تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مرگِ مفاجات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 ربیع الاول 1441هـ - 10 نومبر 2019م KSA 18:44 - GMT 15:44
مرگِ مفاجات

ہر فاتح اپنے مفتوح کےساتھ ایسے ہی کرتا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی واضح دلیل ہے ۔ فارسی کی ایک کہاوت کے مطابق زندہ وہی رہتا ہے جو گرگ باراں دید کہلاتا ہے۔ سخت جاڑے کی راتوں میں زندگی بچانے کے لیے کسی اندھیرے غار میں دبکے بھیڑیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کی نبض ٹٹولتے رہتے ہیں ۔ جسم اکڑا دینے والی خنکی ، بھوک کے مارے پیدا ہونے والی نقاہت اور موت کی خبر لاتی غنودگی میں جب پتلیاں سکڑنے لگیں ، چمک ماند پڑنے لگے، کسی ایک کے پاؤں ڈگمگا جائیں تو دوسرے پلک جھپکنے میں اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک کو مار کھانے والوں میں سے جو بچ رہتا ہے گرگ باراں دید کہلاتا ہے۔

جنگل کی دنیا سے باہر نکلیں اور انسانوں کے مہذب معاشروں پر نظر دوڑائیں تو نہتے اور بےگناہ لوگوں کو تہ تیغ کرنے والا ہی ہلاکوخان ، چنگیزخان یا پھر سکندراعظم کہلاتا ہے ۔ منطق کی رو سے اگرچہ ایسے فاتحین اور بھیڑیوں میں کوئی فرق نہیں۔تاہم انسان اور حیوان کے القابات کی حرمت کا خیال مانع ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کر دی اور مودی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا۔ پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔

جسٹس ایس عبدالنذیر کی اسلام سے رغبت پر انگلی اٹھانے کا حق نہیں بنتا مگر قیاس ہے کہ نقارخانے میں توتی کی آواز کس نے سنی ہو گی۔ عدالتی فیصلے میں ایک عجیب منطق گھڑی گئی کہ بابری مسجد کی جگہ مندر نہ بنایا گیا تو مودی سرکار بھی نہیں رہے گی۔انصاف جب حکومتوں کے رہنے یا نہ رہنے کی ضمانت سے مشروط ہو جائے تو پھر خدا کی پناہ ۔ 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے 16ویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے یوں تو مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا حکم دیا ہے لیکن بات زمین کے ٹکڑے کی نہیں ۔ حصول انصاف کی ہے ۔

یاد رہے کہ جب کوئی فرد یا قوم کمزور ہو جائے تو پھر بالترتیب اس گھر یا ملک پر نحوست کے سائے ڈیرے ڈال لیتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ آرائی سے پہلے ہمیں مسلم دنیا کی طاقت کا اندازہ لگا لینا چاہیے ۔

بزرگ بتاتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی تاریخ دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا احاطہ کرتا ہے ، دوسرا آج تک کے کلمہ گو مسلمانوں کے اعمال کو ضبط تحریر میں لاتا ہے۔ اسلامی دنیا کی ابتدائی تاریخ میں انصاف اور اس کے حصول کی درخشاں مثالیں موجود ہیں ۔ حہاں جاہ و منصب کے بجائے حب دین کا دور دورہ ، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عملدرآمد اور سیرت نبی ، جامع نمونہ حیات نظر آتی ہے۔ بعد کی معلوم تاریخ میں جہاں فتوحات کے قطار اندر قطار واقعات رقم ہیں، وہیں غلام گردشوں میں جنم لینے والی محلاتی سازشوں کی بہت سی متنازعہ فیہ داستانوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ان پر بات اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ اپنی اوقات سے بڑی بزرگ ہستیوں کے احترام میں خاموش رہنا لازم ہے۔افسوس آج کی تاریخ نے یہ دن دکھائے کہ رفتہ رفتہ روبہ زوال ہوتی مبنی بر انصاف اسلامی تعلیمات و اخلاقیات نے کئی برادر اسلامی ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

تاریخ کے جھروکوں سے دیکھیں تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سپہ سالار ہیں ، لشکر میں صدیق اکبررضی اللہ عنہ ، عمر فاروق ، عثمان غنی ، علی ابن طالب ، خالد بن ولید ، ابو عبیدہ بن جراح ، سعد بن ابی وقاص ، عبدالرحمن بن عوف ، عمرو بن العاص ، جعفر بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعٰین اور سینکڑوں شاہسوار نظر آتے ہیں ۔ ایسے میں کامیابی قدم کیوں نہ چومتی ۔

یوں تو اسلامی فتوحات کا آغاز ساتویں صدی میں حضرت محمد ﷺ کے اظہار نبوت کے بعد سے شروع ہو گیا تھا ۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی دنیا پھیلتی چلی گئی ۔ سرحدیں عرب صحرا سے نکل کر ہندوستان ،چین، وسط ایشیا ،مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے تک پھیل گئیں ۔ مدینہ کی چھوٹی سی ریاست نے سُرعت کے ساتھ پھیل کر مراکش سے ہند اور یمن سے فرانس کی سرحدوں کو چھو لیا۔ مسلمان حکمرانوں کی طویل فہرست میں بنو امیہ ، بنو عباس ،صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، غوری ، خاندان غلاماں ، خلجی ، تغلق ، سید ، لودھی ، سوری ، مغلیہ خاندان ، ٹیپو سلطان اورپھرسلطنت عثمانیہ کا اقتدار صدیوں تک رہا ۔ یونانیوں، ایرانیوں ،رومیوں کی کامیابی کے مقابلے میں مسلمان حکمرانوں کے پاس کتاب مبین قرآن مجید اوراسوۂ حسنہ کی حکمت کار فرما رہی جو اسوقت تک کارآمد رہی جب تک ان پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جاتا رہا ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ گئے وقتوں کے مسلمانوں نے مادی ترقی تو کی لیکن اپنی رعایا کو روحانی طور پرمتاثر نہ کر سکے ۔ مسلمان فاتحین نے زمینیں فتح کیں ، رعایا کے دل نہ جیت سکے کیونکہ ہر دور کی مسلمان حکومت میں ملّا تو پیدا ہوتے رہے ، صوفی ناپید ہو گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ کرۂ ارض پر پھیلی حکمرانی ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔رہے نام اللہ کا ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند