.

مسلمان غیر مذاہب کی عبادت گاہوں میں جا سکتے ہیں سعودی عالم دین

طلبہ تبلیغِ اسلام کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے شاہی ایوان کے مشیر اور سنئیر علماء کے بورڈ کے رکن ڈاکٹر عبداللہ بن سلیمان آل مناعی نے ملائشیا میں سعودی طلبہ سے خطاب میں کہا ہے کہ انھیں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانے کی اجازت ہے اور وہ اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کریں۔

ڈاکٹر عبداللہ نے خادم الحرمین الشریفین غیر ملکی سکالرشپ کے تحت وظیفہ پانے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مسلمانوں کے غیر مسلموں کی عبادت کی جگہوں اور ان کی رسوم دیکھنے کے لیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی اپنے دین سے وابستگی میں اضافہ ہو گا اور ان پر دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی جہالت بھی واضح ہو گی۔

وہ کوالالمپور میں سعودی طلبہ کلب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ملائشیا میں سعودی سفیر فہد بن عبداللہ آل رشید اور سعودی کلچرل اتاشی ڈاکٹر عبدالرحمان بن محمد فصیل بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر عبداللہ نے سعودی نوجوانوں سے کہا کہ وہ اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کے ذرائع فیس بُک، ٹویٹر، ای میلز وغیرہ کا بھرپور استعمال کریں کیونکہ ہمیں لوگوں تک رسائی کے لیے جدید اور مناسب ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اسلام پر خوفناک حملوں کے تناظر میں رواداری کا پیغام پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا اور طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ تشدد کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے سے گریز کریں اور امن کے پیغامبر بنیں۔