.

صدر مرسی کو قرآنی آیت کی غلط تشریح پر کڑی تنقید کا سامنا

تقریر کے دوران زبان کی لغزش یا ارادی تشریح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری صدر محمد مرسی اسی ہفتے ایک تقریر کے دوران شعلہ بیانی میں قرآن مجید کی ایک آیت کی غلط تشریح کرگئے اور انھیں زبان کی اس لغزش پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

صدر محمد مرسی قرآن مجید کی ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے الفاظ آگے پیچھے کرگئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں سورہ فاطر کی ایک آیت نقل کی اور اس کا ترجمہ یہ کر دیا:'' اللہ کے بندوں میں سے جو لوگ ڈرتے ہیں ،وہی علم رکھتے ہیں'' جبکہ اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ تھا:''بے شک الله سے اس کے بندوں میں سے عالم ہی ڈرتے ہیں۔بے شک الله غالب ہے اور بخشنے والا ہے''۔

ان کی اس تقریر پر مصر کی جامعہ الازہر سے وابستہ ایک گروپ ''ازہریون بلا حدود''نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اس گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ''صدر مرسی نے اس آیت کی اپنے مزاج کے مطابق تشریح کی ہے اور انھوں نے اس کو غلط سمجھا ہے''۔

اس سائٹ نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ صلاح الدین ابو عرفہ کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ مرسی کی بیان کردہ آیت کی تشریح درست نہیں تھی۔

ویڈیو میں مصری صدر نے پہلے قرآن مجید کی آیت کی عربی کی تلاوت کی اور پھر اس کے معانی کی وضاحت کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ''یہاں خوف کی اصطلاح سے مراد انتہائی احترام ہے اور اس سے بہ نفسہ خوف مراد نہیں ہے''۔

اس آیت کی علماء نے اپنے اپنے انداز میں تشریح کی ہے اور مذکورہ گروپ کی سائٹ پر سوشل میڈیا کی سائٹس سے صدر مرسی کی تشریح پر تبصرے نقل کیے گئے ہیں۔تاہم بعض لوگوں نے صدر مرسی کا دفاع بھی کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ غلط تشریح کا واقعہ غیر معمولی نہیں تھا۔

ایک تبصرہ نگار نے صدر محمد مرسی کی حمایت کی ہے اور دوسروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ارادی طور پر غلط تشریح کرنے والوں کے پیچھے پڑنے کے بجائے جان بوجھ کر اسلام کی توہین کرنے والوں کی مذمت کریں اور اپنی تنقیدی توپوں کے رُخ ان کی جانب پھیر دیں۔