تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی کانگریس میں قطرکی رشوت اسکیم،ایف بی آئی کب تحقیقات کرے گی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 29 ربیع الاول 1441هـ - 27 نومبر 2019م KSA 23:35 - GMT 20:35
امریکی کانگریس میں قطرکی رشوت اسکیم،ایف بی آئی کب تحقیقات کرے گی؟

امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں دھماکا خیز بیان حلفی میں ایوان نمایندگان کی رکن الہان عمر پر قطر سے رشوت لینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اس کے بدلے میں انھوں نے حساس انٹیلی جنس معلومات قطر کے حوالے کی تھیں اور امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو اس تمام معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

اگر یہ الزامات درست ہیں تو پھر یہ امریکا اور ہر اس شخص کے لیے ایک انتباہی گھنٹی ہونے چاہییں جس کو دنیا پرامریکا کی پالیسی کے اثرات کی فکر ہے۔الاخوان المسلمون کے سرپرستوں کو اقتدار تک رسائی دینے کا معاملہ ایسا غیر اہم نہیں ہے کہ اس پر محض ہنسا جاسکے بلکہ اس کی قانون کے تحت مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔

کینیڈا کی معروف کاروباری شخصیت ایلن بِندر نے گذشتہ ماہ اپنے بیان حلفی میں کہا تھا کہ قطر کے ماسٹر جاسوس محمد المسند نے امریکا بھر میں سیاست دانوں اور صحافیوں کو رشوت کی چاٹ لگائی تھی اورانھیں غلط معلومات اور پروپیگنڈے کی ایک بڑی مہم پر لگایا تھا۔بیانِ حلفی میں ایوان نمایندگان کی رکن الہان عمر کو ’’تاج کا ہیرا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔انھوں نے امریکا کے دوسرے سیاست دانوں کو بھی قطر کی اس اسکیم کے لیے بھرتی کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا۔

ایک خاص سطح پر ’’گندی سیاست‘‘ کسی بھی حکومت بشمول جمہوریتوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے اور امریکی جمہوریت تو خاص طور پر اس کا ہدف بن سکتی ہے کیونکہ امریکا کا آئین تو شہریوں کے اپنے حکام کے خلاف درخواست دائر کرنے یا تبدیلی کے لیے مہم کے حق کا تحفظ کرتا ہے۔اگر شہری یہ فیصلہ کریں کہ وہ کسی پیشہ ور شخص کی خدمات حاصل کرکے مؤثر انداز میں تبدیلی کی وکالت کرسکتے ہیں اور وہ شخصیت ان کی جانب سے عہدے داروں سے ملاقات کرسکتی ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ اس لیے ہم لابیئسٹوں کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔وہ سیاست دانوں تک رسائی حاصل کرکے اور اپنی صلاحیت کے بل پر ان کے ذہن تبدیل کرکے رقم کماتے ہیں۔

اس صورت حال میں یہ بالکل فطری سی بات ہے کہ غیرملکی حکومتیں لابیئسٹوں کی خدمات حاصل کریں یا دوسری صورت میں منتخب عہدے داروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔امریکی پالیسی کے اچھے یا بُرے، دنیا بھر میں بے پایاں اثرات ہوتے ہیں۔اگر کوئی حکومت میز پر اپنی جگہ بنانے کے لیے تگ ودو نہیں کرتی ہے تو اس کا بہت کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

چناں چہ قطر جب 2017ء میں اپنے خلیجی عرب ہمسایوں سے کٹ کررہ گیا تھا اور ایک وقت میں جب حکمراں نظام کی بقا کے لیے ہی خطرات پیدا ہوگئے تھے تو اس پس منظرمیں کوئی بھی انھیں یہ الزام نہیں دے سکتا کہ انھوں نے امریکا کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کیوں سخت تگ ودو کی تھی۔

لیکن ہمیں مجرموں کو خود کو جرائم میں ماخوذ کرنے پر الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ترغیب اور تحریص (رشوت) کی دنیا میں فرق ہے۔اس لیے رشوت کی پیش کش کرنا اتنا ہی غیر قانونی ہے جتنا کہ رشوت کی وصولی ہے۔اگر قطری ایجنٹوں (خواہ یہ کوئی بھی ہوں) نے ترغیب سے قدم آگے بڑھا کر رشوت کی حدود میں رکھ دیا تھا تو ہمیں ان کی اسکیموں کو بے نقاب کرنے اور انھیں سزا دینے کی ضرورت ہے۔

پھر ہم یقینی طور پر ان سیاست دانوں اور صحافیوں کو بھی الزام دے سکتے ہیں جنھوں نے معمول سے ہٹ کر کسی کو نوازنے کا کاروبار کیا ہے اور رقم کے بدلے میں اپنی قانونی اتھارٹی کو فروخت کیا ہے۔جب منتخب عہدے دار کسی غیرملکی قوت سے رشوت قبول کرتے ہیں تو ان کے دل میں اپنے ملک کے مفادات نہیں ہوتے ہیں۔وہ دولت کے لیےاپنی ہوس سے امریکی پالیسی کو تبدیل کر رہے ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ زندگیوں کو بھی تباہ کردیتے ہیں۔یہ بات اس وقت زیادہ درست معلوم ہوتی ہے جب قطر سے رشوت لی جاتی ہے کیونکہ اس ملک کی الاخوان المسلمون ، القاعدہ اور دوسرے متشدد گروپوں کی حمایت کی ایک طویل تاریخ ہے۔

اگرکویتی نژاد ایلن بِندر کے الزامات درست ہیں تو الہان عمر کا جرم اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ذاتی طمع کے لیے اپنے ووٹ کی تبدیلی یا خفیہ معلومات کو دوسرے ملک کے حوالے کرنا اور اپنے حلقہ نیابت کی توہین کرنا، یہ سب کچھ کرپشن ہی کی نشان دہی کرے گا۔دوسرے قانون سازوں کو فعال انداز میں اس طرح بھرتی کرناکہ وہ اپنے ووٹروں اور ملک سے دھوکا دہی کے مرتکب ہوں تو اس سے آپ محض کسی جرم میں شریک ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ ایک سازشی کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ایف بی آئی کو اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔اگر کوئی اور وجہ نہیں تو صرف اس بنا پر تحقیقات کرنی چاہیے کہ الہان عمر اگر بے گناہ ہیں تو ان کے سر سے شک کے بادل چھٹ جائیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ مغرب میں قطر کے اثرورسوخ کی بڑی کارروائی زیادہ واضح انداز میں سامنے آرہی ہے اور سمجھی جارہی ہے لیکن ہم قطر کے عوامی سطح پر کیے گئے قانونی اقدامات کے بارے ہی میں زیادہ تر جانتے ہیں۔ اگر بندر کے بیانِ حلفی کے چھوٹے چھوٹے عناصر بھی درست ہیں تو پھر زیرِ زمین مجرمانہ کرپشن کی ایک پوری دنیا ہے جس کو ابھی طشت ازبام کرنے کی ضرورت ہے۔

قطر کے شاہی خاندان کے فرد شیخ خالد آل ثانی کے خلاف اپنے امریکی ملازمین سے ناروا سلوک اور انھیں قتل کا حکم دینے پر مقدمہ اس سمت ایک اہم پہلا قدم ہے۔ بِندر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شیخ خالد اور ان کی امریکی کمپنی کے ایچ ہولڈنگز قطر کے رشوت ستانی کے نیٹ ورک میں اہم کردار تھی۔خالد اس وقت قطر ہی میں مقیم ہیں اور انھیں امریکا کے قانونی دائرہ اختیار سے دور رکھا جارہا ہے لیکن ان کی کمپنی امریکا میں کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے اور تحقیقات کاروں کے لیے وہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔

کے ایچ ہولڈنگز کے رقوم کی ترسیل ، جائیداد کے تحائف، اسپانسرڈ سفر یا تعطیلات گزارنے کی پیش کش سے متعلق کوئی بھی ریکارڈ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس سے بندر کے الزام کے مطابق کرپشن کے جال کو بے نقاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عوامی شخصیات نے ہماری (امریکی) پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیےغیرملکی رقم وصول کی تھی تو پھر انھیں کسی دفتر نہیں، بلکہ جیل جانا چاہیے۔

ایک ملک کی حیثیت سے ہمارا منتخب حکام پر انحصار اور بھروسا ہوتا ہے کہ وہ امریکی مفادات کو سب سے مقدم رکھیں۔اگر حکومت کی بالائی سطح پر کرپشن کا خطرہ ہے تو ہمارے قانون نافذ کرنے والے حکام کو اس کا سراغ لگانا چاہیے اور امریکی سیاست کی سالمیت کا تحفظ کرنا چاہیے۔ورنہ دوسری صورت میں پھر پوری دنیا ہی اس غیرملکی طاقت کے رحم وکرم پر ہوگی جس کے پاس نقدی کا سب سے بڑا بریف کیس ہوگا اور جس کے پاس بدعنوان سیاست دانوں کے پتے کی سب سے بڑی کتاب ہوگی۔اگر ایسی ہی تشویش کی بنا پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے تو پھر کانگریس کے ارکان کے خلاف بھی تحقیقات کی جانا چاہیے اور اس کا آغاز الہان عمر ہی سے ہونا چاہیے۔
____________________________________
ڈاکٹر اورین لٹوین اسلامسٹ واچ کے فیلو ہیں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ فورم کا ایک منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے وہ ’سیاست میں اسلامیت‘ کے نام سے منصوبے کی سربراہی کرچکے ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ اس نام سے ہے:
@OrenLitwin

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند