.

مصر ننگے سر طالبات کے بال کاٹنے پر معلمہ کو معطل قید کی سزا

اسکول سے تبادلہ اور تدریسی سے انتظامی اسامی پر تعیناتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں ایک عدالت نے ایک اسکول کی معلمہ کو ننگے سر آنے والی دو طالبات کے بال کاٹنے کے جرم میں چھے ماہ معطل قید کی سزا سنائی ہے۔

مصر کے جنوبی شہر الاقصر سے تعلق رکھنے والی سائنس کی معلمہ ایمان ابوبکر کیلانی کو عدالت نے منگل کو معطل سزا کا حکم دیا ہے۔ مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کی اطلاع کے مطابق ایمان کیلانی کے وکیل نے عدالت کے فیصلے کو سخت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

معلمہ ایمان کو اسکول کی انتظامیہ نے پہلے ہی متاثرہ طالبات کے عزیز واقارب کی شکایت پر تدریسی ذمے داریوں سے فارغ کر دیا تھا۔ انھیں ایک انتظامی اسامی پر تعینات کر دیا گیا تھا اور ان کی ایک ماہ کی تن خواہ بھی روک لی گئی تھی۔

وہ خود مکمل حجاب اوڑھتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت میں صرف یہ دو طالبات حجاب اوڑھ کر نہیں آتی تھیں، حالانکہ دس سال سے زائد عمر کی ہر لڑکی کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔

ایمان کیلانی نے مصری روزنامے 'الاہرام' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے طالبان کے دو سینٹی میٹر(ایک انچ) سے زیادہ بال نہیں کاٹے تھے۔ صوبہ الاقصر کے گورنر نے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا تھا اور بتایا کہ سزا دینے والی معلمہ کا ایک اور اسکول میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔

مصر کے انسانی حقوق کے گروپوں اور خواتین کی تنظیموں نے طالبات کے بے پردگی کی پاداش میں بال کاٹنے کی واقعہ کی مذمت کی تھی اوراسے سخت گیروں کی جانب سے دوسروں پر اسلام مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا تھا لیکن معلمہ کو ہٹائے جانے پر ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ مصری خواتین کی اکثریت سر پوش اوڑھتی ہے لیکن ملک کے اسلامی علماء کی رائے یہ ہے کہ ہر کسی کو حجاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ مصر کی سب سے منظم اور بڑی دینی سیاسی قوت اخوان المسلمون کا بھی یہی موقف ہے۔