.

بھولے بھالے سعودیوں سے دنیا میں سب سے زیادہ الیکٹرانک جرائم

انٹرنیٹ کے ذریعے 2ارب 60 کروڑ ریال اینٹھ لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دنیا بھر میں سعودی باشندے ٹیلی مواصلات کے ذرائع کو استعمال کرنے میں سب سے زیادہ بھولے بھالے ثابت ہوئے ہیں اور ان سے سال گذشتہ کے دوران الیکٹرانک جرائم کی شرح بڑھ کر انچاس فی صد ہوگئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے ممالک کے شہریوں سے انٹرنیٹ پر جرائم کی شرح چھیالیس فی صد رہی تھی۔

سعودی روزنامے الوطن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران سعودی شہریوں سے جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ٹھگوں نے دو ارب ساٹھ کروڑ ریال کی رقم اینٹھ لی ہے جبکہ دنیا میں بھر ایک سو دس ارب ڈالرز انٹرنیٹ کے ذریعے لوٹے گئے ہیں۔

اس عرصے میں الیکٹرانک ٹھگ بازی کا نشانہ بننے والے ہرسعودی سے سات سو تیس ریال اوسطاً اور دوسرے ممالک میں ہر متاثرہ شخص سے ایک سو ستانوے ڈالرز اوسطاً لوٹے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی ایک پروفیسر حالہ ییلی کی ایک رپورٹ کے مطابق سماجی روابط کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے چالیس فی صد سعودی الیکٹرانک جرائم کے متاثرہ ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ شرح انتالیس فی صد ہے۔

انھوں نے یہ بات سعودی عرب کی وزارت مواصلات کے زیراہتمام ڈیجٹیل علوم کی ترویج کے پروگرام کے تحت طائف شہر میں ایک لیکچر کے موقع پر کہی تھی۔انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے آٹھ فی صد انٹرنیٹ صارفین کو سرقہ بازی اور شناخت کی چوری کا سامنا ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے متاثرہ افراد کی شرح دس فی صد ہے۔

پروفیسر ییلی کا کہنا تھا کہ باون فی صد سعودی شہری اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ وائرس ان کے کمپیوٹرز کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دنیا کے دوسرے ممالک میں کمپیوٹر وائرسوں کے نقصانات سے لاعلم صارفین کی تعداد چالیس فی صد ہے۔

انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ پینتالیس فی صد سعودی اپنے حروف شناخت (پاس ورڈز) کو استعمال نہیں کرتے یا پھر اس کو تبدیل نہیں کرتے ہیں۔اس کے مقابلے میں دنیا میں حروف شناخت کا استعمال نہ کرنے والے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد چالیس فی صد ہے۔

نورٹون وائرس مخالف سوفٹ وئیر کے ایک مطالعے کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس یا موبائل کے ذریعے الیکٹرانک جرائم کا شکار ہونے والے سعودیوں کی شرح بیس فی صد تک بڑھ گئی ہے۔اس کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے ممالک میں یہ شرح اکیس فی صد ہے۔

اس مطالعے کے مطابق انتیس فی صد سعودیوں کو نامعلوم نمبروں یا اوپن لنکس یا کال کیے گئے نمبروں سے ٹیکسٹ پیغامات موصول ہوتے ہیں۔دنیا کے دوسرے ممالک میں اس طریقے سے جھانسے میں آنے والے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد اکتیس فی صد ہے۔