.

مصر اسلام مخالف فلم آن لائن پوسٹ کرنے پر قبطی کو تین سال قید

فیس بُک پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے کا الزام ثابت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی ایک عدالت نے ایک قبطی عیسائی کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی اسلام مخالف فلم کو آن لائن پوسٹ کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ستائیس سالہ مجرم البر صابر کمپیوٹر سائنس میں گریجوایٹ ہے اور اس کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اس کے مکان سے تیرہ ستمبر کو بدنام زمانہ فلم ''مسلمانوں کی معصومیت'' کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کی گرفتاری اس کے پڑوسیوں کی شکایت پر عمل میں آئی تھی۔ وہ تمام ادیان کی توہین پر مبنی ایک اور فلم بھی بنا رہا تھا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق مجرم صابر قاہرہ کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک ہزار مصری پاؤنڈز کی ضمانتی رقم ادا کرنے کے بعد اپیل دائر کر سکتا ہے۔

آزادی اظہار کے جدید تصورات کے علمبرداروں نے اسلام کی توہین کی تشہیر کے مرتکب اس قبطی عیسائی کو سنائی گئی سزا پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کیس کی بنیاد پر صدر محمد مرسی کے دور اقتدار میں آزادیٔ اظہار سے متعلق مزعومہ تشویش کا بھی اظہار کیا گیا ہے لیکن عدالت سے سزا پانے والا مجرم جو کچھ کرتا رہا ہے، اس کو محض اظہار رائے کی آزادی قرار دے کر انسانی حقوق کی مقامی اور عالمی تنظیموں نے اس سے پہلو تہی کا مظاہرہ کیا ہے۔

حالانکہ پراسیکیوٹرز نے ملزم صابر پر سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر الحاد کی تبلیغ، اسلام اور عیسائیت کی توہین اور مذہبی اعتقادات کے بارے میں سوال اٹھانے جیسے الزامات عاید کیے تھے۔ اس نے اپنے مذموم مقاصد اور گمراہ کن عقائد کی تشہیر کے لیے فیس بُک پر الگ الگ صفحے بنا رکھے تھے۔