شام میں فری آرمی (سرکاری فوج سے منحرف اہل کاروں پر مشتمل فورس) کے حلب آپریشن روم کی جانب سے جاری بیان میں عالمی برادری کو حلب میں شہریوں پر حملے رکوانے کے مقصد سے بشار الاسد کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے 24 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے۔

ہفتے کے روز جاری ہونے والے بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو فری آرمی جنگ بندی کو منسوخ سمجھے گی اور فضائی حملوں کے روکے جانے تک حکومتی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر کام کرے گی۔

سرکاری فوج کے طیاروں کے حملوں میں گزشتہ چند روز کے دوران درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ ڈیڈلائن ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے جنرل کوآرڈی نیٹر ریاض حجاب نے کمیٹی کی جنیوا مذاکرات میں شرکت کو معطل رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ فیصلہ شامی حکومت اور اس کے حلیفوں کی بمباری کی وجہ سے بہنے والے شامی لہو کے احترام میں اور اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی میستورا اور ان کی ٹیم کے زیرنظر اور زیرسماعت محاصرے کی پالیسی کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔