سے دوچار ہے۔

------------------------------------
(خیراللہ خیراللہ ایک تجربے کارعرب صحافی ہیں۔ وہ 1976ء سے 1988ء تک النہار کے خارجہ ایڈیٹر رہے تھے اور1988ء سے 1998ء تک عرب روزنامے الحیات کے مینجنگ ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند