تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں قبائلیت اور فرقہ واریت کے ساتھ داعش کے قدم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 12 ربیع الاول 1440هـ - 21 نومبر 2018م
آخری اشاعت: بدھ 6 شوال 1439هـ - 20 جون 2018م KSA 23:09 - GMT 20:09
پاکستان میں قبائلیت اور فرقہ واریت کے ساتھ داعش کے قدم

داعش کا عراق اور شام میں اس کے زیر قبضہ بیشتر علاقوں سے قلع قمع کردیا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں کہ اس کا مکمل طور پر استیصال ہوچکا ہے ۔

مسلم دنیا میں ایسے بہت سے گروپ موجود ہیں جنھوں نے ماضی میں داعش کی خلافت کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور وہ اس نام سے مقامی سطح پر کام کرتے رہے ہیں۔نیز داعش کے بہت سے جنگجو شام اور عراق میں اپنی تنظیم کی شکست سے قبل ہی دوسرے علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے تھے۔

اس گروپ نے ان دونوں ممالک میں شکست کے باوجود اپنی سخت گیری یا تشدد کو خیر باد نہیں کیا ہے۔ عالمی فوجی آرڈر میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اس گروپ سے وابستہ جنگجو اپنے طرز کی سفاکیت کو جاری رکھیں گے۔

مسلم دنیا میں اور اس کے ارد گرد بہت سے ایسے علاقے موجود ہیں ، جہاں سیاسی تشدد پھلتا پھولتا رہے گا۔لیبیا بدستور توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور یہ داعش کا ٹھکانا بنا رہے گا۔یہ ملک اس وقت خانہ جنگی کے دو فریقوں کےدرمیان منقسم ہے۔فلپائن کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک سیاسی ماحول میں بہت سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ان علاقوں میں سیاسی مقاصد کے لیے تشدد کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔

پاکستان میں قبائلی نظام ، فرقہ واریت اور اسلامیت بھی داعش ایسے گروپوں کے پھلنے پھولنے کے لیے زرخیز ثابت ہورہی ہے۔

عیسائیوں پر حملے

حال ہی میں پاکستان میں داعش نے عیسائیوں پر بعض حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے تھے۔پاکستان میں مذہبی اقلیتوں عیسائیوں اور اہل تشیع کو حملوں میں نشانہ بنانا انتہا پسند سنی گروپوں کا وتیرہ رہا ہے۔

پاکستان میں سخت گیری اور تشدد کی دلدل میں طالبان اور اس کی طرح کے بہت سے دوسرے گروپوں کےپھلنے پھولنے سے صورت حال اور بھی سنگین ہوسکتی ہے۔تاہم داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر حقیقی تشویش پائی جاتی ہے۔پاکستان میں داعش کے وابستگان ایک سو سے چند ہزار تک جنگجوؤں کو بھرتی کرسکتے ہیں اور وہ اسلامیت کے ماحول میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اصل تشویش کا سبب یہ بات نہیں کہ یہ مٹھی بھر دہشت گرد ملک میں ایک بااثر گروپ بن جائیں گےبلکہ اصل تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان کی موجودگی اور مثال سے پاکستانی طالبان ایسے گروپوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے اور اس طرح تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یوں ان گروپوں کے درمیان ’’ہتھیار وں کی ایک دوڑ ‘‘شروع ہوسکتی ہے کیونکہ ہر گروپ پاکستان کے زہرناک سیاسی ماحول میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنے کی کوشش کرے گا اور اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے نئے جنگجو بھرتی کرے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طالبان کے بعض انتہا پسند عناصر اس پیش رفتہ کا علانیہ خیر مقدم کرچکے ہیں۔

سیاسی تشدد

پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اسلامیت کے تمام تر زہر کے باوجود یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین سال سے سیاسی تشدد رو بہ زوال ہے۔پاکستان کی فوج نے دسمبر 2014ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سخت گیر اور جنگجو گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

سیاسی لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سے قطع نظر اگر کہیں تشدد سر اٹھاتا ہے تو ملک کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس پر اپنی توجہ مرکوز کریں گی اور اس کے خلاف اپنے غیر لچکدار انداز میں کریک ڈاؤن بھی کریں گی۔

ماضی میں اس انداز میں تشدد پر کڑی نظر رکھی جاتی رہی ہے۔مختلف انتہا پسند گروپوں کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش سے دوسرے طریقوں سے نمٹا جانا چاہیے۔

داعش نے اپنے قدم جمانے سے پہلے موجود انتہا پسند کھلاڑیوں کے درمیان تال میل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ابھی یہ واضح نہیں کہ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس رجحان کو جڑیں پکڑنے سے قبل ہی ختم کرنے پر آمادہ ہوں گی یا اس قابل ہوں گی کہ وہ ان کا خاتمہ کرسکیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند