گذشتہ آٹھ سال کے دوران خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کی تزویراتی سوچ کو جغرافیائی سیاسی بھونچالوں کا بڑا تجربہ ہوا ہے۔یہ بھونچال اوباما انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے پالیسی نے برپا کیے تھے اور یہی پالیسی امریکا کے چوالیسویں صدر کا ورثہ قرار پائے گی۔

جب صدر اوباما نے امریکا کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے اپنے عہد کا آغاز کیا تو جی سی سی کے عہدے دار پہلے ہی بش انتظامیہ کی عراق پر امریکی قبضے کے بعد معاملہ کاری اور پھر اوباما کے بغداد کے ساتھ 2011ء میں سوفا سمجھوتے کے خاتمے پر پریشان تھے۔مصر میں ہونے والی اتھل پتھل بھی ایک ایسا معاملہ تھا جہاں واشنگٹن مصری صدر حسنی مبارک کی حمایت سے دستبردار ہوگیا تھا۔

جی سی سی کے مفادات کو اوباما انتظامیہ کے آخری دو برسوں میں کافی نقصان پہنچا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مشترکہ جامع لائحہ عمل :

خلیجی ریاستیں یہ سمجھتی ہیں کہ ایران کو عرب سرزمینوں پر قبضے کے لیے بااختیار بنایا جارہا ہے اور گماشتہ جنگوں کے ذریعے سعودی عرب پر براہ راست دباؤ ڈالا جارہا ہے۔بالخصوص یمنی ،سعودی سرحد پر جنگ کے ذریعے۔ ایران یمن میں حوثیوں کو مسلسل میزائلوں سمیت اسلحہ اور ہتھیار مہیا کررہا ہے۔

ایک خلیجی عہدے دار کا کہنا ہے:''یہی دراصل امریکا اور ایران کا سب سے بڑا سودا ہے اور ہم سب کو اس پر تشویش لاحق ہے۔جو کچھ رونما ہورہا ہے ،اس کو ذرا ملاحظہ کیجیے۔سعودی عرب کی سرحد پر ایک گماشتہ ریاست قائم ہے اور یہ سب مشترکہ جامع لائحہ عمل کے خلیجی ذہنیت کی بالادستی پر اثرات کا نتیجہ ہے''۔اب اس جامع لائحہ عمل میں ترامیم کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن نقصان تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔

انصاف برخلاف مدد گاراں دہشت گردی ایکٹ ( جاسٹا):

اوباما کی ناک کے نیچے امریکی کانگریس نے جاسٹا کی منظوری دی تھی اور اس سے آیندہ برسوں کے دوران قانونی عذرداریوں کا ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے کیونکہ امریکی شہری گیارہ ستمبر کے حملوں کی پاداش میں سعودی عرب کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کر سکتے ہیں۔ جاسٹا نے غیرملکی خود مختاری کے استثنا کے قانونی نظریے کو محدود کردیا ہے۔اس کے تحت بیرون ملک امریکیوں کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔امریکا کی قانونی برادری میں امریکا اور جی سی سی ممالک کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعلقات پر جاسٹا کے اثرات کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

مصر کے مسائل جاریہ

اوباما انتظامیہ نے بحران کے دور میں اپنے ایک اہم اتحادی عرب ملک مصر کو تنہا چھوڑ دیا تھا اور اس نے اخوان المسلمون کے ساتھ ایک متبادل اتھارٹی کے طور پر تجربہ کرنے کی کوشش کی تھی۔اس نے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اسلام کو نظم ونسق کے ایک متبادل نمونے کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی تھی۔

جی سی سی کی ریاستوں نے اوباما انتظامیہ کی اس کوشش کو عرب بادشاہتوں کے لیے ایک براہ راست خطرہ سمجھا تھا۔یہ کوشش بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی مگر اس سے مصر سمیت متعدد ممالک انتشار اور افراتفری کا شکار ہوکررہ گئے۔ مصر اب عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کا دریوزہ گر ہے اور وہ بعض عرب اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔

اوباما انتظامیہ کی اخوان المسلمون کے لیے حمایت کو مشرقِ وسطیٰ اور خاص طور پر لیبیا کے ذریعے دیکھنا چاہیے۔مصر کا جنگ زدہ ہمسایہ ملک ( لیبیا) اب خانہ جنگی کے ایک نئے دور کا تجربہ کرنے جارہا ہے اور اس کے شمالی افریقا کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے ڈرامائی مضمرات ہوں گے۔

عراق اور شام کے میدان جنگ

جی سی سی نے صدر اوباما کو عراق سے امریکی افواج کے قبل ازوقت انخلاء پر مورد الزام ٹھہرایا تھا۔وہ اس وقت اس ملک کے دفاع کے لیے تیار تھیں۔صدر اوباما امریکی افواج کو واپس بلا کر سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ساتھ کھڑے ہوگئے ،ان کی مدد کی مگر ان کے ایران کے ساتھ تعلقات پر آنکھیں موند لیں۔ اس سے عراق میں شیعوں کے سوا ہر کوئی دیوار سے لگتا چلا گیا۔اس کا نتیجہ دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) کے ظہورکی صورت میں نکلا اور اس کے جنگجو ہرکہیں پھیل گئے۔

ادھر شام میں صدر اوباما کی ''سرخ لکیر'' بار بار پاٹی گئی مگر وہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔ جی سی سی کے رکن ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ صدر اوباما کی ناکام حکمت عملی کے سبب داعش کا احیاء ہوا ،ایرانی بالادستی قائم ہوئی ،ایک لاکھ سے زیادہ جنگجوؤں پر مشتمل شتر بے مہار شیعہ ملیشیاؤں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا اور ان سب پر مستزاد ایک علاقائی گماشتہ جنگ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اوباما کی اس کم زور حکمت عملی کی بدولت روس کو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے علاقائی کھلاڑی کی حیثیت سے داخل ہونے کا موقع ملا اور اب خلیجی عرب ریاستیں اس کو بعض علاقائی مسائل میں ایک نئے ممکنہ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ورثہ یا نہیں؟

کچھ دوسرے مسائل بھی ہیں جو اوباما کے ورثے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بالخصوص صدر اوباما کا اخبار ''دا نیویارکر'' کو دیا گیا انٹرویو۔اس میں انھوں نے ''آزادانہ روش'' کی بات کی تھی لیکن اس کا شاید ایک اچھا نتیجہ ہوسکتا تھا اور وہ یہ کہ اوباما انتظامیہ جی سی سی ریاستوں کو اس انداز میں با اختیار بناتی کہ وہ اپنے اپنے طور پر میدان میں آنے پر مجبور ہوتے اور اپنا ریاستی اور غیر ریاستی خطرات سے دفاع کرتے۔

یہ نظریہ کہ جی سی سی ریاستوں کو امریکا کی ضرورت نہیں رہی ہے،اب ایک ٹھوس حقیقت بنتا جارہا ہے اور یہ ریاستیں اس کی عادی ہوتی جارہی ہیں۔ جی سی سی ریاستوں کو یقینی طور پر امریکا کی فوجی ٹیکنالوجی اور مدد کی ضرورت ہے لیکن سیاسی طور پر یہ ریاستیں اپنی علاقائی جنگوں کو لڑنے کے لیے اپنی حقیقی سیاست کی بنیاد پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتی ہیں۔

یادرہے کہ اوباما یہی ورثہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منتقل کرنے جارہے ہیں۔ ٹرمپ کی عبوری ٹیم کے امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ میں نئے تقرروں سے یہ لگتا ہے کہ آیندہ مشرقِ وسطیٰ میں جی سی سی کے نظریات کو تقویت دینے کے در وا کیے جارہے ہیں۔ جی سی سی اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان دیانت دارانہ اور صاف گوئی سے بات چیت مشرق وسطیٰ میں مفید ثمرات لائے گی۔

خلیجی عرب ممالک امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کے لیے دیکھ رہے ہیں لیکن یہ خطہ اوباما انتظامیہ کے آخری دنوں میں تو ''امریکا کے بغیر'' ہی نظر آرہا ہے۔اوباما کا ورثہ تار تار ہوچکا ہے۔
-------------------------------
(ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک دبئی میں مقیم ہیں۔ وہ جغرافیائی ،سیاسی امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔انھوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی لاس اینجلس سے تاریخ میں چار شعبوں مشرق وسطیٰ ،روس اور قفقاز اور ذیلی شعبے ثقافتی بشریات (کلچرل اینتھروپالوجی) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے