.

سعودی خواتین کو قانون کی پریکٹس کے لیے لائسنس کے اجراء کا فیصلہ

خواتین وکلاء کو مردوں کے لیے مقررکردہ معیار پر پورا اترنا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی وزارت انصاف نے خواتین وکلاء کو قانون کی پریکٹس کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد انھیں اس مقصد کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

سعودی روزنامے الریاض میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزارت انصاف نے ماہرین، متعلقہ قانونی اور مذہبی اداروں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد خواتین کو قانون کی پریکٹس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ پہلے خواتین کو صرف نجی نوعیت کے مقدمات کی پیروی تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ بعض ماہرین کا کہنا تھا کہ خواتین ہر طرح کے کیسوں کی پیروی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

خواتین کو بھی وکالت کے لیے مردوں کے مساوی مقرر کردہ معیار پر پورا اترنا ہو گا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ انھیں کسی جامعہ کے شعبہ قانون یا لا کالج سے گریجوایٹ ہوں۔پریکٹس کے لیے تجربہ بھی درکار ہوگا۔

لا کالجوں سے گریجوایشن کرنے والی خواتین کو بنکوں یا کمپنیوں میں بطور قانونی مشیر کام کرنے کی اجازت ہوگی لیکن وہ سرکاری طور پر عدالتوں میں اپنے موکلوں کی پیروی نہیں کرسکیں گی۔تاہم وہ عدالتوں میں موکلوں کی نمائندگی تو کرسکیں گی لیکن انھیں وکیل نہیں سمجھا جائے گا۔لا لائسنس نہ رکھنے کی صورت میں خواتین اپنے نام پر لا فرمیں نہیں کھول سکیں گی۔

واضح رہے کہ ''نمائندگی'' کے ایشو پر بہت سے مسائل پیدا ہو رہے تھے کیونکہ قانون کی پریکیٹس کرنے والی خواتین لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے قانونی نظام کا حصہ نہیں تھیں۔ بعض عدالتوں نے وزارت انصاف کے ہاں نمائندوں سے ہونے والی پیشہ وارانہ غلطیوں کے بارے میں شکایات کا اندراج کرایا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزارت انصاف نے خواتین کو سرکاری طور پر قانون کی پریکٹس شروع کرنے کی اجازت دینے کے لیے ضروری کارروائی کررہی ہے۔وزارت نے اس سے قبل یہ کہا تھا کہ کسی خاتون وکیل کو عدالت میں اپنا چہرہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

وزارت انصاف اس وقت خواتین سے قانون کی پریکٹس کے لیے درکار لائسنس جاری کرنے کی غرض سے درخواستیں وصول کررہی ہے۔ان کا بعد میں ایک کمیٹی جائزہ لے گی۔سعودی عرب کی وزارت شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق پریکٹس کرنے والے وکلاء کی تعداد دوہزار ایک سو پندرہ ہے۔اب ان میں خواتین وکلاء کی شمولیت کے بعد ان کی تعداد اور بھی بڑھ جائے گی۔