.

محجب خواتین کو ملازمت سے انکار خلاف قانون ہےجرمن عدالت

ڈینٹسٹ کو خاتون کو 15سو یورو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی کی ایک عدالت نے قراردیا ہے کہ حجاب اوڑھنے پر مسلم خواتین کو ملازمت دینے سے انکار غلط اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

برلن کی ایک صنعتی عدالت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ حجاب اوڑھنے والی ایک مسلم خاتون کی دائرکردہ درخواست پر سنایا ہے۔اس نے ایک ڈینٹِسٹ کے ہاں محض حجاب اوڑھنے کی بنا پر ملازمت نہ ملنے پر اس کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔اس ڈینٹِسٹ نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا تھا کہ اس نے مسلم خاتون کو حجاب نہ اتارنے پر بھرتی کرنے سے انکار کردیا تھا''۔

ترجمان کے مطابق ''اس ڈینٹِسٹ نے قانون کو توڑا ہے کیونکہ اس نے محض اس بنا پر درخواست گزار کو ملازمت دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ اپنا سرپوش نہیں اتارنا چاہتی تھی''۔

ترجمان نے فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ''ڈینٹِسٹ کا اقدام امتیازات کے خاتمے کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے اور عدالت نے اس کو نوجوان مسلم خاتون کو ہرجانے کے طور پر پندرہ سو یورو ادا کرنے کا حکم دیا ہے''۔

اس خاتون نے اس جرمن ڈینٹِسٹ کے ہاں اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت کے لیے درخواست دی تھی۔جرمن روزنامے ٹیگ سپیگل کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اس کیس کا فیصلہ مارچ میں سنایا تھا لیکن اس کو جمعرات کو پہلی مرتبہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا تھا کہ حجاب اختیاری نہیں،بلکہ مذہبی عقیدے کا ایک اظہاریہ ہے۔اگر بعض مسلم خواتین نے اس کو نہ اوڑھنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا''۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ڈینٹِسٹ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ مسلم خاتون اس اسامی کے لیے مقرر کردہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتی تھی لیکن اسے مذہبی غیرجانبداری کا مظاہرہ کرنے سے انکار پر بھرتی نہیں کیا گیا تھا۔

جرمنی کے امتیازات کے خاتمے کے لیے قائم وفاقی دفتر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔اس دفتر کی نگران کرسٹین لیوڈرز نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ''فیصلہ بالکل واضح ہے کہ خواتین کو ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ملازمت تک رسائی سے نہیں روکا جاسکتا''۔

واضح رہے کہ دوسرے یورپی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی اسلامی حجاب پر پابندی لگانے یا نہ لگانے کے حوالے سے گرما گرم بحث ہوتی رہی ہے۔جرمنی میں اس وقت چالیس لاکھ سے زیادہ مسلمان رہ رہے ہیں۔ان میں زیادہ تعداد ترکوں کی ہے اور جرمنی میں اس وقت ترکی سے باہر ترکوں کی بڑی کمیونٹی آباد ہے۔

جرمنی کی اعلیٰ آئینی عدالت نے کچھ عرصہ قبل قرار دیا تھا کہ ملک کی سولہ ریاستوں کو سرکاری اسکولوں میں ملازمت کرنے والی مسلم خواتین کو حجاب اوڑھنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار ہے۔ان میں سے نصف ریاستوں نے مسلم معلمات کے اسکولوں میں سرپوش اوڑھنے پر پابندی عاید کررکھی ہے جبکہ بعض ریاستوں میں انھیں سرپوش اوڑھنے کی آزادی حاصل ہے۔