بعض لوگوں کا حافظہ بہت کم زور ہوتا ہے۔27 سال قبل (عراق کی) کویت پر چڑھائی ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔اس کے بہت سے لوگوں پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔اس سے نہ صرف کویت کے عوام متاثر ہوئے بلکہ اس کے مضمرات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

کویت پر عمومی طور پر سیاسی اور دانشورانہ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن جب کویت کا معاملہ آتا ہے تو تمام لوگوں کے ارادے نیک نہیں ہوتے ہیں۔اخوان المسلمون کے بعض ارکان اور ایران کے وفاداروں کی جانب سے حالیہ پروپیگنڈا دراصل اتحادی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کے کویت کی آزادی میں کردار کو گھٹا کر پیش کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔

پہلی بات سوچنے کی یہ ہے کہ کسی ایک فوج سےعراق کی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ فوج کے شکست سے دوچارہونے کا کوئی زیادہ امکان نہیں تھا۔امریکی فورسز گذشتہ سولہ سال سے افغانستان میں ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔2003ء میں عراق پر امریکی اور برطانوی فوج کی چڑھائی کے چند ماہ کے بعد ہی صدام حسین کی حکومت کا تو خاتمہ کردیا گیا تھا لیکن وہ وہاں آٹھ سال تک رہنے کے باوجود بغداد کے میئر تک کو ہٹا نہیں سکی تھیں جبکہ کویت کی آزادی کے ساتھ ایک سیاسی نظام کو ا س کے تمام ستونوں سمیت بحال کر دیا گیا تھا اور لوگ صرف چھے ماہ ہی میں اپنے گھروں کو لوٹ آئے تھے۔

دنیا میں کسی اور ملک یا جگہ میں آزادی کا اتنا تیز رفتار عمل کم سے کم میرے عمل میں تو نہیں ہے۔کویت کو بڑے موثر اور احسن انداز سے آزاد کرا لیا گیا تھا۔ہر کوئی اس کا کریڈٹ لینے کے دعوے کرتا ہے اور اس کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ عراق کا قبضہ چھڑانے میں سیاسی ، سفارتی ،قانونی اور میڈیا کی سطح پر کثیر الجہت کوششیں کی گئی تھیں۔

میں کویت پر قبضے اور اس کی آزادی کے عمل کو ایک ٹائم فریم میں واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔1990ء کے موسم گرما میں رونما ہونے والے واقعات کے نہ صرف ہمارے خطے بلکہ دنیا بھر اثرات مرتب ہوئے تھے۔کویت کی بین الاقوامی سرحدیں ختم ہونے سے قبل برلن کی مشرقی دیوار گر گئی تھی۔پھر یوگوسلاویہ میں رجیم کا دھڑن تختہ ہوگیا اور یہ ملک کئی حصوں میں منقسم ہوگیا۔کویت پر قبضے سے تین ماہ قبل لتھوانیا میں رجیم کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

صدام حسین کے کویت میں اپنی فوجیں داخل کرنے سے ایک ماہ قبل سوویت یونین اپنی ایک اہم جمہوریہ یوکرین سے محروم ہوگیا تھا۔اس کے بعد کے مہینوں میں دور رس نتائج کے حامل واقعات رونما ہوئے تھے۔صرف دو ماہ کے بعد مغربی جرمنی نے اتحاد اور تاریخی حق کے نام پر مشرقی جرمنی میں بھی اپنا اثر رسوخ قائم کر لیا تھا۔بالکل ایسے ہی صدام حسین نے کویت کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کو کویت پر تاریخ حق حاصل ہے اور ماضی میں یہ ملک اس کا ہی حصہ رہا تھا۔

مشرقی یورپ اور ایشیا میں سوویت ریاستوں کے یکے بعد دیگرے خود مختاری اور آزادی کے اعلانات کے تناظر میں وہ دھول اڑی اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو اکہ اس سے ہم بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ صدام حسین نے وہ کچھ کیوں کیا جو انھوں نے کیا تھا۔ یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ نئی تاریخی تحریک سے متاثر ہوئے تھے۔

مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سعودی عرب نے صدام حسین کی وضع کردہ تاریخ کی تحریک کو روک لگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ تسلیم کرنے سے ان واقعات میں دوسروں کے کردار کی اہمیت کوئی کم نہیں ہوجاتی ہے۔میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں خود کو تاریخ ایک طالب علم سمجھتا ہوں ا ور میں سازشی نظریات میں الجھے بغیر کسی ایک واقعے سے آگے دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں۔

کویت میں جو کچھ ہوا تھا،اس کو ایک مختلف منظرنامے کے ساتھ بھی ختم کیا جاسکتا تھا اور یہ ضروری نہیں کہ یہ عمل اس کی آزادی پر ہی منتج ہوتا بلکہ اس سب کا کوئی اور منطقی انجام ہوسکتا تھا۔

بعض لوگوں کی رائے کے بالکل برعکس یہ ایک حقیقت ہے کہ صدام حسین کوئی امریکا مخالف نہیں تھے۔ان کے امریکیوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار تھے اور یہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران میں فوج اور انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون کی صورت میں مزید مضبوط ہوئے تھے ۔ یہ بات خارج از امکان نہیں تھی کہ امریکا کویت پر قبضے کے واقعے کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق بھی معاملہ کرسکتا تھا۔ وہ ایک جزوی حل پر متفق ہوسکتا تھا۔وہ کویت میں ایک کٹھ پتلی حکومت یا اس شرط پر عراق کے قبضے ہی کو تسلیم کرسکتا تھا کہ وہ اس کے تزویراتی مفادات کے لیے کوئی خطرہ نہیں بنے گا۔

صدام حسین نے صدر بش کی انتظامیہ کو یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے سعودیوں کو بھی اس تجویز پر رضامند کرنے کی کوشش کی تھی۔ صدام حسین کی جانب سے اس معاملے میں ثالث کار اردن کے مرحوم شاہ حسین تھے۔وہ امریکا کے بھی قریب تھے اور انھوں نے بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

کشتیاں جلادیں!

یہ کویت کی خوش قسمتی اور صدام حسین کی بدقسمتی تھی کہ سعودی عرب کے مرحوم شاہ فہد ( اللہ ان کی مغفرت فرمائیں) نے صدام حسین کے سامنے اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے ہرچیز کا خطرہ مول لیا۔یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ تب واشنگٹن میں شہزادہ بندر بن سلطان سعودی عرب کے سفیر تھے اور بلاشبہ وہ ایک غیرمعمولی سفارت کار تھے۔

اس وقت صدام حسین کے اتحادیوں اور کویت کے اتحادیوں کے درمیان ایک دوڑ لگی ہوئی تھی۔وہ سب امریکی حکومت کو اپنے اپنے موقف کے حق میں آمادہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔اس وقت برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے امریکی صدر بش کو باور کرایا کہ اب متزلزل انداز میں آگے بڑھنے کے لیے کوئی وقت نہیں رہ گیا ہے۔

واشنگٹن میں پانچ ماہ تک دو عرب گروپوں کے درمیان سیاسی تنازع جاری رہا تھا۔کویت پر قبضے اور اس کے ختم کرانے کے موضوع پر بحث ومباحثہ ہو رہا تھا جبکہ امریکا نے آیندہ سال کے آغاز تک سیاسی حل کا دروازہ کھلا رکھا ہوا تھا۔ 12جنوری 1991ء کو صدر بش نے کانگریس سے جنگ کی منظوری کے لیے کہا اور اس نے بہت معمولی اکثریت سےاس جنگ کے حق میں ووٹ دے دیا تھا۔

ایسے بہت سے منظرنامے ہیں جن میں کویت کو آزاد نہیں کرایا جاسکتا تھا۔ان میں سب سے اہم امکان یہ ہے کہ اگر صدام حسین امریکا کو یہ یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہوجاتے کہ وہ اس کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تو وہ اس جنگ سے ہاتھ کھینچ سکتا تھا۔وہ کسی جزوی حل پر بھی راضی ہو سکتا تھا کیونکہ امریکی فورسز اس وقت سابق سوویت یونین کے ساتھ الجھی ہوئی تھیں یا پھر وہ کویت کے ایشو کو کئی سال تک موخر کرسکتا تھا۔

سوویت قیادت نے ہیلسنکی میں اجلاس کے موقع پر صدر بش کو ایک سیا سی حل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔فرانس بھی یہی چاہتا تھا۔ 17جون کو عراقی فوجوں پر حملے سے دو روز قبل ہی صدام حسین نے مشروط طور پر کویت سے انخلا کا اعلان کردیا تھا۔انھیں سی این این پر دیکھنے سے قبل جنگ کا یقین نہیں تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کے دباؤ ہی نے اس جنگ کو ممکن بنایا تھا اور اسی نے بعد میں جو کچھ رونما ہواتھا،اس کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کی تھی۔
-----------------------------
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے