پاکستان کا ایک ا علیٰ سطحی وفد سعودی عرب سے ہو کر آیا ہے، اس میں وزیر اعظم اورآرمی چیف کے پائے کی شخصیات شامل تھیں۔ اس لئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر اہم ترین معاملات کے لئے اس وفد نے سعودیہ کا دورہ کیا ہو گا۔

اگر تو زیر بحث معاملات کا تعلق کسی کی ذات سے ہے تومجھے ا س پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا لیکن باور کیا جا سکتا ہے کہ ایک اعلیٰ ترین وفد فردِ واحد یا چند شخصیات کی قسمت کا فیصلہ تو نہیں کرنے گیا تھا، لازمی طور پر معاملہ سعودی عرب اور اس کی سکیورٹی کا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سعودی عرب کو بعض سنگین سیکورٹی خدشات لاحق ہیں اور وہ انہی پر پاکستان کی مدد کا طالب ہے۔

سعودی عرب کی سکیورٹی کا مسئلہ یمن کے بحران کے بعد سنگین ہو گیا تھا جہاں حوثی باغیوں نے نہ صرف یمن پر قبضے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا بلکہ سعودی سرحد پر بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا، بعد میں سعودی عرب کے اندر بھی دھماکے ہوئے جن میں جدہ ا ور مسجد نبوی کا دھماکہ امت مسلمہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا۔

مجھے ان بزرجمہروں سے شدید اختلاف ہے جو سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو ایران کی عینک سے دیکھتے ہیں ، ایران اپنی جگہ پر محترم ہمسایہ ہے مگر سعودی عرب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی صورت میں ہمیں سعودی حکومت اور وہاں کے عوام کی تشویش کو مدِنظر رکھنا ہو گا، سعودی عرب سے ہمارا اتحاد ایران کے خلاف نہیں۔ آخر ایران نے بھی پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت سے بہت بڑے معاہدے کر رکھے ہیں، اس کی سرزمین کلبھوشن یادیو کے استعمال میں رہی ہے، ایران ایک ہمہ مقتدر ملک ہے اور اسے اپنے فیصلے کرتے ہوئے پاکستان سے ڈکٹیشن لینے کی کوئی ضرورت نہیں، اسی طرح پاکستان بھی ایک خود مختارملک ہے اور اسے اپنے فیصلوں میں ایران کی رائے سے متاثر ہونا ضروری نہیں، ہر ملک اپنے آزادانہ فیصلوں کے باوجود اپنے دوسرے دوستوں سے برابری کے تعلقات رکھ سکتا ہے ا ور ایران ا ور پاکستان پچھلے کئی عشروں سے اسی تنی ہوئی رسی پر کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

اب آئیے کہ سعودی عرب کو ہم سے کیا تعاون چاہئے۔ ظاہر ہے دفاعی تعاون چاہئے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس ضمن میں سعودی عرب کو مایوس ہی کیا ہے،ہم نے اس کی بار بار کی درخواستوں کو در خور اعتنا نہیں سمجھا، شاہ سلمان ابھی کراﺅن پرنس تھے جب وہ پاکستان آئے ، اس کے بعد ان کے بیٹے محمد پاکستان آتے رہے ہیں اسی دور میں سعودیہ ہمیں اڑھائی ارب ڈالر تحفے میں عطا کر چکا ہے تاکہ ہم اپنی ادائیگیوں کے توازن کو درست کر لیں۔ ذرا مڑ کر دیکھیں اور بیٹھ کر گنیں کہ اڑھائی ارب ڈالر کتنی بڑی رقم ہے جو اسحق ڈار سعودیہ سے بلا حساب لے ا ٓئے تھے۔اور جو لوگ اسحق ڈار کو صلواتیں سنا رہے ہیں کہ انہوںنے خزانہ لوٹ لیا وہ ذرا کڑکتے نوٹوں سے بھرے ان لفافوں پر نظر ڈالیں جو ایک جنرل صاحب فیض آباد کے دھرنے والوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ یہ رقم قومی خزانے ہی سے نکالی گئی تھی۔

سعودی درخواست پر اسے اپنی فوجی مدد نہ دینے کی وجوہ نواز شریف اور جنرل راحیل ضرور جانتے ہوں گے مگر ہم نے جو اعلان کیا وہ یہ تھا کہ ہم یمن میں لڑنے کے لئے اپنی فوج نہیں دے سکتے البتہ سعودی سیکورٹی کو اندرونی خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا۔

گر میرے علم میں کم از کم یہ نہیں کہ سعودی عرب کے طول و عرض میں دھماکے ہونے لگے تو پاکستان نے ا س دہشت گردی کی لہر کے مقابلے میں کوئی نفری بھیجی یا نہیں، میرا خیال ہے کہ نہیں، اکیلے جنرل راحیل کو بھیج دینا میں کافی نہیں سمجھتا اگرچہ علامتی طور پر اسکی بھی ایک خصوصی اہمیت ہے مگر ہماری ہچکچاہٹ کا سبب کیا تھا۔ ایک یہ کہ یمن ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے جس کے معاملات سے سعودیہ کا بظاہر تعلق نہیں بنتا۔ دوسرے اگر ہم یمن میں کومٹ ہو گئے تو اس کا مطلب ایران کے ساتھ براہ راست جنگ ہے،ہمارے کچھ لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے کہ یمن میں اگر ایران موجود بھی ہے تو پھر بھی سعودیہ کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ایسے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ وہ ا یوب خان کی 6 ستمبر 65ءکی تقریر ایک بار پھر سنیں جس میں ایوب خان نے کہا تھا کہ پاکستان شروع سے واویلا کر رہا ہے کہ بھارت جو اسلحہ چین کا ہوا کھڑا کر کے اکٹھا کر رہا ہے ، وہ بالآخر پاکستان کے خلاف استعمال ہو گا کیونکہ بھارت کسی صورت چین سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتا۔ باکل یہی دلیل سعودی عرب بھی دے رہا تھا کہ حوثی باغی ایران سے جو اسلحہ اور فوجی مدد لے رہے ہیں ، وہ در حقیقت سعودیہ ہی کے خلاف استعمال ہو گی۔ بد قسمتی سے ہم نے اس دلیل کوسننے سے انکار کر دیا ۔

ہمارا ایک اور نظریہ بھی محض کچھ نہ کرنے اور سعودیہ کو ٹالنے کا ایک بہانہ تھا۔ کہ پاک فوج کے اندر شیعہ طبقے کے کافی لوگ ہیں ، اس لئے یمن میں ایران کے خلاف انہیں کومٹ کرنے سے پاکستان داخلی مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ مجھے بتائیے کہ کیا 65ءاور 71ءکی پاک بھارت جنگوں میں ہمارے غیر مسلم بلکہ ہندو اور سکھ فوجی بھارتی ہندو اور سکھ فوج کے خلاف نہیں لڑے ، سیسل چودھری کون تھا اور کونسی بہادری اورشجاعت ہے جس کا اس نے مظاہرہ نہیں کیا۔ میں یہاں درجنوں غیر مسلموں کے نام گنوا سکتا ہوں جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے وطن عزیز کے لئے جانیں دیں اور شجاعت کے لہو رنگ، سرخ تمغے جیتے۔

میرا سوال ہے کہ جب جنگ عظیم کے دوران خانہ کعبہ جیسے مقدس مقام پر گولی چلائی گئی تو کیا ہندوستانی فوج کے کسی مسلمان فوجی نے اس سے انکار کیا تھا اور میں پوچھتا ہوں کہ کیا یمن کا علاقہ خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس ہے۔

ہمیں سعودی عرب کی مدد کرنی چاہئے اور من و تو کی بحث سے بالاتر ہو کر کرنی چاہئے۔

بشکریہ نوائے وقت
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے