تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا توانائی کی عالمی مارکیٹ کے استحکام پر توجہ مرکوز کرے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م KSA 14:39 - GMT 11:39
امریکا توانائی کی عالمی مارکیٹ کے استحکام پر توجہ مرکوز کرے!

امریکا کا توانائی میں خود انحصاری کے حصول کا ہدف پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد عشروں تک امریکا کی تیل اور گیس کی پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی تھی لیکن اب شیل انقلاب نے پیداوار میں دھماکا خیز اضافہ کردیا ہے اور تازہ اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں پیداوار کی سطح طلب سے بڑھ گئی ہے۔

واشنگٹن اس حیران کن پیش رفت کا بجا طور پر کریڈٹ لے رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر یہ دلیل دی ہے کہ اس نئی خودانحصاری سے مشرقِ اوسط سے تزویراتی انخلاء کا جواز عطا ہوا ہے۔جیسا کہ انھوں نے شام ، افغانستان اور عراق سے فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔

تاہم ستمبر میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں نے یہ باور کرادیا تھا کہ امریکا اور عالمی معیشت کو تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرات سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔

عالمی عدم استحکام ابھی تک مارکیٹ پر اثر انداز ہورہا ہے،یہ نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں پر اثر انداز ہورہا ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں توانائی کی تجارت بھی متاثر ہوتی ہے۔براک اوباما اور اب ڈونلڈ ٹرمپ سمیت امریکی صدور توانائی میں آزادی اور خود مختاری پر زور دیتے رہے ہیں مگر ابھی تک ترقی کے تزویراتی اثرات کے بارے میں وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکے۔

واشنگٹن کی توانائی میں آزادی کے حصول کے لیے دلیل یہ ہے کہ امریکا کا تیل کی سپلائی پر انحصار کم کیا جائے۔مقامی پیداوار میں اضافہ ، بالخصوص تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت سے امریکا کی درآمدی ضروریات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ خالص برآمدات بھی ایک حقیقت ہیں۔

اس وقت امریکا کی شیل اور روایتی پیداوار میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہواہے۔اس سے تیل کی عالمی مارکیٹ اور اوپیک پر دباؤ پڑا ہے اور اس سے اس ملک کی تیل اور گیس کی بعض درآمدات بھی ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔

امریکا کی توانائی اطلاعاتی ایجنسی (ای آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق 2018ء میں امریکا کی خام تیل کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ 77 لاکھ (17۰7) بیرل تھی جبکہ اس کی ملکی کھپت دو کروڑ پانچ لاکھ بیرل یومیہ تھی۔تاہم یہ توازن مختصر مدت کے لیے برقرار رہ سکتا ہے۔

عالمی سطح پر تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری ،اوپیک کے پیداواری سمجھوتوں ،امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں اور مقامی اقتصادی عوامل،یہ تمام عناصر اس توازن کو ڈرامائی طور پر تبدیل کرسکتے ہیں۔مجموعی طور پر خالص برآمدات کے اعداد وشمار اس حقیقت کو چُھپا رہے ہیں کہ امریکا کی خالص برآمد کنندہ ملک کی پوزیشن کے پیچھے کارفرما محرک یہ ہے کہ وہ مقامی کھپت کے لیے بہت زیادہ ہلکا تیل پیدا کرتا ہے۔اس کو دوسرے معیار کے تیل یا پیداوار کی اب بھی ضرورت ہے۔امریکا کی خلیج میکسیکو اور جنوبی ریاستوں میں تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے تجارتی طور پر یہ زیادہ منفعت بخش ہے کہ وہ اپنی پیٹرولیم کی مصنوعات کو امریکا کی دوسری مارکیٹوں میں حمل ونقل (ٹرانسپورٹ) کے بجائے دوسرے ملکوں کو برآمد کردیں۔

امریکا کا تیل کا شعبہ سرمائے کے لحاظ سے سخت دباؤ میں ہے،اس کو نرخوں میں کمی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا ہے اور یہ شعبہ بھاری مقروض بھی ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ امریکی کمپنیوں نے تیل کی بھاری مقدار کی کینیڈا یا مشرقِ اوسط سے خرید جاری رکھی ہوئی ہے تاکہ خاص ضرورت کے وقت مانگ کو پورا کیا جاسکے۔اس صورت حال میں امریکی صارفین کو ہمیشہ عالمی مارکیٹ سے مربوط رہنا پڑے گا۔ مزید برآں توانائی میں خود انحصاری یا آزادی محض داخلی پیداوار میں اضافے سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ذخیرہ اندوز شاید یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اس مقصد کو تیل کی مانگ میں کمی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

بعض مبصرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ امریکا اب مشرقِ اوسط سے اپنے قدم باہر نکال سکتا ہے کیونکہ اس کو فی الوقت اس خطے کے تیل اور گیس کی ضرورت نہیں رہی ہے مگر ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکا کو اب بھی توانائی کے عالمی سپلائی نظام پر بہت زیادہ انحصار کی ضرورت ہے۔ اگرامریکا اپنی تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافہ جاری بھی رکھتا ہے تو اس کو اوپیک کی تیل کی پیداوار اور قیمتوں کی سطح پر نظر رکھنا ہوگی۔

تیل کی کم قیمتوں سے امریکی شیل کو خطرہ لاحق ہے جبکہ مارکیٹ میں تیل کی کمی کو ہمیشہ امریکی خام تیل سے پورا نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے معیار میں فرق ہے۔امریکا شاید دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن سعودی عرب تیل کی قیمتوں کے تعیّن میں کارفرما پتے اپنے پاس ہی رکھے گا۔وہ تیل کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ کی صلاحیت کا بھی حامل ہے اور وہ بیس لاکھ بیرل یومیہ فالتو تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عدم استحکام، تنازعات اور خلیج عرب میں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں توانائی کی عالمی رسد کو روکنے یا متاثر کرنے سے امریکا کے تزویراتی مفادات بھی متاثر ہوں گے۔سعودی عرب ایسے اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے بغیر تیل کی عالمی مارکیٹ خطرات سے ہی دوچار رہے گی۔واشنگٹن اور اوپیک کے تیل کے درمیان تعلق کے خاتمے سے ان کے عالمی اقتصادی استحکام میں مشترکہ مفادات کو توڑا نہیں جاسکے گا۔

امریکا کی پیداوار میں اضافے سے اوپیک کی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں تو ’’اوپیک پلس‘‘کا ظہور ہوا ہے اور اوپیک نے تنظیم سے باہر ممالک سے رابطے کے ذریعے تیل کی عالمی سپلائی کو محدود کیا ہے۔

عالمی مارکیٹ بالخصوص تیل اور گیس پر مکمل انحصار ایک ایسا ہدف نہیں ہے کہ جس پر توجہ مرکوز کی جائے۔واشنگٹن کا اصل ہدف تو یہ ہونا چاہیے کہ اس کو زیادہ صدموں کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ مارکیٹوں کو مضبوط بین الاقوامی سفارتی ، تجارتی اور فوجی اتحادوں کے ذریعے مستحکم رکھا جائے۔خودانحصاری اور آزادی پر اصرار سے صرف واشنگٹن کی تنہائی ہی میں اضافہ ہوگا جبکہ عالمی سطح پر اس سے عدم استحکام اور خطرات میں اضافہ ہوگا۔
____________________________

سیرل وِڈر شوون نیدرلینڈز میں قائم ایک مشاورتی فرم وراسی بی وی کے ڈائریکٹر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند