اسرائیل کا 1988ء میں یاسر عرفات کے نائب کو قتل کرنے کا اعتراف

ابو جہاد کی تیونس میں فائرنگ سے شہادت کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read
Advertisement
کمانڈو لیف نے بظاہر چاکلیٹس والا ایک بڑا باکس اٹھا رکھا تھا لیکن اس میں سائلنسر لگی ایک بندوق موجود تھی۔لیف کا ابو جہاد کی رہائش گاہ پر پہلے ان کے محافظوں سے آمنا سامنا ہوا تھا اور اس اسرائیلی کمانڈو نے ان میں سے ایک کے سر میں گولی مار کر اسے شہید کر دیا۔ ایک اور ٹیم نے بیش قیمت وِلا میں داخل ہونے سے قبل ایک اور محافظ اور مالی کو قتل کر دیا تھا۔ پہلے ابو جہاد پر ایک اسرائیلی فوجی نے گولی چلائی تھی اور اس کے بعد لیف نے ان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ اسرائیلی فوج کے سنسر نے پورے واقعہ کو ربع صدی اور اس کمانڈو کے انٹرویو کو اس کی موت کے بارہ سال کے بعد کیوں شائع کرنے کی اجازت دی ہے؟ فوجی سنسر اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والے کسی بھی مواد کو اشاعت سے روکنے کا اختیار حاصل ہے لیکن بیرون ملک نہیں۔

شہید ابو جہاد کے بیٹے اور فلسطین کے مرکزی بنک کے موجودہ سربراہ جہاد الوزیر نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ پی ایل او میں بالادستی کی حامل فتح تحریک کے ایک لیڈر عباس زکی نے تیونس اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اعتراف جرم کے بعد اس کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کے لیے اقدامات کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں