.

عراقی جیل میں سعودی قیدی پر ایرانی پاسداران کا تشدد

عراق میں غیر قانونی داخلے کے جرم میں 8 سال کی اسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کی ایک جیل سے حال ہی میں رہائی پانے والے سعودی شہری کا کہنا ہے کہ دورانِ قید ایرانی پاسداران انقلاب انھیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے تھے۔

عبداللہ العنزی کو آٹھ سال قبل عراق میں غیر قانونی طور پر داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں حال ہی میں رہائی ملی ہے۔اسیری کے دوران انھیں عراق کی مختلف جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا تھا اور وہ بغداد کے نواح میں واقع بدنام زمانہ جیل ابوغریب میں بھی قید رہے تھے۔

عنزی نے اپنی رہائی کے بعد بتایا ہے کہ ''ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان کو جیل کوٹھڑیوں میں جانے اور وہاں انھیں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی آزادی حاصل تھی۔خاص طور پر جنوبی شہر ناصریہ کی جیل میں وہ قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے تھے''۔

انھوں نے بتایا کہ عراق میں پس دیوار زنداں سعودی شہری عدالتوں سے سنائی گئی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے، بعض کو سزائے موت سنائی جاچکی تھی اور بعض کو ٹرائل کے بغیر ہی زیر حراست رکھا گیا تھا۔

عراق میں سعودی قیدیوں کی کمیٹی کے سربراہ تمرالبالحید کے مطابق جیل میں عنزی کی صحت بہت گر گئی تھی اور انھیں تپ دق کا عارضہ لاحق ہونے سے قبل تک کوئی طبی سہولت نہیں دی گئی تھی۔

انھوں نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جب وہ بغداد کی سنٹرل جیل میں قید تھے تو انھیں وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور مرکزی فوجداری عدالت نے انھیں دس سال قید سنائی تھی''۔

بالحید نے مزید بتایا کہ العنزی کو ایرانی پاسداران انقلاب اور شعلہ بیان شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کی المہدی آرمی کے کارکنان نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ان کے علاوہ دوسرے سعودی قیدیوں کے ساتھ بھی جیلوں میں یہی ناروا سلوک کیا جاتا رہا ہے اور عراق میں قانون کی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے فرقہ وارانہ تنازعے کا خمیازہ بھگتنے والے تمام سعودی قیدیوں کی یہی صورت حال ہے۔

بالحید کے بہ قول عراق میں سعودی قیدیوں کی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ ہے اور انھیں مختلف جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔ان سب سے ناروا سلوک کیا جارہا اورانھیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض سعودی قیدی جیل حکام کے تشدد آمیز سلوک کی وجہ سے جان سے ہی گزر گئے ہیں۔انھوں نے ایک قیدی ماذن عبداللہ الحربی کی مثال دی۔وہ 2007ء میں شمالی شہر سلیمانیہ کی ساؤسہ جیل میں انتقال کرگئے تھے اور آج تک ان کا جسد خاکی سعودی حکام کے حوالے نہیں کیا گیا۔

ایک اور سعودی قیدی کو گیارہ ماہ قبل ایک عراقی جیل میں تیزاب کا ٹیکا لگا کر مار دیا گیا تھا لیکن عراقی حکام نے آج تک سعودی حکام کو اس واقعہ کی بھی اطلاع نہیں دی۔مزید برآں وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے پہلے تین سعودی نوجوانوں کو غائب کردیا تھا۔اب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واقع المثنیٰ جیل میں قید ہیں۔

مسٹر بالحید نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک سعودی شہری محمد الجوہری کو بغداد میں عراقی وزارت داخلہ کی عمارت کی ساتویں منزل پر قید رکھا جارہا ہے۔ان کے بہ قول سعودی اور عراقی حکام نے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات چیت شروع کی تھی لیکن نوری المالکی کی حکومت اس ضمن میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اردن میں سعودی سفارت خانے نے عراقی حکام سے کہا تھا کہ وہ تمام سعودی قیدیوں کو سلیمانیہ کی ساؤسہ جیل میں منتقل کردیں تا کہ وہاں ان کے خاندان کے افراد بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے ساتھ رابطے کے ذریعے ان سےملاقاتیں کرسکیں لیکن بیس سعودی قیدیوں کو اس کے بجائے بغداد کے نواح میں واقع التاجی جیل میں منتقل کردیا گیا ہے اور وہاں کسی کوبھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

عراقی حکومت ریڈکراس کو ملک میں ناگفتہ بہ سکیورٹی کی صورت حال کا بہانہ کرکے قیدیوں تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہی ہے اور بعض سعودی نوجوانوں کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے۔بالحید نے عراقی حکومت کے سعودی عرب میں قید عراقیوں سے متعلق موقف پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں ایک سو تیس عراقی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ان میں سے نو کو سزائے موت کا حکم سنایا جاچکاہے۔وہ متعدد بار عراقی حکام اور علماء سے اپیل کرچکے ہیں کہ وہ ان کے کیسوں کو فوری حل کرنے کے لیے مداخلت کریں لیکن عراقی حکام شاید انھیں بھلا بیٹھے ہیں۔