حزب اللہ کو 1980ء کے عشرے کے اوائل میں اپنے قیام کے بعد سے اتنا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا تھا جتنا اب اس کو شام میں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔شام میں اس جماعت کی ہلاکتوں کی تعداد اسرائیل کے ساتھ لڑی گئی تمام جنگوں میں ہلاکتوں سے بھی بڑھ چکی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس کے ایک ہزار سے تین ہزار تک جنگجو مارے جاچکے ہیں اور ان میں متعدد سرکردہ کمانڈر بھی شامل ہیں۔

دو لکھاریوں میتھیو لیوٹ اور نداف پولک کے مطابق ان مرنے والوں میں لبنانی نژاد کینڈین فوزی ایوب بھی شامل ہیں۔وہ شام کے جنوبی شہر درعا میں مارے گئے تھے۔وہ امریکی ایف بی آئی کو مطلوب افراد میں سے ایک تھے۔حزب اللہ کے کمانڈر حسن حسین الحاج ادلب کے نواح میں لڑائی میں ،خلیل محمد حامد خلیل حمص میں ،علی فیاض حلب میں،خلیل علی حسن اسی ماہ حلب میں اورشام میں جماعت کے ایک سرکردہ لیڈر مصطفیٰ بدرالدین مئی میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔

یہ تمام افراد شامی باغیوں یا دوسرے مسلح گروپوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ایران کی طرح حزب اللہ لبنان میں اپنی کمیونٹی میں لازمی بھرتی کی پابندی عاید نہیں کرسکتی ہے۔وہ صرف مذہبی یا سیاسی پروپیگنڈے کے بل پر یا مالی ترغیبات ہی کے ذریعے انھیں اپنی صفوں میں لاسکتی ہے۔

حزب اللہ کے رہ نما حسن نصراللہ نے چندماہ کے اندر ''انتہا پسند گروپوں'' کے قلع قمع کا عزم کیا تھا لیکن اب شام میں گذشتہ پانچ سال سے جنگ جاری ہے اور حزب اللہ کو اس میں مداخلت کیے چار سال گزر چکے ہیں۔کیا وہ اس جنگ کو تادیر جاری رکھنا چاہتی ہے؟شام میں حزب اللہ نے مداخلت کے بعد اپنے پاؤں دوسرے علاقوں تک بھی پھیلا دیے ہیں اوراس کے جنگجو عراق میں ایران کی جانب سے لڑرہے ہیں۔لبنان میں وہ ہروقت چوکسی کی حالت میں زندہ ہے۔

مضمرات

شام میں جانی اور مالی نقصان کے علاوہ حزب اللہ اپنی تمام شہرت بھی کھو بیٹھی ہے اور اسرائیل کے خلاف محاذ آرائی میں اس کو جو حمایت حاصل ہوئی تھی،اب وہ اس سے محروم ہوچکی ہے۔شام میں ایران کی ناکامی کے حزب اللہ کے لیے اس ملک کے علاوہ لبنان میں بھی سنگین مضمرات ہوں گے اور اس کے زیادہ امکانات نظر آرہے ہیں۔

یہ جماعت اسرائیل کے خلاف اپنی شکستوں کے کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتی رہی ہے۔ جیسا کہ اس نے سنہ 2006ء کی جنگ میں کیا تھا اور اپنی شکست کا یہ جواز تراشا تھا کہ اس نے اسرائیل کو اس کے مقاصد حاصل نہیں کرنے دیے،اس لیے وہی فاتح رہی ہے۔اگر وہ شام میں شکست سے دوچار ہوتی ہے یا جانی نقصان اٹھانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو وہ لبنان کے اہل تشیع کی حمایت حاصل کرنے کا جواز بھی کھو بیٹھے گی۔

حزب اللہ ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہتی ہے کہ وہ ان کے تحفظ اور وجود کو برقرار رکھنے کے لیے شام میں جنگ لڑرہی ہے لیکن اب یہ جنگ ایران کے مفادات کی جنگ بن چکی ہے اور حزب اللہ کے جنگجو اس کے گماشتوں کے طور پر لڑرہے ہیں۔

حزب اللہ کی شامی جنگ میں شمولیت کا شیعہ کمیونٹی کو خمیازہ بھگتنا پڑا ہے اور انھیں موعودہ سلامتی بھی حاصل نہیں ہوئی ہے۔حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمتی ملیشیا کا دعویٰ اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔خاص طور پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد سے تو وہ اب مزاحمتی قوت بھی نہیں رہی ہے۔شام میں جانی نقصان اٹھانے کے بعد اس کو لبنان میں بھی چیلنجز درپیش ہوں گے۔

حزب اللہ اور ایران شامی تنازعے کے کسی ایسے حل کو مسترد کرتے چلے آرہے ہیں جس میں بشارالاسد کے مکمل بااختیار صدر کے طور پر برسراقتدار رہنے کے امکانات نہ ہوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شام میں بشارالاسد کی شکست لبنان میں حزب اللہ کے خاتمے کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

شامی دلدل میں گھس کر حزب اللہ کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے حالانکہ اس کے جنگجو اسرائیل کے خلاف لڑائیوں کے دوران شہریوں کے درمیان چھپ کر یا زیرزمین جاکر اس طرح کے نقصانات سے بچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔شام کی بری جنگ نے حزب اللہ کی شہرت ،تاریخ ،مقبولیت ،جواز سب کچھ تار تار کردیا ہے اور وہ اپنے نوجوانوں اور لیڈروں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔

-------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے