ایران کے انقلاب نے ایرانی معاشرے کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس جدید دور میں وہ اسلامی تعلیمات پر مبنی ایک صالح معاشرہ مظر آنے لگا۔ شرعی قوانین کے نفاذ نے اس فسق وفجور سے بھرے ماحول کو پاک کردیا۔ وہ تہران جس کی گلیوں، بازاروں، کلبوں، شراب خونوں اور ناچ گھروں سے مغرب کے تمدن کا گمان ہوتا تھا۔ وہاں اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں۔ صرف شرعی قوانین کا نفاذ ہی نہیں بلکہ کار پوریٹ کلچر کا ایسا کچلا گیا کہ نہ وہاں کوئی عالمی فوڈ چین تھی اور نہ ہی کوئی فائیو سٹار ہوٹلوں کے نام نظر آتے تھے۔

شاہ ایران کے زمانے کا حیات ریجنسی اب ہوٹل برزگ آزادی کہلاتا تھا اور ہلٹن کو ہوٹل استقلال کا نام دے دیا گیا۔ پوری ایرانی قوم جسے فرانسیسی تہذیب میں رنگ دیا گیا تھا اور فارسی زبان میں بھی فرانسیسی الفاظ سرایت کرچکے تھے، وہاں نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم کا فارسی زبان میں ڈھال کر ایک ایسا کمال کیا کہ آج ایرانی قوم تعلیم وسائنس وٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ انہوں نے یہ گر جان لیا تھا کہ قومیں صرف مادری زبان میں علم حاصل کرکے ترقی کرتی ہیں فارسی زبان چونکہ اس پورے خطے کے اسلامی معاشرے کی زبان ہے اور صدیوں سے مذہبی کتب اسی میں تحریر کی جاتی رہی ہیں۔ اس لیے اس زبان کو اہمیت دینے سے ایران میں قدیم اسلامی فن خطاطی نے دوبارہ عروج پکڑا۔ وہ ایرانی قوم جس کی شاعری اور نثر مغرب سے متاثر ہوچکی تھی، اس میں حافظ، سعدی، جامی اور رومی واپس آگئے۔ ولایت فقیہہ کا تصور ہی بہت جاندار تھا۔

اس نے ایرانی قوم میں ایک نئی روح پھونک دی اس تصور کے عام ہونے سے پہلے ایرانی ایک انتظار کرتی ہوئی قوم تھی جو امام غائب اور مہدی منتظر کی راہ دیکھ رہی تھی کہ وہ آخر الزمان میں آکر زمام اقتدار سنبھالیں گے اور شریعت کا نفاذ کریں گے، لیکن آیت اللہ خمینی نے یہ تصور دیا کہ ہمیں اپنے عہد اور اپنی زندگی کا بھی اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ اس لیے جو مرجع ہوتا ہے وہ امام غائب کا نائب ہوتا ہے اور اسے اقتدار ہاتھ میں لے کر معاشرے میں شریعت مطہرہ کو نافذ کرنا چاہیے۔ اس تصور نے ایرانی قوم کو ایک نئی زندگی دے دی۔ کامیاب انقلاب نے انہیں ویسے ہی بہت پراعتماد کردیا تھا۔ لیکن اس نقلاب کے دوران ایک تصور بہت زور شور سے عام ہوگیا تھا کہ ہمیں اس انقلاب کو پوری امت مسلمہ میں پھیلانا ے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شاہ ایران کے خلاف تحریک مذہبی قیادت اور کمیونسٹ تودہ پارٹی کے زیر اثر گروہوں نے مل کر چلائی تھی۔ اول اول تویوں لگتا تھا کہ ایران میں دوبارہ مصدق والا انقلاب آنے والا ہے۔ سارے وہی طریقے اختیار کیے گئے جو گوریلا جنگ سے لے کر عوامی مظاہروں تک کمیونسٹ جدوجہد میں عام سمجھے جاتے تھے اور اختیار کیے جاتے تھے۔ انقلاب آنے کے بعد یہ سوچ قیادت میں عام ہوگئی کہ جس طرح روس نے دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیاں بنوا کر اور گوریلا جدوجہد بلکہ بعض جگہ تو فوجی انقلاب کے ذریعے کمیونزم نافذ کیا ہے ایرانی انقلاب کو بھی ویسے ہی اسلامی دنیا میں پھیلایا جاسکتا ہے۔ یہ وہ عظیم غلطی تھی جس نے خطے میں ایرانی مداخلت کو راہ دکھائی۔

کمیونسٹ انقلاب اور ایران کے انقلاب میں ایک بہت بڑا فرق تھا، جسے ایرانی قیادت نہ سمجھ سکی۔ وہ یہ کہ کمیونسٹ پارٹیاں بلا تفریق مذہب بنتی تھیں اور ان سب کا ''پیغمبر'' کارل مارکس تھا، ''مقدس کتاب'' داس کیپٹل اور ''شریعت'' کمیونسٹ مینی فیسٹو میں درج تھی۔ جو بھی اس پارٹی میں آتا وہ کمیونسٹ طریق انقلاب پر ایمان لے کر آتا۔ اپنے گزشتہ مذہبی عقائد کو پس پشت ڈال دیتا۔ لیکن ایران کو تو چاروں جانب مسالک کا سامنا تھا۔ پوری امت چودہ سو سال سے ان میں تقسیم تھی۔ آغاز میں ایرانی قیادت نے اردگرد کے ممالک کے سنی علماء اور دانشوروں سے رابطے قائم کیے۔ ویسے بھی ایران کے کامیاب انقلاب کے بعد یہ سب لوگ اس معاشرتی تبدیلی سے بہت متاثر تھے۔ رابطے کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن اپنے اپنے ممالک میں ایک ایسی تنظیم قائم کرکے اسلامی انقلاب کی جدوجہد کرنا بہت مشکل تھا۔ یہاں سے وہ راستہ چنا گیا جس نے پوری مسلم امت میں پہلے سیموجود تقسیم کو مزید واضح کر دیا۔

ایران نے اپنے اردگرد ممالک میں موجود اپنے ہم مسلک افراد کو منظم کرنا شروع کردیا۔ بحرین، کویت، یمن، عراق اور لبنان میں گروہ منظم ہونے لگے۔ لبنان کی خانہ جنگی میں حزب اللہ کی صورت میں ایک طاقتور فوجی طاقت بنانے میں ایران نے بھرپور کردار ادا کیا اور آج وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود لبنان پر تسلط رکھتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ہوا۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف بیس سال قبل پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں ہر مسلک اور مکتبہ فکر کے علماء جن میں ممتاز عالم دین مفتی جعفر حسین بھی شامل تھے انہوں نے متفقہ طور پر نفاذ اسلام کے لیے بائیس نکات پر دستخط کیے تھے۔ ایرانی انقلاب کے بعد ایک اقلیتی فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے لگے۔ یہی دور تھا جب 1985ء میں کوئٹہ کا سانحہ ہوا لیکن چند گھنٹوں بعد ہی یہ احساس ہوگیا کہ ہمیں غلط راستے پر ڈالا گیا تھا، کیونکہ جب کوئٹہ میں فوج بلائی گئی، کوفیو لگا تو ''ہزارہ'' کمیونٹی بہت جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی۔ لیکن وہ ''انقلابی'' روح جوان میں بھر دی گئی تھی وہ انہیں چین نہیں لینے دیتی تھی۔

علامہ عارف الحسینی کے اندوہناک قتل کے بعد ایک بار پھر فساد پھوٹے، دکانوں کو آگ لگائی گئی۔ حالات پر قابو پالیا گیا۔ بہت بڑا سانحہ نہ ہوسکا لیکن اس صورت حال نے ایک خطرناک ماضی کا زندہ کردیا۔ ہزارہ قوم افغانستان میں صدیوں سے آباد تھی۔ وہ پشتونوں کے ساتھ مل کر رہ رہی تھی۔ افغانستان میں امیر عبدالرحمن کی حکومت تھی۔ اس کے خلاف اس کے بھائی محمد اسحاق نے بغاوت کا آغاز کیا تو ہزارہ قوم شیخ علی ہزراہ کی سربراہ میں بغاوت کے ساتھ ہوگئی۔ جنگ سخت ہوئی تو امیر عبدالرحمن نے فتح قائم کرنے کے لیے اسے مسلکی رنگ دے دیا اور پورے افغانستان کو ہزاروں کے خلاف متحد کرلیا۔ قبائلی عصبیت کو جب مسلک کا تڑکا لگا تو اس نے ایسی خونریزی کو جنم دیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ 1888ء کی بات تھی اور کوئٹہ میں بسنے والے پشتونوں اور ہزاروں دونوں کو وہ سب کچھ یاد تھا۔ یہ یاد دوبارہ زندگی ہوگئی اور کوئٹہ میں پہلی دفعہ قبائلی اختلاف کو مسلکی اختلاف کا تڑکا لگا دیا گیا۔ (جاری)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے