.

کینیڈا خاتون کے بال نہ کاٹنے پر مسلم حجام کے خلاف قانونی چارہ جوئی

ترقی یافتہ مگر ہٹ دھرم دنیا کے دستور نرالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں ایک مسلم حجام کے خلاف محض اس بنا پر ایک خاتون قانونی چارہ جوئی کررہی ہے کہ اس نے اس کے بال کاٹنے سے انکار کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا مذہب اسے کسی اجنبی خاتون کو چھونے کی اجازت نہیں دیتا۔

عمر محروک نامی اس حجام نے خاتون کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کا عملہ مسلمان ہیں اور ان کے مذہب میں کسی اجنبی خاتون کو چھونے یا بال کاٹنے کی اجازت نہیں ہے۔اس کا جواب تو درست تھا لیکن جدید دنیا کے ہٹ دھرم باسیوں کے دستور نرالے ہیں۔ وہ خاتون بیچ میں انسانی حقوق کو لے آئی ہیں۔

فیتھ میک گریگور نامی اس خاتون نے جون میں اونٹاریو کے انسانی حقوق ٹرائبیونل سے رجوع کیا تھا اور وہاں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کی صنف کی بنا پر اس کی ''بزنس ہئیر کٹ'' بنانے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ یہ فعل خواتین کے حقوق کے منافی ہے اور وہ اس کی وجہ سے خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کر رہی ہے۔

اس خاتون نے روزنامہ ٹورنٹو اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے نزدیک تو یہ معاملہ صرف بال کاٹنے کا تھا لیکن خاتون ہونے کے ناتے میرے بال نہیں کاٹے گئے۔ اب ہم اونٹاریو میں مذہب بمقابلہ صنف بمقابلہ انسانی حقوق اور کاروبار پر بحث کر رہے ہیں''۔

لیکن ٹرمینل باربر شاپ کے شریک مالک کریم سعدن نے اس خاتون کا یہ موقف مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''ہم اپنی اقدار کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ہم ایسے لوگ ہیں جن کی کوئی اقدار ہیں اور ہم ان کی پاسداری کررہے ہیں۔ ہمارے مذہب نے جو کچھ کہا ہے، میں اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔یہ کوئی انتہا نہیں ہے بلکہ ایک بنیادی قدر ہے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہو گی''۔

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''اپنے مذہبی عقیدے کی رُو سے میں اپنی والدہ، اپنی بہن، اپنی بیوی اور اپنی بیٹی ہی کے بال کاٹ سکتا ہوں۔ ان کے علاوہ مجھے کسی اور عورت کے بال کاٹنے کی اجازت نہیں ہے''۔

اس پینتیس سالہ انگریز خاتون نے انسانی حقوق ٹرائبیونل کو دی گئی اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ان مسلم حجاموں کو خواتین اور مردوں دونوں کے بلا امتیاز بال کاٹنے کا حکم دے۔ البتہ اس نے مسلم حجاموں پر کسی قسم کے ہرجانے کا دعویٰ نہیں کیا۔

ٹورنٹو اسٹار کے مطابق ٹرمینل باربر شاپ کے مالکوں نے اس سر پھری خاتون کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ اپنے بال کٹوانے کے لیے کسی ایسے باربر کے پاس تشریف لے جائے جو ایسا کرنے پر آمادہ ہو لیکن اس نے یہ پیش کش مسترد کر دی اور اس کا اصرار ہے کہ وہی اس کے بال بنائیں۔ تاہم ابھی تک اونٹاریو کے ٹرائبیونل نے اس معاملے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔