تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کی شام میں مہم صدر ایردوآن کی انتخابی خواہشات کا شاخسانہ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 26 صفر 1441هـ - 26 اکتوبر 2019م KSA 15:05 - GMT 12:05
ترکی کی شام میں مہم صدر ایردوآن کی انتخابی خواہشات کا شاخسانہ؟

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں اپنی حالیہ سرحد پار کارروائی کو ’’جابروں اور دہشت گردوں ‘‘ کے خلاف مہم قرار دیا ہے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’ وہ وہاں شامی یا کرد عوام کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ دہشت گردوں کو سکروٹنی کے بعد نشانہ بنا رہے ہیں مگر صدر ایردوآن کی شام میں اس مہم کے دوران میں اصل ہدف تو ترکی کی نئی توانا حزب اختلاف رہی ہے۔دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ ترک صدر کی شام میں مہم کے پنہاں مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟

گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے کے دوران میں طیب ایردوآن نے اپنی حکمرانی میں ترکی کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں تقسیم اور پھوٹ سے فائدہ اٹھایا ہے مگر اس پھوٹ کو انھوں نے اپنی قابلیت قرار دیا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ مارچ میں ترکی میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کے بعد سے صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔

ان انتخابات میں ترکی کی حزب اختلاف نے ایک بڑا متحدہ بلاک تشکیل دیا تھا۔اس میں کرد نواز عوامی جمہوری پارٹی ( ایچ ڈی پی)کو حزبِ اختلاف کی دوسرے بڑی جماعتوں کےساتھ اکٹھا کیا گیا تھا۔اس اتحاد نے حیرت انگیز انتخابی کامیابی حاصل کی تھی اور ترکی کے بڑے شہر صدر ایردوآن سے چھین لیے تھے۔حزب اختلاف کا یہ اتحاد اب 2023ء میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں صدر ایردوآن اور ان کی جماعت کو شکست سے دوچار کرنے کی تیاریوں میں ہے اور ان کے دوعشرے سے جاری اقتدار کا خاتمہ ہونےوالا ہے۔

تاہم ترک صدر بآسانی اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں گے، وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے نہ صرف ترکی میں بلکہ شام میں میدانِ جنگ میں بھی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ایردوآن جانتے ہیں کہ ترکی کی اُبھرتی ہوئی حزب اختلاف کو توڑنے کا آسان راستہ یہ ہے کہ کردوں اور ترکوں کے درمیان نسلی کشیدگی کو ہوا دی جائے۔انھوں نے درست طور پریہ اندازہ لگایا ہے کہ ایچ ڈی پی اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے درمیان اختلافات کے بیج بو کر ہی وہ اس سال کے اوائل کی عبرت ناک شکست کے اعادے سے بچ سکتے ہیں۔نیزشام کے شمال مشرقی علاقے میں سرحد پار کارروائی سے ترک صدر کو امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے نہ صرف ملک بلکہ حزب اختلاف کی صفوں میں بھی نسلی اور سیاسی لکیر کھینچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

طیب ایردوآن اپنی جماعت انصاف اور ترقی (اے کے پی) کی صفوں میں تقسیم اور اس سے منحرف ہونے والوں کو بھی بڑی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ترکی کی جمہوریت سے رجعت قہقری،بڑے پیمانے پر کرپشن اور اقتصادی زبوں حالی کی بنا پر گذشتہ ایک سال کے دوران میں اے کے پی کو قریباً دس لاکھ اراکین خیرباد کہہ گئے ہیں۔معاملات کی ابتری کا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے دو سابقہ قریبی ساتھی ، سابق وزیراعظم احمد داؤداوغلو اور سابق نائب وزیراعظم علی باباجان نے بھی اے کے پی سے ناتا توڑ لیا ہےاور وہ اب دو الگ جماعتیں تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان میں حکمراں جماعت سے منحرف ہونے والے مزید قائدین اور کارکنان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔اس پر طرّہ یہ کہ سابق ترک صدر عبداللہ گل نے بھی اپنی حمایت بابا جان کے پلڑے میں ڈال دی ہے جس سے معاملات اور زیادہ گمبھیرہوگئے ہیں۔

طیب ایردوآن 2002ء میں ترکی کو درپیش اقتصادی بحران کے دور میں برسراقتدار آئے تھے اور تب تمام بڑی جماعتیں ترک پارلیمان سے آؤٹ ہوگئی تھیں۔بعد ازاں ملک میں منعقدہ پے در پے انتخابات میں رجب طیب ایردوآن کو اے کے پی کی اقتصادی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کی بدولت کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں اور یہ اس جماعت کے الا خوان المسلمون سے مستعارنظریے کی مرہونِ منت نہیں تھیں۔

صدر ایردوآن اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ ترکی میں حلقہ ہائے نیابت (ووٹر) کتنے عملی ہوتے ہیں۔ان کی گذشتہ سترہ سال سے جاری سماجی توڑ پھوڑ ( انجنئیرنگ) کی کوشش الاخوان المسلمون کی تعلیمات کو عام کرنے میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ترک ووٹروں نے استنبول میں میئر کے انتخاب میں اس بات کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ بہ خوبی ثابت کردیا ہے۔پہلے مارچ میں پھر جون میں دوبارہ میئر کے انتخاب میں صدر ایردوآن کے امیدوار سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔حد تو یہ ہے استنبول کے زیادہ مذہبی سمجھے جانے والے علاقوں نے بھی اے کے پی کی بنک دیوالا پالیسیوں پر مُنھ پھیر لیا تھا اور انھوں نے ایردوآن کے ازکار رفتہ اورآزمودہ تھکے ماندہ امیدواروں کے بجائے حزبِ اختلاف کے نئی نسل کے ابھرتے ہوئے امیدواروں کو ووٹ دیے تھے۔

اے کے پی کے حلقوں میں اس بات کی بہت کم امید پائی جاتی ہے کہ صدر ایردوآن اور ان کے داماد، ملک کے وزیر خزانہ بیرت البیراق ملک کو درپیش اقتصادی ابتری کا پہیّا پھیر سکتے ہیں۔ اپریل میں واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) اور عالمی بنک کے اجلاسوں کے دوران میں سرمایہ کاروں نے البیراق کی پریزینٹیشن کو بدترین قرار دیا تھا۔ترکی میں اس وقت بےروزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور یہ گذشتہ ایک عشرے میں سب سے زیادہ ہے۔اس صورت حال میں ایردوآن کے اپنی جماعت کے ارکان کو منحرف ہونے سے روکنے اور ووٹروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات بہت کم نظرآتے ہیں۔البیراق کو آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے حالیہ اجلاسوں میں اپنا چہرہ دکھانے کا حوصلہ نہیں ہوا ہے۔

ایردوآن اب کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتے اور وہ عملی طور پر کسی جنگ کے بغیر اقتدار چھوڑنے کو بھی تیار نہیں ہوں گے۔اگران کے سیاسی مخالفین نے گزرے برسوں کے دوران میں کوئی ایک سبق سیکھا ہے تو وہ یہ کہ ایردوآن عظیم جبلّتوں کے ساتھ سیاسی بقا کے حامل ہیں اور اس بات کو انھوں نے ایک مرتبہ پھر سرحد پار شام کے شمال مشرقی علاقے میں حالیہ فوجی کارروائی سے ثابت کردیا ہے۔انھوں نے اس کو آرول انداز میں ’’آپریشن امن بہار‘‘ کا نام دیا تھا۔

شام میں اس حالیہ فوجی مہم جوئی سے ایردوآن کو اپنی قوم پرست شناخت کو ایک مرتبہ پر بڑھاوا دینے کا موقع مل گیا ہے۔انھیں یہ بھی امید ہے کہ ان کا تیس لاکھ شامی مہاجرین کو ترکی سے شمال مشرقی شام میں منتقل کرنے کے منصوبے سے بھی ترک ووٹروں کو لبھانے کا موقع ملے گا کیونکہ ترکوں میں اس وقت ان شامی مہاجرین کے خلاف سخت جذبات پائے جارہے ہیں۔

اس دوران میں صدر ایردوآن ترکی کی کرد نواز ایچ ڈی پی اور ایسے ہی دوسرے تمام افراد کو مجرم ٹھہرانے میں مصروف ہیں جو ملک اور بیرون ملک کردوں سے امن اور مصالحت پر زور دے رہے ہیں۔اس طریقے سے صدر کو یہ امید ہے کہ وہ حزب اختلاف کے اتحاد کو کردوں کو ترکوں کے خلاف اور’’شکروں اور فاختاؤں‘‘ کے مدمقابل لاکر پارہ پارہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ترک صدر اور ان کے داماد اس بات پر بھی مشوش نظر آتے ہیں کہ اب ان کے مالیاتی انتظام اور معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کی میڈیا میں شہ سرخیاں نہیں بن رہی ہیں اور ان کی خبریں ملک میں سیاسی مباحث کی جگہ نہیں لے رہی ہیں۔

صدر ایردوآن کے امریکا اور یورپی یونین میں مؤیدین ان کے سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے نام پر اقدامات کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے لیے بہتر تو یہ ہوگا کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کریں کہ عملاً ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ وہ یہ سب کچھ ایک صدارتی مینڈیٹ کے لیے کررہے ہیں کیونکہ اگر کوئی نیا صدر آتا ہے تو وہ ان کی اس طرح کی مہم جوئیوں کو ختم کرسکتا ہے۔ترک صدر کی اس فوجی کارروائی ہی میں بقا مضمر ہے۔یہ توقع کرنا توعبث ہوگا کہ گذشتہ سے پیوستہ جمعرات کو ترکی اور شامی کردوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے شام میں ایردوآن کی مداخلت کاخاتمہ ہوجائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی نے تو ایردوآن کو ایک طرح سے قریب قریب فتح دلا دی ہے۔ترک صدر کی شام میں کارروائی دراصل ایک انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ ایک فوجی مہم جوئی بھی ہے۔
____________
ایقان ارد امیر ترک پارلیمان کے سابق رکن ہیں۔وہ فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت میں اس وقت سینیرفیلو کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔وہ اس پتے پر ٹویٹ کرتے ہیں:
tweets @aykan_erdemir.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند