.

سعودی عرب کم سن لڑکیوں کی مال دار بوڑھوں سے شادی کی مخالفت

شادی کی کم سے کم عمر مقرر کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے سنئیر علماء پر مشتمل کونسل کے سابق رکن شیخ عبداللہ آل رکبان کا کہنا ہے کہ مملکت کے دیہی علاقوں میں بدّو کمیونٹیوں میں آج بھی کم سن بچیوں کو مال دار افراد کے ہاں شادی کے نام پر فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے خاوند اور بیوی کی عمروں کے درمیان تناسب کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ''شادی کی عمر: مذہبی اور سماجی تناظر'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر کسی لڑکی کی عمر پچیس سے زیادہ ہے تو وہ باشعور سمجھی جاتی ہے اور اسے اپنی پسند کے مرد کے ساتھ شادی کا حق حاصل ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر لڑکی کی عمر بیس سال سے کم ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے والدین اس کو کسی مال دار بوڑھے سے شادی پر مجبور کرسکتے ہیں''۔شیخ رکبان نے کہا کہ ''یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان عمر کا تفاوت مناسب ہو تاکہ وہ صحت مندانہ ازدواجی تعلقات استوار کرسکیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان علماء سے متفق نہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ شادی کی کم سے کم عمر کے تعین کی مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ان کے بہ قول ایک حکمران شادی کی عمر مقرر کرسکتا ہے اور ایک مخصوص عمر کے افراد کو خاص حالات کے سوا شادی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے کلیہ سماجی علوم میں متعین سماجیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبدالرحمان الرومی نے سیمی نار سے خطاب میں بتایا کہ سعودی عرب میں پانچ ہزار چھے سو بائیس لڑکیوں کی چودہ سال سے کم عمر میں شادی ہوئی تھی اور یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر رومی نے کہا کہ ''سعودی عرب نے خواتین کے خلاف ہرقسم کے امتیازات کے خاتمے سے متعلق کنونشن ''سیڈاؤ'' پر دستخط کررکھے ہیں لیکن ساتھ یہ شرط عاید کی تھی کہ اس کا کوئی نکتہ شریعت کے منافی نہیں ہونا چاہیے''۔

ان کا موقف تھا کہ ''اسلام کم عمر لڑکیوں کی شادی کی ممانعت نہیں کرتا لیکن بین الاقوامی تنظیمیں سیڈاؤ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک پر دباؤ ڈالتی رہتی ہیں اور اگر ان ممالک میں کسی نوعمر لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے تو یہ تنظیمیں شور و غوغا شروع کردیتی ہیں''۔

تاہم ڈاکٹر رومی نے کم عمری کی شادیوں کے نقصانات کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمر میں لڑکیوں میں بچے جننے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور اس سے آبادی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

سعودی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الحدیثی نے کہا کہ وزارت انصاف اس وقت شادی کی کم سے کم عمر مقرر کرنے کا جائزہ لے رہی ہے لیکن خود کونسل نے اس معاملے پر غور نہیں کیا۔انھوں نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر مقررکرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن بعد میں یہ تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ڈاکٹر قیس بن محمد آل الشیخ کا کہنا تھا کہ کم عمر میں لڑکی کی شادی بعض اوقات بہتر رہتی ہے اور والدین اس کو لڑکی کے مفاد میں خیال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں ہر دو جنس ۔۔۔۔۔۔۔۔مرد اور عورت۔۔۔۔۔۔کے لیے شادی کی کم سے کم عمر مقرر نہیں ہے جس کی وجہ سے عام طور پر والدین اپنی بچیوں کی بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی شادیاں کر دیتے ہیں اور ملک میں دس سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بچوں کی شادیوں پر پابندی عاید کرنے کے لیے ایک قانون وضع کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کی جائےلیکن بعض بااثر مذہبی حکام اس تحریک کے آڑے آرہے ہیں اور اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

قبل ازیں سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ نے قرار دیا تھا کہ اسلام کی رو سے لڑکیوں کی دس سال کی عمر میں بھی شادیاں کی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ اسلامی قانون کسی بھی طرح خواتین پر جبر نہیں کرتا۔انھوں نے شریعت کے ناقدین پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر ایک لڑکی کی عمر دس یا بارہ سال ہوجاتی ہے تو پھر وہ شادی کی اہل ہے اور جو کوئی بھی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ابھی بچی ہے یا کم سن ہے تو وہ شخص۔۔۔۔۔۔۔ مرد ہویا عورت۔۔۔۔۔ غلط ہے اوراس لڑکی کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے''۔

سعودی عرب کی انسانی حقوق کی قومی ایسوسی ایشن نے مملکت میں کم عمری کی شادیوں کے واقعات پر تنقید کی ہے اور اسے بچوں کے حقوق کی بھی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایسوسی ایشن اس عمل کو روکنے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔