تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترقی پذیر ممالک کو غیرملکی امداد کے بارے میں کیونکر محتاط ہونا چاہیے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 01:47 - GMT 22:47
ترقی پذیر ممالک کو غیرملکی امداد کے بارے میں کیونکر محتاط ہونا چاہیے؟

چین اپنے بیلٹ اور روڈ اقدام ( بی آر آئی) کے تحت بہت سے ممالک کو ان کے ہاں ڈھانچا جاتی نظام کی تعمیر کے لیے قرضوں کی شکل میں غیرملکی امداد مہیا کررہا ہے۔ابتدا میں تو یہ امداد وصول کرنے والے بہت سے ممالک بڑے پرجوش اور خوش تھے لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ قرضوں کو لوٹانے کے بوجھ نے بہت سے سوال کھڑے کردیے ہیں۔اوّل، یہ کہ کیا اس امداد کو قبول کرنا ایک اچھی سوچ کا غماز تھا۔چین کے حریف ممالک تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ تمام منصوبہ قرضوں میں جھکڑنے کا ایک حربہ ہے اور اس کا مقصد قرض وصول کرنے والے ممالک کی معیشتوں کو گروی رکھنا ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے حصے کے طور پر بعض ترقی پذیر ممالک نے بڑی طاقتوں پر غیرملکی امداد کے وعدوں کو ایفا نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس حوالے سے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بڑی طاقتیں درحقیقت ناکام ہورہی ہیں لیکن یہ شاید ایک مستور رحمت بھی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کواس کے بجائے اپنی توجہ داخلی اصلاحات پر مرکوز کرنی چاہیے۔

سفارتی حلقوں میں غیرملکی امداد بہت مقبول ہے مگر ماہرین اقتصادیات بالخصوص نیویارک یونیورسٹی کے ولیم ایسٹرلے معاشی ترقی میں اس کے کردار کے بارے میں بہت زیادہ شکوک وشبہات کے حامل ہیں۔وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کو امیر ممالک سے امداد کے مطالبے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

امداد دینے والے ممالک عام طور پرایسے سخاوت کرنے والے مخیّر نہیں ہوتے ہیں جیسا کہ ہم خیال کرتے ہیں (یا جیسا کہ وہ خود کو پیش کرتے ہیں)۔ یہ ممالک غیرملکی امداد کو ترقی پذیر ممالک کواپنا گاہک بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اقتصادی طور پر ان کے طفیلیے بن کر رہ جائیں۔نیز وہ یہ امداد اس طوراستعمال کرتے ہیں کہ اس سے خود انحصاری کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے۔

سابق سوویت یونین نے سرد جنگ کے زمانے میں اس حربے کا بھرپور طریقے سے استعمال کیا تھا۔جہاں تک چین کا تعلق ہے تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بی آر آئی کی شکل میں اس کے اصل ارادے کیا ہیں؟

اگر امداد دینےوالی حکومتیں نیک ارادوں کی بھی حامل ہوں تو امداد کی تقسیم کے لیے مقرر کردہ افسر شاہی بالعموم بہت ہی غیر موثر ہوتی ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ وہ عملی طور پر حقیقی مسائل سے کوسوں دور ہوتی ہے اور اب امدادی ایجنسیاں اس کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ کوئی بھی شخص ایک ملک کی ترقی سے متعلق مسائل کو ان لوگوں سے زیادہ بہتر نہیں جان سکتا، جنھیں روزانہ ہی ان مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کا روایتی امداد دینے والی افسر شاہی سے بہت تھوڑا رابطہ ہوتا ہے۔

یہی سبب ہے کہ عطیات کی شکل میں غیر ملکی امداد کے بالعموم بہت تھوڑے ثمرات حاصل ہوتے ہیں اور شاید وہ ضرررساں بھی ثابت ہو،جیسا کی یورپی یونین کی وافرمقدار میں خوراک کی شکل میں امداد کے معاملے میں ہوا ہے۔یورپی یونین کی 1962ء کی مشترکہ زرعی پالیسی کے نتیجے میں وافرمقدار پیدا ہوئی،تو اس کے رکن ممالک نے ترقی پذیر ممالک کوخوراک کی شکل میں امداد دینا شروع کردی تھی جس سے ان کی مقامی زراعت تباہ ہو کر رہ گئی تھی۔

نیک ارادوں کی حامل اور ایک باخبرغیرملکی حکومت کو امداد وصول کرنے والے ملک کی بدعنوان حکومت سے بھی نمٹنا ہوتا ہے۔ نیزاس امداد کو عام شہری کے لیے رحمت کے بجائے زحمت بننے سے بھی بچانا ہوتا ہے۔اس طرح کے حالات میں اس امداد کو سیاسی اصلاح پسندوں کے ساتھ تعاون کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے یا اس امداد کو ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کیا جاسکتا ہے تاکہ اس کے ذریعے بدعنوان حکمرانوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ چہ جائیکہ ملک کو ان ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔ لاطینی امریکا کے ممالک 1970ء اور1980ء کے عشروں میں اسی قسم کے تجربات سے گزرے تھے۔

سیاسی پہلو سے اگر بات کی جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ عملی شکل اختیار کرنے والی غیرملکی امداد بالعموم ضرر رساں ہی ثابت ہوتی ہے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ شہریوں کو اپنی غربت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے مگر ایک اہم بات یہ ہے کہ انھیں جہاں مدد مہیا نہیں کی جاتی ہے ،تو انھیں اس پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ وہ ایک طرح سے ’’امداد کی گولی‘‘ کو چکما دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

لیکن ترقی پذیر ممالک کو اپنے انفرااسٹرکچر کی تعمیر ،تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کہاں سے حاصل کرنا ہوگا؟ یہ تمام اقتصادی ترقی کے لیے اہم اقدامات ہیں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے کم سے کم لاگت پر بہت سی موثر اصلاحات بھی دستیاب ہیں۔

پہلی اور فطری بات تو یہ کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔غیرملکی امداد مشروط ہویا بلاشرائط، کسی بھی صورت میں ایک ملک کے لیے ایسی شے نہیں کہ اس سے بہ ذات خود ہی کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس ضمن میں بہت سے اقدامات اپنی نوعیت کے اعتبار سے سیاسی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ٹیکنالوجی کے اقدامات ہیں اور یہ کسی خانہ جنگی کے بغیر بھی کیے جاسکتے ہیں۔مثال کے طور پر سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنا۔یہ دراصل انسداد بدعنوانی کے اقدامات کے علاوہ رقم بچانے کا ایک اہم اقدام ہے۔اس کے علاوہ مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی ہے۔یہ بآسانی شہریوں کے زیر انتظام دی جاسکتی ہیں۔

خواتین ، نوجوانوں اورخصوصی ضروریات کے حامل محدود کردہ گروپوں کو بااختیار بنانا بھی اصلاحات کی جانب ایک قدم ہے۔ایسی تمام پالیسیوں کو سماجی انصاف کی بنیاد پر جواز عطا کیا جاسکتا ہے۔اس کی بہت اچھی معاشی وجوہ بھی ہیں کیونکہ جو ملک ان گروپوں کو سماجی ترقی کے عمل سے نکال باہر کرتا ہے تو وہ دراصل خود اس گروپ کے ٹیلنٹ سے استفادے سے انکاری ہوتا ہے۔ قیادت کی سطح پر یہ بات بہت اہم ہے جہاں دس لاکھ میں سے ایک بھی عبقری شخص کے نمایاں مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ہر ملک کو آبادی کے اس نمونے کو بڑھانے کی ضرورت ہے جہاں سے وہ اس طرح کا ٹیلنٹ حاصل کرسکتا ہے۔چہ جائیکہ وہ اس کو مصنوعی طور پر ایک چھوٹے گروپ میں محدود کردے۔

اقتصادی ترقی کو زیریں سطح تک لے جانے کے مسئلے پر کام کرنے والے ماہرین معیشت میں ایلنار اسٹرومس کا نام نمایاں ہے۔وہ 2009ء میں اقتصادیات میں نوبل انعام وصول پانے والی پہلی خاتون تھیں۔ ترقی پذیر ممالک میں یقینی طور پر بہت سی اسٹرومس موجود ہیں ، جنھیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مواقع مہیا نہیں کیے گئے اور وہ اپنی ملکی معیشتوں کی ترقی میں کردار ادا نہیں کرسکی ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں بدعنوانی پر مبنی قواعد وضوابط سے جڑے مسائل ایسے ہیں کہ ان کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے اور ان کے حل کے لیے بھاری مقدار میں غیرملکی سرمائے کی ترسیل کی ہرگز بھی ضرورت نہیں ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ انھیں روزگار اور کاروبار سے متعلق لائسنسوں کے اجرا کے لیے کڑی شرائط ، غیر مختتم سرخ لکیر یا غیر منطقی اور بلا امتیاز ٹیکسوں کے نفاذ کا مسئلہ متعلقہ ملک میں بنیادی طور پر داخلی سطح ہی پر حل کیا جاسکتا ہے۔

اس بیان کی اس حقیقت سے تائید ہوتی ہے کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں شہری مقہور اور بے بس ہیں اور انھیں مطلوبہ اصلاحات کو شروع کرنے کا کوئی موقع دستیاب نہیں ہے۔تاہم پروفیسر ایسٹرلی اور دوسرے ماہرین معیشت کی رائے میں غیرملکی پالیسی میں حقیقی سیاست کا مظہر یہ بات ہے کہ غیرملکی امداد دینے والے ممالک اور ادارے وہ آخری جگہ ہیں جن کی طرف مقہور عوام کو مدد کے لیے دیکھنا چاہیے اور یقینی طور پر وہ پہلی جگہ نہیں جس کی طرف جبر واستبداد کا شکار عوام کو دیکھنا چاہیے۔

غیرملکی امداد کی بہترین شکل درحقیقت غیرملکی سرمایہ ہے،امداد نہیں ہے۔ یہ منافع کے حریص سرمایہ داروں کی جانب سے رضا کارانہ طور پر دی جانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ یہ امداد دینے والے دفاتر کی جانب سے کی جانے والی مالی معاونت نہیں۔اس دو عملی کی امریکا اور لاطینی امریکا کی مثال سے بڑے خوب صورت انداز میں وضاحت کی جاسکتی ہے۔ میکسیکو میں گذشتہ پچیس سال کے دوران میں تجربہ کیا جانے والا بلند معیارِ زندگی شمالی امریکا آزاد تجارت کے سمجھوتے کی چھتری تلے امریکا کی جانب سے سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ امریکا نے اس عرصے کے دوران میں اربوں ڈالرز امداد کی شکل میں تقسیم کیے تھے لیکن اس سے حاصل وصول کچھ نہیں ہوا تھا۔

ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو اپنے اپنے نظاموں میں اصلاحات کا چیلنج درپیش ہے تاکہ وہ سرمایہ کاری کی درست شکل کو اپنی جانب راغب کرسکیں۔ ان ممالک کے شہریوں کے لیے چیلنج یہ بات ہے کہ وہ اپنی حکومتوں پر ان اصلاحات کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈالیں اور یہ دعا کریں کہ امیر ممالک اپنے وعدوں کو پورا کریں اور وہ حقیقی جذبے سے یہ کام کریں نہ کہ وہ چیک بُک مہیا کرنے کی شکل میں ایسا کریں۔
____________

عمر العبیدلی دراسات، بحرین میں مقیم ایک محقق ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند