.

پینٹ بال گیم زیر زمین سرنگ کے ذریعے غزہ اسمگل

بنیادی سہولتوں سے محروم فلسطینیوں کی تفریح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کی پٹی کے مکین لاکھوں فلسطینی اسرائیلی فوج کی بحری، بری اور فضائی ناکہ بندی کی وجہ سے کن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اب محصور فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات کے علاوہ تفریح کی سہولتیں بھی حاصل نہیں رہی ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی اور کھلی 'جیل' میں مقید فلسطینی غزہ اور مصر کے درمیان واقع سرحد پر زیر زمین قائم کی گئی سرنگوں کے ذریعے اشیائے ضروریہ کو اسمگل کر کے اپنے علاقے میں لا رہے ہیں لیکن اس طرح آنے والی اشیاء کی رسد قریباً سولہ لاکھ اہل غزہ کی طلب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

حال ہی میں ایکشن گیم پینٹ بال اسمگل کر کے غزہ میں لائی گئی ہے اور اس کو غزہ شہر کے نواح میں واقع سابق یہودی بستی نتزاریم کی جگہ پر قائم کیے گئے پینٹ بال پارک میں فلسطینی نوجوانوں کے کھیلنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس گیم کے ذریعے فلسطینیوں کو ایک ذرا مختلف انداز میں اپنی مہارتیں آزمانے کا موقع ملا ہے۔

اس گیم سے متعلقہ آلات اور حفاظتی کپڑوں کو محصور علاقے میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ان تمام اشیاء کو مصر اور غزہ کے درمیان زیر زمین ایک ہزار گز لمبی سرنگ کے ذریعے لایا گیا ہے۔

پینٹ بال کے ریفری رامی عید نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹزر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس گیم کو ایک بہت مشکل راستے سے لائے ہیں تاکہ ہم بھی پوری دنیا میں کھیلی جانے والی اس گیم کو کھیل سکیں۔ یہ ایک پُرامن کھیل ہے اور یہ واقعی ایک فن ہے۔ اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے''۔

فلسطینی نوجوان اب اس گیم کو کھیلنے کے لیے ٹیمیں بنا رہے ہیں۔ اس گیم میں میدان میں بنائی گئی پوزیشنوں پر چھپ جاتے ہیں اور وہ اپنے مدمقابل کے سامنے آنے پر پینٹ کلر کی گیندوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ فلسطینی نوجوان اس گیم سے محظوظ ہو رہے اور اس کو پسند کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس کو جوش وجذبہ ابھارنے والا کھیل قرار دیا ہے۔

پینٹ بال حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی ہے اور دنیا کے ممالک کی قومی ٹیمیں علاقائی اور عالمی سطح پر کھیلے جانے والے ٹورنامنٹس میں حصہ لے رہی ہیں۔

لیکن غزہ میں لائی گئی اس مقبول گیم کی داخلہ فیس بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ بہت سے فلسطینیوں کی پہنچ سے ہی باہر ہے۔ اس کی داخلہ فیس دس شکلز (ڈھائی ڈالرز) پینٹ بال کے میدان کا کرایہ پچاس شکلز (بارہ ڈالرز آٹھ سینٹ) اور پچاس پینٹ بال کی قیمت تیس شکلز ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سات سال سے جاری اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے فلسطینی گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں اور معاشی طور پر ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سخت گیر پالیسیوں اور یہودی بستیوں کی توسیع کی وجہ سے فلسطینی علاقوں میں غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ فلسطینیوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے اور ہر دو میں سے ایک فلسطینی کو غریب قرار دے دیا گیا ہے۔