.

اسرائیل کا 1988ء میں یاسر عرفات کے نائب کو قتل کرنے کا اعتراف

ابو جہاد کی تیونس میں فائرنگ سے شہادت کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ربع صدی کے بعد ایک سر بستہ راز سے پردہ اٹھایا ہے اور پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے 1988ء میں لیجنڈ فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے نائب کو تیونس میں ایک حملے میں قتل کر دیا تھا۔

تب اس کارروائی میں ملوث اسرائیل کے دو اعلیٰ فوجی عہدے دار اس وقت دو سیاسی عہدوں پر فائز ہیں۔ ایک وزیر دفاع ایہود براک اور دوسری شخصیت نائب وزیر اعظم موشے یالون ہیں۔ اس کارروائی کے وقت ایہود براک فوج کے نائب سربراہ تھے اور یالون کمانڈو یونٹ سیرت متاکل کے سربراہ تھے۔ فلسطینی لیڈر کے اندھے قتل کی کارروائی میں ان دونوں سابق فوجی عہدے داروں کے کردار کی وضاحت نہیں کی گئی اور دونوں کے دفاتر نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل پر خلیل الوزیر المعروف ابو جہاد کے قتل کے الزام میں شُبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے لیکن اب پچیس سال کے بعد صہیونی ریاست کے فوجی سنسر نے ان کے قتل سے متعلق معلومات کو عبرانی روزنامے یدیعوت احرونوت میں شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں فلسطینی لیڈر کو گولی مارنے والے اسرائیلی کمانڈو کا انٹرویو بھی شامل ہے۔

اس قاتل اسرائیلی کمانڈو نے بارہ سال قبل اخبار کو یہ انٹرویو دیا تھا اور اس نے ابو جہاد کے قتل کے واقعہ سے متعلق خفیہ معلومات کی اشاعت کی اجازت ملنے پر بارہ سال کے بعد پہلی مرتبہ یہ انٹرویو شائع کیا ہے۔ ناہوم لیف نامی یہ کمانڈو سن دو ہزار میں موٹر سائیکل کے ایک حادثے میں مارا گیا تھا۔ ناہوم لیف نے اپنی موت سے قبل یدیعوت احرونوت کو بتایا تھا کہ ''میں نے ابو جہاد کو بندوق کے برسٹ سے نشانہ بنایا تھا اور میں بہت محتاط تھا کہ ان کی اہلیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ وہ خاوند کی مدد کو آگے آ گئی تھیں''۔

اسرائیل پر اس طرح کی بیسیوں کارروائیوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس نے کم ہی ان کی ذمے داری قبول کی ہے۔ ابو جہاد کو قتل کرنے کی ذمے داری قبول کرنے سے متعلق اس رپورٹ سے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف کی گئی بہت سی خفیہ کارروائیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

مقتول ابو جہاد نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) قائم کی تھی۔ ان پر اسرائیلیوں پر تباہ کن حملوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ انھیں 1978ء میں ایک اسرائیلی بس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی قرار دیا گیا تھا۔اس حملے میں اڑتیس یہودی ہلاک ہو گئے تھے۔ انھوں نے دسمبر 1987ء میں اسرائیل کے خلاف پہلی انتفاضہ تحریک شروع کی تھی اور اس کے بعد آنے والے موسم بہار میں انھیں شہید کر دیا گیا تھا۔

یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق ابو جہاد کو شہید کرنے کے لیے اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد اور ایلیٹ کمانڈو یونٹ سیرت متکال نے تیونس میں مشترکہ کارروائی کی تھی۔ اس وقت یاسر عرفات کی سربراہی میں تنظیم آزادیٔ فلسطین کے دفاتر تیونس میں قائم تھے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق بحر متوسطہ سے ایک اسرائیلی کشتی کے ذریعے چھبیس اسرائیلی کمانڈوز تیونس کے ساحل تک پہنچے تھے۔ ان میں سے لیف ایک اور فوجی کے ساتھ دارالحکومت تیونس میں واقع ابو جہاد کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔اس دوسرے فوجی نے عورتوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ ان دونوں نے میاں بیوی کا روپ دھار رکھا تھا اور وہ تعطیلات گزارنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔

کمانڈو لیف نے بظاہر چاکلیٹس والا ایک بڑا باکس اٹھا رکھا تھا لیکن اس میں سائلنسر لگی ایک بندوق موجود تھی۔لیف کا ابو جہاد کی رہائش گاہ پر پہلے ان کے محافظوں سے آمنا سامنا ہوا تھا اور اس اسرائیلی کمانڈو نے ان میں سے ایک کے سر میں گولی مار کر اسے شہید کر دیا۔ ایک اور ٹیم نے بیش قیمت وِلا میں داخل ہونے سے قبل ایک اور محافظ اور مالی کو قتل کر دیا تھا۔ پہلے ابو جہاد پر ایک اسرائیلی فوجی نے گولی چلائی تھی اور اس کے بعد لیف نے ان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ اسرائیلی فوج کے سنسر نے پورے واقعہ کو ربع صدی اور اس کمانڈو کے انٹرویو کو اس کی موت کے بارہ سال کے بعد کیوں شائع کرنے کی اجازت دی ہے؟ فوجی سنسر اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والے کسی بھی مواد کو اشاعت سے روکنے کا اختیار حاصل ہے لیکن بیرون ملک نہیں۔

شہید ابو جہاد کے بیٹے اور فلسطین کے مرکزی بنک کے موجودہ سربراہ جہاد الوزیر نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ پی ایل او میں بالادستی کی حامل فتح تحریک کے ایک لیڈر عباس زکی نے تیونس اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اعتراف جرم کے بعد اس کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کے لیے اقدامات کریں۔