.

سعودی عرب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

گھروں اور اسکولوں میں آگہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی وزارت سماجی بہبود نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مملکت میں پینتالیس فی صد بچوں کو تشدد کی مختلف شکلوں کو سامنا ہے اور انھیں تشدد سے بچانے کے لیے شعور وآگہی کی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کی ایک ماہر نفسیات صنعا الحویلی کا کہنا ہے کہ ''بچوں پر گھروں یا اسکولوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک رجحان کا مظہر ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ صرف ''خاندانی سلامتی کے قومی پروگرام'' نے سال 2011ء کے دوران بچوں پر تشدد کے پانچ سو واقعات کی نشاندہی کی تھی جبکہ اس سے گذشتہ سال 2010ء میں ایسے دو سو بانوے واقعات رونما ہوئے تھے۔

الحویلی کے بہ قول اس مسئلے کو جڑ سے نمٹنے کے لیے سعودی معاشرے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ وہ بچوں سے کس طرح اچھے طریقے سے پیش آ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین کو بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے اپنی نگہداشت اور پرورش کی حکمت عملی میں تبدیلی لانا ہو گی۔ اس ضمن میں ان کے لیے ایک مشورہ یہ ہے کہ جو چیز انھیں بچوں کے حوالے سے متشدد رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے، وہ اس کو ترک کر دیں۔

انھوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ''والدین کے بچوں سے ناروا سلوک کے بہت ہی منفی مضمرات ہو سکتے ہیں اور یہ بچوں کے مستقبل اور ان کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اپنے کردار کو تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے''۔

سعودی روزنامے الریاض میں شائع ہونےوالی ایک رپورٹ کے مطابق ماہر نفسیات صنعا الحویلی نے کہا کہ ''ناروا سلوک سے بچوں کی ذہنی وجسمانی نشو ونما میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے۔ اس سے ان کی ذہانت، توجہ، الفاظ کی ادائی، خودی اور نیند سب کچھ متاثر ہو سکتا ہے اور وہ ڈیپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا شکار ہونے والے بچے جارحانہ مزاج کے حامل بن سکتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ ان کی جانب سے گھروں میں پڑی ہوئی مختلف اشیاء کی توڑ پھوڑ سے کیا جا سکتا ہے اور وہ دوسروں کے لیے بھی درد سر بنتے رہتے ہیں۔

ان کی تجویز تھی کہ ''بچوں پر تشدد کے خلاف آگہی مہم کو صرف والدین تک ہی محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ کار اسکولوں تک بھی پھیلایا جانا چاہیے کیونکہ بچے اسکولوں میں بھی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ وزارت تعلیم کو ان مہموں میں کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو جماعتوں میں زبانی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے''۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تشدد کو صرف بچوں سے ناروا سلوک تک ہی محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بچوں کو نظر انداز کرنے اور ان کی ضروریات کو پس پشت ڈالنے کی روش کو بھی تشدد کی ایک شکل سمجھا جانا چاہیے۔