.

منیٰ میں شیطان کو ماری گئی کنکریاں کیسے غائب ہوتی ہیں؟

الجمرات پل کے تہ خانے کی کہانی، العربیہ کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
وادی منیٰ میں سعودی حکومت کے تعمیر کردہ الجمرات پل کا پندرہ میٹر زیر زمین تہ خانہ ہے جہاں خودکار مشینوں کے ذریعے تینوں شیطانوں کو ماری گئی کنکریاں خود بخود الگ الگ ہو کر جمع ہوتی رہتی ہیں اور پھر انھیں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کو الجمرات پُل کے تہ خانے میں جانے اور وہاں اس نظام کو ملاحظہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ نظام برقی دروازوں کی طرح کام کرتا ہے۔ اور یہ الجمرات کے تہ خانے میں جمع ہونے والی کنکریاں کو بڑی تیزی سے ہٹا دیتا ہے۔

الجمرات کے تہ خانے میں ''دو مشینی نظام'' کام کرتا ہے اور وہ دونوں کنکریوں کو زمینی سطح سے مختلف رفتار سے منتقل کرتے ہیں۔ اس نظام کے دروازوں، ان کی طرف آنے والی کنکریوں کی مقدار اور انھیں جمع کرنے کے نظام کو برقی رو سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس میں کنکریوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے سنسر بھی لگے ہوئے ہیں۔

حج کے دنوں کے بعد جب کنکریوں کی مقدار ایک ہزار ٹن تک پہنچ جاتی ہے تو حجاج کے مشعل سے روانہ ہونے کے بعد ان کنکریوں کو مخصوص مقامات کی جانب بھیج دیا جاتا ہے۔

گذشتہ برسوں کے تجربات کے مطابق الجمرات پل پر استعمال شدہ کنکریوں کی مقدار تین سو ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ الجمرات پل کی ہر منزل پر برقی گیٹ لگے ہوئے ہیں اور یہ الیکٹرانک نظام انھی برقی دروازوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔ یہ گیٹ کنکریوں کو پل کے نیچے لگے کمپریسروں کی جانب بھیج دیتے ہیں۔

الجمرات پُل کے تہ خانے میں نگرانی کے لیے کیمرے نصب ہیں اور وہاں تحفظ کے لیے دوسرے عمومی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران بھگدڑ سے بچنے کے لیے اربوں ڈالرز کی لاگت سے الجمرات پل تعمیر کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2006ء میں منیٰ میں بھگدڑ کے نتیجے میں تین سو چونسٹھ حجاج جاں بحق ہو گئے تھے، اس سے دو سال پہلے 2004ء میں دو سو اکاون حجاج شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران جاں بحق ہوئے تھے جس کے بعد پرانے پُل کو مسمار کر دیا گیا تھا اور اس کی جگہ تینوں جمرات کے اردگرد کثیر منزلہ پُل تعمیر کر دیا گیا تھا۔