.

فوت سمجھے جانے والے دو سالہ شامی بچے کا والدین سے ملاپ

شام میں جاری خانہ جنگی میں جنم لینے والی معجزانہ کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں اسی موسم گرما میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران ایک معجزانہ کہانی نے جنم لیا ہے اور جانیں بچا کر بھاگ جانے والے والدین کو ان کا حادثاتی طور پر پیچھے رہ جانے والا دو سالہ بچہ زندہ وسلامت مل گیا ہے اور اس بچے کا قبرص میں ان سے ملاپ کرا دیا گیا ہے۔

قبرص میں ایک خاتون وکیل نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو معجزانہ طور پر بچ جانے والے اس بچے کی کہانی کے بارے میں بتایا ہے۔ بشر الطواشی نامی یہ بچہ اپنے والدین کے چلے جانے کے بعد دمشق کے نواح میں واقع علاقے القابون میں کتنی دیر تک اپنے مکان کے ملبے کے ڈھیر میں پڑا رہا تھا، اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

اس کے والدین نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ بمباری میں مارا گیا ہو گا اور یہ سوچ کر انھوں نے صبر وشکر کر لیا تھا لیکن اب اس کے معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے اور خاندان سے ملاپ کے بعد ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہی۔

وکیل کونسٹنٹنیو نے بتایا کہ لڑائی میں عجلت میں جانیں بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے بشر کے والد مشہور الطواشی اور اس کی ماں ایرین الدقار یہ سمجھے تھے کہ بچے کو ان کے خاندان کے دوسرے افراد نے اٹھا لیا ہو گا لیکن جب انھیں پتا چلا کہ بشر تو گھر ہی میں رہ گیا ہے تو وہ باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے تھے۔

دونوں میاں بیوی کے بہ قول شدید گولہ باری میں ان کے بچے کے زندہ بچنے کے بہت کم امکانات تھے اور وہ پندرہ دن تک بشر کا سراغ لگانے کی ناکام کوشش کرتے رہے تھے لیکن جب وہ بالکل ناامید ہو گئے تو اپنے چار اور چھے سال کی عمر کے دوسرے دو بیٹوں کو لے کر چھے اگست کو قبرص چلے گئے اور وہاں وہ ساحلی شہر لیماسول میں سیاسی پناہ کی تلاش میں مقیم ہو گئے۔

کانسٹینٹنیو نے بتایا کہ ان کے ایک موکل کی بہن کو بشر کے زندہ بچنے کا پتا چلنے کے بعد اسے لینے کے لیے نو ستمبر کو دمشق بھیجا گیا تھا۔ وہاں اس خاتون کو بچہ تو مل گیا لیکن تب سے اس خاتون کو دمشق سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بشر کے والدین نے جب اس کے بارے میں یہ ثبوت فراہم کر دیا کہ وہ انھی کی اولاد ہے تو قبرص کی وزارت خارجہ نے اس کو والدین سے ملوانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ پہلے بچے کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پہنچایا گیا اور وہاں قبرص کے سفارت خانے میں اس بچے کو والد مشہور الطواشی کے حوالے کردیا گیا۔وہ وہاں سے اپنے کم سن بیٹے کو لے کر جمعرات کو قبرص واپس پہنچ گئے ہیں۔